گیارہ اقساط پڑھنے کے بعد (2025 اکتوبر) سپوائلر فری۔ اس ریویو میں کوئی سپوائلر نہیں ہے۔
اس ناول میں کئی کردار اور فیملیز ہیں جو آپس میں کسی نا کسی طرح منسلک ہیں۔ لیکن پڑھتے ہوئے ایسا نہیں لگے گا کہ کرداروں کی بھرمار کر دی گئی ہے کیونکہ پہلے دو کرداروں کی کہانی اور پس منظر اچھے سے دکھا کر پھر رفتہ رفتہ دوسرے کرداروں سے روشناس کرایا گیا ہے۔ چند ایک جوڑے ہیں اور سب کی کیمسٹری دوسروں سے مختلف ہے کیونکہ حالات اور جذبات بھی مختلف ہیں۔ ناول شروع ہوتا ہے ثاقب اور ہالہ سے۔ دونوں یونیورسٹی میں کلاس فیلو ہیں اور سبھی کے نوٹس میں یہ بات ہے کہ ثاقب کو ہالہ میں کچھ خاص دلچسپی ہے۔ ہالہ بے حد محتاط ہے وہ کسی ایسے چکر میں نہیں پڑنا چاہتی۔ دوسری جانب ہالہ کے بڑے بھائی حارث کا اپنی خالہ ناہید کے ہاں آنا جانا ہے وہ ماں کے کہنے پر ان کی مالی مدد کرنے ہر ماہ ان کے گھر جاتا ہے جہاں اس کی خالہ زاد کزن کومل اس پہ مائل بہ کرم نظر آتی ہے۔ جبکہ اس کا رشتہ بچپن میں اس کی کزن زیمل کے ساتھ طے ہو گیا تھا۔ جب زیمل ان کے ہاں آ کر رہنے لگتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے اسے حارث پسند ہے لیکن حارث کو یہ دبو سی کنفیوزڈ لڑکی نہیں پسند۔ ہالہ کی سہیلی فائزہ اپنی سوتیلی ماں سے خائف رہتی ہے اور فائزہ کی بات ظہیر کے ساتھ طے پا چکی ہے جو اس کے والد کے ہاں مینیجر بھی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اسے فائزہ سے کوئی ایسی خاص محبت نہیں۔ فائزہ کا جب بھی ہالہ کے بھائی حماد سے سامنا ہوتا ہے کوئی نا کوئی بدمزگی ہوتی ہے۔ ویسے حماد کا کردار کافی نان سیریس اور شرارتی ہے مجھے یہ کردار اچھا لگا۔ تینوں بہن بھائی ہالہ، حماد اور حارث منفرد شخصیات کے طور پہ سامنے آئے ہیں۔ دوسری طرف بیرون ملک مقیم ایک کردار ہے جس میں علیزہ نامی لڑکی دلچسپی رکھتی ہے۔ علیزہ کا ایگل انٹرسٹنگ ہے۔ اس کے علاوہ مجھے حارب اور عروج کا تعلق اور حالات بہت دلچسپ لگے یہ دونوں کردار ذرا اگلی اقساط میں سامنے آتے ہیں پر مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا ان کا ہو گا کیا؟ چوتھی قسط میں ایک دھماکے دار انکشاف ہوا جس کا مجھے پہلے بھی شک گزرا تھا۔ اس کا تعلق ثاقب اور اس کی والدہ کنول سے ہے۔ یہ ناول مجھے ماڈرن اور روایتی کا امتزاج لگا۔ مریم نواز نے اپنے سٹائل سے تھوڑا سا ہٹ کر لکھنے کی کوشش کی ہے اور یہ ضروری بھی تھا کہ یہ ایک طویل ناول ہے۔ ابھی تک انہوں نے یا تو ناولٹ لکھے یا نسبتاً مختصر ناول۔ ایسے رائٹرز سے مجھے ہمیشہ طویل ناول درکار ہوتے ہیں اور میں مریم عزیز کی اس کاوش پہ بہت خوش ہوں۔ امید ہے آئندہ بھی وہ طویل ہی لکھیں اور یہ مجھے ہر ماہ پڑھنے کا بہت مزہ آئے گا۔ پہلی گیارہ اقساط میں نے اکٹھی ہی پڑھیں اور سب کو میں یہی مشورہ دوں گی یہ پڑھیں ضرور۔