Jump to ratings and reviews
Rate this book

سیرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ : بانی ندوة العلماء

Rate this book
Biography of Moulana Sayyid Muhammad Ali Mongeri, founder of movement and institute Nadwatul Ulama in Lucknow (India).

424 pages, Hardcover

First published January 1, 2005

1 person is currently reading
14 people want to read

About the author

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
2 (66%)
4 stars
0 (0%)
3 stars
1 (33%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 of 1 review
52 reviews19 followers
June 22, 2016
Not sure why I didn't get round to writing a review up for this book. There's a lot I want to say in favour of it, however, I will suffice briefly by saying it is a good summary of the history and context behind the Nadwatul Ulama.

Here's a critical review of two themes in the book:

مولانا سید محمد علی مونگیری (رح) كى سوانح كى آڑ ميں تارخ سازى كى ناكام كوشش اور مرحوم مولانا مجيب الله ندوى كى جانب سے تاریخ ساز ذہنیت کی نشاندہی خود انكى زبانى (بحواله معارف نمبر 1، جلد 96، سال 1965م)
==============================================
تحریک ندوۃ العلماء کے ایک اہم رکن اور اسکے پہلے ناظم مولانا سید محمد علی مونگیری کن مفصل سوانح عمری ہے جسے دار العلوم ندوۃ العلماء نے شائع کیا ہے، اس میں مولانا کی ابتدائی زندگی سے لیکر وفات تک کے حالات بڑے شستہ اور شگفتہ انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔ ان کی پاکیزہ زندگی کے واقعات پڑھنے سے آج بھی اللہ کی محبت، اتباع سنت کا جذبہ اور دردمندی اور دلسوزی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ مولانا محمد علی مونگیری، مولانا فضل رحمن گنج مرادآبادی کے اجل خلفاء اور ہم عصر علماء و وصلحاء میں ایک حیثیت کے مالک تھے۔ انکے ذریعہ ہزاروں آدمیوں کو توبہ وانابت کی سعادت نصیب ہوئی، زہد و اتقاء کے ساتھ وہ ایک وسیع النظر داعی، مفکر اور کامیاب مصنف بھی تھے۔ انہوں نے چھوٹی بڑی پچاس کتابیں یادگار چھوڑی ہیں، خاص طور سے عیسائیت اور قادیانیت پر انکی کتابیں بہت مقبول ہوئیں۔ ان ہی خصوصیات کی بنا پر تحریک ندوۃ العلماء کے محرکوں نے جن میں مولانا خود بھی شامل تھے، ان کو اسکا پہلا ناظم مقرر کیا، جس پر وہ عرصہ تک رہے۔ کئی برس بعد بعض داخلی اور خارجہ حالات کی وجہ سے وہ اس سے مستعفی ہوگئے، اسلئے ضرورت تھی کہ مولانا کی ایک مفصل اور پر معلومات سوانح عمری شائع کی جاتی، اس کتاب سے یہ ضرورت پوری ہوگئی۔ کتاب میں کل سات ابواب ہیں جن میں مولانا کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، مگر کئی وجہ سے کتاب کا سب سے زیادہ قابل توجہ اور جاذب نظر تیسرا اور چوتھا باب ہے، خصوصیت کے ساتھ اہل ندوہ کے لئے۔
مولانا کی زندگی اور اسکے مختلف گوشوں کے بارے میں بعض جزئیات کو چھوڑ کر دور رائیں مشکل سے ہوسکتی ہیں۔ مگر ان دونوں ابواب میں جن مسائل کو چھیڑا گیا ہے ان سے نہ صرف کتاب کے بارے میں بلکہ ان سے متعلق جو افراد بھی زیر بحث آگئے ہیں، حتی کہ خود مولانا کی ذات کے بارے میں بھی دو رائے کا ہوجانا یقینی ہے۔ ان ابواب میں جن رازہائے سربستہ سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے اس سے ندوہ کی وسیع النظری اور واقعیت ہی نہیں بلکہ خود مولانا کی سیرت کی افادیت بھی قدرے مجروح ہوجاتی ہے۔ ان ابواب ميں واقعات کو ايک خاص انداز سے ترتيب ديکر تحريک ندوة العلماء اور تاريخ دار العلوم ندوة العلماء کے سلسلے ميں بعض ايسے نئے پہلووں کا سامنے لانے کى کوشش کى کئى ہے جو نہ حيات شبلى کے مصنف کے علم ميں تهے اور نہ ندوہ کے سالانہ جلسوں کى رودادوں ہى ميں ان کا ذکر ملتا ہے. ان ابواب کا مطالعہ کرتے وقت ايسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ مخصوص مزعومات واحساسات کوواقعات کا جامہ پہنانے کى کوشش کى گئ ہے. ظاہر ہے کہ يہ تاريخ نويسى نہيں بلکہ تاريخ سازى ہے، اس بدعت کى ابتدا انگريزوں نے کى تهى جسے سياسى تاريخ نويسوں نے اپنا ليا، اور اب مذہبى حلقے بهى ان ہى نقش قدم پر چل رہے ہيں. تاريخ سازى کى سب سے بڑى خصوصيت مبالغہ آميزى (خواہ مدح ميں يا قدح ميں) اور جذباتيت ہوتى ہے جس کا سب سے بڑا نقصان يہ ہوتا ہے کہ اس سے حقيقت اور واقعيت مسخ ہوجاتى ہے، خوب ناخوب، اور ناخوب خوب بن جاتا ہے، ادهر ندوہ سے جتنا لٹريچر نکل رہا ہے اس ميں اس طرح کے عناصر کى کارفرمائى بہت نظر آتى ہے، اور اسی کا ایک مظہر اس کتاب کے دو ابواب بھی ہیں۔
تحریک ندوۃ العلماء کے کارفرماؤں نے اردو کے افسانوی، صحافتی اور جذباتی لٹریچر میں الندوہ اور دوسرے ذرائع سے جو انقلاب بربا کیا تھا اس سے علم و ادب اور فکر نظر کے تمام گوشے متاثر ہوئے تھے۔ الندوہ کی روش کو چھوڑ نا تحریک ندوہ کی علمی حیثیت اور تاریخیت کی طرف ایک بدگمانی کی فضا پیدا کرنے کے مرادف ہے۔ یوں تو ان ابواب میں بہت سی باتیں قابل بحث ہیں، لیکن خصوصیت سے دو پہلوؤں کی طرف اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔
ان ابواب کے مطالعہ کے دوران میں سب سے پہلی بات جو کھٹکتی ہے وہ یہ کہ تحریک ندوۃ العلماء کو ایک مخصو ص ذہن کی پیداوار قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، حالانکہ یہ تحریک کسی ایک ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ يہ ايک اجتماعى احساس زياں تها جو انفرادى طور پر بہت سے دلوں ميں پيدا ہوا اور اس نے مدرسہ فيض عام کے جلسہ دستار بندى ميں ايک اجتماعى شکل اختيار کرلى ۔ سید صاحب حیات شبلی میں مدرسہ فیض عام کے جلسہ میں شریک علماء کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"مشرق و مغرب کے یہی دونوں مطلع تھے جس سے ندوۃ العلماء کا آفتاب طلوع ہوا" (صفحہ 302)
پھر آگے لکھتے ہیں: "اس منتخب جلسہ میں یہ طے پایا کہ باہمی مشورہ سے علماء کی ایک مجلس قام کی جائے" (صفحہ 301)
پہلی روداد میں مولانا محمد علی کے یہ الفاظ موجود ہیں:
"جب بہت سے نامور علماء مدرسہ فيض عام كانپور کے جلسہ دستار بندى ميں روںق افروز ہوئے اس وقت " بعض دور اندیش علماء نے تحریک کی کہ ایک انجمن علماء کی قائم کی جائے، اس تحريک کو تمام علمائے موجوديں نے پسند فرمايا" (صفحہ 10)
مولانا خود دوسرى جگہ لکهتے ہيں کہ يہ کسى ايک يا دو چار مخصوص ذہن کى پيدا وار نہيں ہے "ندوة العلماء ايسى انجمن نہيں جو کسى ايک شخص کے خيال سے يا دو جار آدميوں کے مشورہ سے بغير سمجهے بوجهے قائم کردى گئى ہو" (صفحہ 38).
"بعض دور انديش سے ظاہر ہے کہ مولانا نے اپنى ذات تو مراد نہيں لى ہوگى، بلکہ صورت يہ ہوئى کہ موجود علماء ميں بعض لوگوں نے يہ خيال ظاہر کيا. چيوںکہ يہ سب کے دل کہ آواز تهى اور بہف سے دلوں ميں پہلے سے اسکے لئے اضطراب موجود تها، اس لئے اس پر اتفاق ہوگيا، اور وہ مجلس قائة ہوگئى. مولانا محمد علي اسکے صف اول کے موئديں ميں سے تهے، اسکے بعد مولانا حيدر آباد چلے گئے، پهر دوسرے سال جلسئہ دستار بندى کے موقع پر تشريف لائے اور اسى کے ساتهـ ندوہ کا اجلاس بهى کيا. مولانا نے روداد ميں يہ لکها بهى ہے کہ بہت دنوں تک واپس آنے کا ارادہ نہيں تها، مگر مدرسہ فيض عام کے جلسہ کى وجہ سے آنا پڑا. اس حصہ کو مصنف کتاب بالکل نظر انداز کرگئے.
اس تفصيل کا مقصد يہ ہے کہ يہ تحريک کسى ايک شخص کے - جيسا کہ خود مولانا محمد على نے تحرير فرمايا ہے - ذہن کى پيدوار نہيں بلکہ بہت سے دردمند اور مضطرب دلوں کى آواز تهى جس نے ايک اجتماعى تحريک کى صورت اختيار کرلى.
مولانا اسکے پہلے ناظم مقرر ہوئے مگر اس سلسہ ميں مولانا کا کوئى ايسا انقلابى اور انفرادى کارنامہ نظر نہيں آتا جس کى وجہ سے ندوہ کا ان کوبانى قرار ديا جائے. اسلئے کہ کسى تحرک يا ادارہ کے بانى کا طرز عمل ايک دعا گو اور دور سے کام کرنے والے کا نہيں ہوتا بلکہ وہ اسکو اوهڑنا بچهوںا بناليتا ہے، وہ اسکى سارى دلچسپيوں کا مرکز ہوتا ہے اور وه اسى کى خاطر سوتا اسى کى خاطر جاگتا ہے. علم وتقوى کے تمام امتيازات کے باوجود يہ چيزيں ہميں مولانا کى عملى زندگى ميں نظر نہيں آتيں، اور نہ کتاب ميں کوئى واقعى دليل فراہم کى گئى ہے، بلکہ مولانا کا بار بار استعفى پر اصرار اس دعوى کے خلاف ہے.
مولانا حبيب الرحمن خان شروانى کے خط کا جو جملہ نقل کيا گيا ہے اسکى ترديد خود مولانا کے مذکورہ بيان ہى سے ہوتى ہے، پهر يہ بات قابل بحث ہے کہ کسى تحرک يا ادارہ کا بانى قرار ديںے کے لئے اسکے انفرادى کارناموں اور بنيادى لٹريچر کے بجائے دوستوں کے ذاتى خطوط سے دليل فراہم کيجائے.
مولانا محمد قاسم نانوتوى (رح) دار العلوم ديوبند کے بانى نہيں ہيں، مگر انہوں جب اسکا انتظام اپنے ہاتہوں ميں ليا تو بس اسى کے ہورہے، اس سلسلہ ميں بہت کچهـ سرد گرم سہنا پڑا مگر اس سے کسى آن جدا نہيں ہوئے. اسلئے انہيں بانى قرار ديا گيا اور بڑى حد تک صحيح بهى ہے. اس ميں شبہہ نہيں کہ بزرگوں سے کسى ادارہ کى نسبت اس کے اعتماد کى بڑى سند ہے، مگر اس کو کسى مخصوص طبقہ کے اعتماد کا ذريعہ بنانے کى کوشش کرنا نفسياتى کمزورى ہے.
دوسرى بات جو ان ابواب ميں پڑهنے والے کو کهٹکتى ہے وہ يہ ہے کہ کتاب ميں قصدا علامہ شبلى کى خدمات کو نظر انداز کرنے اور انکى ذات کو ديںى اعتبار سے مجروح کرنے کى کوشش کى گئى ہے. زہد و اتقاء کے اعتبار سے دوںوں ميں تفاوت ضرو رتها مگر وفور محبت نبوى ميں زچشمم آستيں بردار وگوہر را تماشا کن اور خدا کا شکر ہے يوں خاتمہ بالخير ہونا تها کہنے والا بهى خدا کے يہاں کچهـ کم مرتبہ نہ ہوگا. جہاں مولانا محمد على اور علامہ شبلى کى طبيعتوں ميں موازنہ کيا گيا ہے اور اس سلسلہ ميں انکے خاندانى اثرات کا ذکر کرکے انکى سيمابيت اور انتها پسندى کا جو بهيانک نقشہ پيش کيا گيا ہے، اور اس سے نتيجہ اخذ کيا گيا ہے وہ نہ صرف غلط ہے بلکہ شائستگئ قلم کے بهى منافى ہے. غيرت وحميت کے نتيجہ ميں ان کے دادا کا قبول اسلام اگر ايسا عيب ہے کہ كئى پشت تک اسکا اثر نہيں گيا پهر صحابہ جن ميں حضرت حمزہ رضى اللہ عنہ بهى تهے کے اسلام کے بارے ميں کيا رائے قائم کى جائے؟
ندوہ کا پہلا اجلاس مدرسہ فيض عام كانپور ميں ہوا جس ميں علامہ شبلى نے ايک تماشائى کى حيثيت سے نہيں بلکہ ايک فعال اور سرگرم عنصر کى حيثيت سے حصہ ليا، انہوں نے مدرسہ کے اجلاس کى صدارت کى تحريک کى، پهر ندوہ کے جلسہ کى تحريک صدارت بلکہ روداد کے الفاظ تو يہ ہيں کہ کاروائى کا کاغد پڑه کر سنايا، آخر ميں ندوة العلماء کے لئے دستور کا مسودہ پيش کيا، روداد ميں ہے:
"اسکے بعد شمس العلماء مولوى شبلى صاحب نعمانى نے جناب صدر سے اجازت ليکر دستور العمل پيش کيا اور مولوى فتح محمد صاحب نے تائيد کى".
اس اجلاس ميں نصاب تعليم کى کميٹى بنى، اس ميں ان کا نام موجود ہے، دستور کے مطابق انہى نے مجلس انتظاميہ کى تشکل کى تجويز رکهى. غرض اس اجلاس کے سارے اہم کاموں ميں انہوں نے نہ صرف حصہ ليا بلکہ متعدد کام انہى کى وجہ سے انجام پائے. اس اجلاس کى جو روداد اس کتاب ميں بيان کى گئى ہے وہ "حيات شبلى" اور ندوہ کى روداد سے جو مولانا محمد على موںگيرى (رح) کى مرتب کردہ ہے مختلف ہے. علامہ شبلى کا صرف اتنا ذکر ہے کہ وہ اس جلسہ ميں شريک تهے، اسکى کاروائيوں ميں دلچسبى سے حصہ ليتے رہے (ص 127). دستور کے سلسلہ ميں حيات شبلى اور روداد کے بيان کے خلاف لکها گيا ہے کہ دستور پيش کرنے کا کام مولانا محمد على نے مولوى عبد الحق حقانى کے سپرد کيا تها ليکن وقت مقررہ پر تشريف نہ لا سکے. چنانچہ مولانا شبلى نے صدر جلسہ کى اجاز�� سے پيش کيا (ص 128). معلوم نہيں ان معلومات کا ذريعہ کيا ہے. پهر مولانا حقانى کا نہ آنا اور علامہ شبلى کا بروقت دستور پيش کرديںا بالکل سمجهـ ميں نہيں آتا. اگر مولانا حقانى نے اپنا مسودہ پہلے سے بهيج ديا تها تو اس کا ذکر روداد ميں کيوں موجود نہيں ہے؟
مولانا شبلى کو نظر انداز کرنے اور ان کو مجروح کرنے کا جو منصوبہ نوجواں مصنف نے بنايا تها اسکى تکميل کى يہى صورت تهى کہ ندوہ کے سلسہ ميں ان کى تصوير کا صحيح رخ سامنے نہ آنے پائے.
ندوۃ کی پہلے سال کی روداد اور حیات شبلی کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کی جن مقاصد کی تکمیل اور جن علمی اور معاشرتی تبدیلیوں کے لئے تحریک ندوۃ العلماء ��و وجود عمل میں آیا تھا ان میں سے کسی ایک کی تکمیل بھی مولانا محمد علی کے عہد نظامت اور مولانا عبد الحئی صاحف کی نیابت یعنی 1896ء سے لیکر 1904ء تک نہیں ہوسکی۔ ان حضرات کے دلوں میں یہ خواہش ضرور تھی جیسا کی کتاب سے ظاہر ہوتا ہے مگر ان سب کی تکمیل اور ندوہ کو اسکے علمی و تعلیمی معیار مطلوب سے قریب تر کرنے مین جس نے سب سے زیادہ حصہ لیا وہ علامی شبلی کی ذات ہے۔ بلکہ آٹھ برس تک تو صورت حال یہ تھی کہ ندوہ کا دفتر تک گردش میں رہا، وہ کبھی لکھنؤ میں تھا اور کبھی شاہ جہاں پور میں، اور کبھی کسی اور جگی، اس کے لئے مامن تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، مولا محمد علی کے سوانح نگار کا بیان ہے کہ:
"ندوۃ العلماء کے ماتحت بڑے پیمانے پر ایک دار العلوم کے قیام کی تجویز سے پہلے مولانا کے ذہن میں آئی اور مولانا اسکا ایک واضح خاکہ تیار کرکے 12 محرم 1313ہجری کےجلسئہ انتظامیہ میں پیش کیا اور اسکے بعد یہ خاکہ "مسودہ دار العلوم" کے نام سے شائع کرکے استصواب رائے کے لئے ممتاز علماء ، اکابرین اور اہل علم حضرات کو ارسال کیا گیا" (ص 147)۔
اس بیان کے مقابلہ میں آپ حیات شبلی کے مصنف کا بیان جو اس تاریخ کے براہ راست چشم دید راوی ہیں ملاحظہ کیجئے، اس سے پہلے ندوہ کے دستور کا ذکر آچکا ہے کہ اسے مولانا شبلی نے پیش کیا، اب نصاب تعلیم کی تبدیلی، دار العلوم کی تجویز اور دوسرے امور کے بارے میں سید صاحب کا بیان ملاحظہ ہو:
"اسکے بعد بارہ علماء کی ایک مجلس ترتیب نصاب کے لئے مقرر کی گئی جس میں ایک نام مولانا کا بھی تھا، ان بزرگوں نے رسالے لکھے اور مولانا نے دار العلوم کے نصاب کے بجائے دار العلوم کا مسودہ (خاکہ) تیار کیا جس کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کا مسافر قسطنطنیہ کے کسی بڑے شہر میں کھڑا ہے" (حیات شبلی، ص 310)۔
سید صاحب آخری جملہ میدں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دار العلوم کے وسیع تصور کے مطابق اگر اسکا نصاب کوئی تجویز کرسکتا تھا تو وہ مولانا شبلی کی ذات ہے جو عرب و ترکی کی یونیورسٹیوں کا جائزہ لے چکے تھے، اور جنہوں نے حیدرآباد اور دوسرے کئی اداروں کادینی نصاب تیار کیا تھا۔
مصنف کتاب نے لکھا ہے کہ 12 محرم 1313 ہجری کو سب سے پہلے مولانا محمد علی نے دار العلوم کی تجویز مجلس انتظامیہ میں رکھی، اور سید صاحب کا بیان ہے کہ اس سے دو سال پہلے مولانا شبلی نے دار العلوم کا خاکہ مرتب کردیا تھا۔
مجوزہ نصاب کے مطابق ایک الگ دار العلوم کی تجویز کے بارے میں مصنف کتاب نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے یہ کہ مولانا محمد علی کا پیش کردہ ہے ، مگر روداد اور حیات شبلی کے بیان سے اسکی تردید ہوتی ہے، اس سلسلہ میں سید صاحب کا پورا بیان ملاحظہ ہو:
"10 رجب 1313ہجری مطابق دسمبر 1895ء کو کانپور میں نصاب کا جلسہ ہوا۔۔۔۔ اور مولانا شبلی نے شرکت کی اور کئی روز کے مباحثہ کے بعد مجوزہ دار العلوم کے نصاب کا خاکہ مرتب ہو" (حیات شبلی، ص 361)۔ روداد میں مولانا محمد علی اپنے بارے میں لکھتے ہیں : "مجھ کو بھی اس میں حاضر ہونے کی عزت حاصل تھی" (ص 42)َ
یہی مسودہ ہے جس کو علماء کی مخصوص کمیٹی نے طے کیا تھا جو اجلاس بریلی سے پہلے دوسرے علماء کے یہاں بھیج دیا گیا تھا، اور اسکو پھر اجلاس خاص نے تجویز کی شکل دی، پھر وہ تجویز اجلاس عام میں پیش ہوئی، اس اجلاس کی تفصیل کرتے ہوئے سید صاحب لکھتے ہیں:
"مولانا شبلی نے اسکے پہلے ہی اجلاس میں حاضرین کے اصرار سے ندوۃ العلماء کے مقاصد پر ایک تقریر فرمائی، اسی اجلاس کے جلسئہ خاص میں دار العلوم کی تجویز منظور ہوئی"۔
دوسرے دن 27 شوال 1313ہجری مطابق 16 اپریل 1890ء کو ندوہ کے اجلاس عام میں مولانا عبد الحق حقانی نے دار العلوم کی تجویز پیش کی، اسی تجویز جو جلسہ خاص میں منظور ہوچکی تھی جس کا خاکہ علامہ شبلی نے دوسال پہلے بنایا تھا، اور مولانا شبلی مرحوم نے اسکی تائید کی، اور اس سلسہ میں دار العلوم کی ضرورت پر ایک تقریر فرمائی جس میں تعلیم یافتہ اور پرانے علماء دونوں کو مخاطب فرماکر اس مجوزہ عربی مدرسی کی ضرورت بدلائل ثابت کی۔ یہ بھی طے ہوا کہ "مجلس دار العلوم" کے نام سے ایک الگ سے مجلس قام کیجائے۔ اس مجلس کے قواعد مولانا شبلی مرحوم نے تیار کئے اور وہ ارکان کے پاس بھیجے گئے" (حیات شبلی، ص 312)۔
ندوہ کے بنیادی مقاصد دو تھے، ایک موجودہ نصاب تعلیم کی تبدیلی، دوسرے نزاع باہمی کا خاتمہ۔ پہلے مقصد کی تکمیل کا سب سے بڑا ذریعہ ایک درسگاری کا قیام تھا، اور دوسرے مقصد کی تکمیل کے لئے جدید و قدیم دونوں طبقوں میں اعتماد کی ضرورت تھی۔ نئی درسگاہ کے قیام کا مقصد محض ایک نئی عربی درسگار کا اضافہ نہیں تھا بلکہ اس میں نئے نصاب تعلیم کے مطابق تعلیم تھی۔ درسگاہ تو 1896ء میں قائم ہوگئی، مگر اسکے قیام کے آٹھ برس یعنی 1904ء تک اس میں وہی نصاب تعلیم پڑھایا جاتا رہا جو عام درس گاہوں میں پڑھایا جاتا تھا۔ نصاب میں جدید علوم کے ساتھ انگریزی کا داخلہ بھی پیش نظر تھا جیسا کہ مولانا محمد علی کے سیرت نگار نے لکھا ہے۔ مولانا بھی اسکے حامی اور موید تھے مگر تعجب یہ ہے کہ مولانا اور انکے رفقاء کار اپنے عہد نظامت و نیابت یعنی 7-8 برس کی مدت میں کسی ایک جزء میں نہ کوئی تغیر فرماسکے اور نہ کوئی تجویز عملی صورت اختیار کرسکی۔ مولانا شبلی نے انگریزی کی تجویز کئی بار مجلس انتظامیہ اور مجلس عام میں رکھا، وہ منظور ہوئی، مگر اس پر عمل نہ ہوسکا۔ مولانا شبلی اس کو نافذ کرنا چاہتے تھے لیکن انکو کوئی قانونی پوزیشن حاصل نہیں تھی۔ اسلئے وہ بار بار ارکان ندوہ کو اسکی طرف توجہ دلاتے تھے مگر اس وقت جو لوگ دار العلوم ندوہ میں دخیل تھے وہ اس کے لئے آمادہ نہیں تھے۔ بلکہ یہ حضرات تو دار العلوم کی ایک مجلس بھی بنانے کے لئے تیار نہیں تھے، اسی وجہ سے مولانا شبلی کی شرکت انکو اور زیادہ گراں تھی۔ غرض یہ کہ مولانا شبلی کی آمد سے پہلے تک ندوہ کے قائم کردہ دار العلوم اور دوسرے عربی مدارس میں کوئی خاص فرق نہیں تھا، علامہ شبلی نے اسکے باے میں سیکڑوں خطوط دوستوں، بزرگوں اور اپنے خوردوں کو لکھے جو آج بھی مکاتیب شبلی میں موجود ہیں۔ ایک خط میں مولانا شیروانی کو لکھتے ہیں:
"آج ایک نقشئہ نصاب جاریہ دار العلوم آیا، اس میں یہ کتابیں ہیں: ملا جلال، شرح جامی، فصول اکبری،میبذی، شافیہ، مکرمی! ہم آپ خدا کو کیا جواب دیں گے؟ کیا ندوہ کا یہی دعوی تھا؟
پھر انہوں نے مولانا شیروانی کو دوسرا خط لکھا کہ میں نے (یعنی مولانا شبلی نے) اسی کے متعلق مدرس اول کو لکھا تھا، اسکا جواب آیا ہے:
"جدید نصاب ہم لوگوں کو دکھایا تک نہیں گیا" (ص 393)۔
جب عربی کتابوں میں تبدیلی کا یہ حال تھا تو انگریزی کے اجراء میں انکو کیا کیا دقتیں نہ اٹھانی پڑی ہوں گی اس کا کچھ اندازہ ان کے خطوط سے ہوتا ہے، دسمبر 1899ء کو مولانا شیروانی کو لکھتے ہیں:
"جلسہ انتظامیہ میں باقاعدہ انگریزی داخل کرنے کی تحریک میں نے کی تھی اور اصرار کیا تھا کہ تحریک درج تحریر کی جائے۔۔۔۔ لیکن اسکی کیا وجہ ہے کہ کاروائی میں میری تحریر لکھی بھی نہ جائے؟"
اس کے جواب میں مولانا شیروانی نے اپینی لا علمی کا اظہار کیا تو لکھتے ہیں:
"بات تو کچھ نہیں، لیکن مولوی عبد الحئی کی بہانہ جوئی اور آپ کے خارق العادۃ بھولنے پر تعجب آتا ہے، جب میں دیکھا کہ انگریزی کے مسئلہ پر گفتگو نہیں ہوتی تو میں نے کسی قدر سختی سے کہا کہ اس کیا گریز کیا جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا کوئی شخص محرک نہیں، میں نے کہا میں ہوں، اور میرا نام لکھا جائے۔ مولوی یونس خان نے کہا میں تائید کرتا ہوں"۔
ان کوششوں کے باوجود دو سال تک پھر بھی یہ معاملہ ملتوی رہا، مولانا شبلی نے بار بار اسکی طرف توجہ دلائی، ایک خط میں مولانا شیروانی کو دوستانہ انداز میں لکھتے ہیں: "ایک ہمارے روشن خیال شیروانی ہیں۔۔۔۔ انکا ھال یہ ہے کہ انگریزی کے نام سے انکو لرزہ آتا ہے، بڑی مشکل سے مسلمانون کو پھسلانے کی تجویز پر راضی ہوئے تو عمل درآمد میں حیران ہیں"۔
غرض عربی نصاب کی طرح جدید علوم اور انگریزی کا اجراء بھی باقاعدہ اس وقت ہوا جب مولانا شبلی 1905ء میں دار العلوم کے معتمد تعلیم ہوکر آئے۔ انہوں نے شدید موانع اور رکاوٹوں کے باوجود اس نصاب کو جاری کیا جس کے لئے دار العلوم قائم کیا گیا تھا۔ اس تفصیل کا مقصود یہ ہے کہ ندوہ اور دار العلوم کے اجراء کے مقاصد کی تکمیل میں نہ صرف یہ کہ مولانا شبلی کا حصہ دوسرے حضرات سے کم نہیں تھا، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ندوہ نے جو نمونے بھی پیش کئے اگر ان میں انکی روح کارفرما نہ ہوتی تواسکو اور اسکے فضلا کو عام عربی مدرسہ پر کوئی تفوق نہ ہوتا۔ خصوصیت سے دار العلوم کے معاملات مین تو دوسرے حضرات کا طرز عمل نہ تو ندوہ کے مقصد سے میل کھاتا ہےاور نہ اس میں کوئی ایسی بلندی نظر آتی کہ علامہ شبلی کو ندوہ کی تاریخ میں کوئی درجہ نہ دیا جائے، اور دوسرے حضرات سارے امتیازات کے مستحق گردانے جائیں۔ ان دو پہلوؤں کے علاوہ اس کے بعض اور مندرجات اور بعض دوسرے ایسے واقعات ہیں جو قابل بحث ہیں، مگر مقصود انکا احاطہ نہیں، بلکہ تاریخ ساز ذہنیت کی نشاندہی ہے۔
Displaying 1 of 1 review

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.