لکھاری کی زبانی ایک مختصر تعارف جیسا کہ میں کہتی ہوں عرض حال رد کیے جانے کی کہانی ہے۔ اس میں ڈھیر وزن رکھنے والے معاشرتی مسائل اور موضوعات پر بات کی گئ ہے لیکن کچھ اس طرح سے کہ یہ تحریر بوجھل محسوس نہ ہو۔ ایک چیز جو میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں وہ یہ ہے کہ اس کہانی میں کوئی ایک کردار بھی اضافی نہیں ہے۔ نہ کردار نہ کوئی منظر اور شاید نہ ہی کوئی جملہ۔ مجھے کہانی کھینچنا نہیں آتا اور میری تحریر کی شاید یہی انفرادیت ہے۔ مجھے یاد ہے عرض حال لکھنا شروع کرنے سے قبل میں نے کہانی کے تعارفی پوسٹ میں کہا تھا یہ کہانی ایک خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لینے والے شہزادے اور ایک گم شدہ شہزادی کی ہے۔ (ماڈرن اپڈیپٹڈ ورژن) یہ کہانی ان سے جڑے باقی کرداروں کی بھی ہے۔ خاص کر اس پری کی جو انہیں مسخ شدہ حالت میں مل کر ان دو کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔ وہ قارئیں جنہوں نے اسے پڑھا ہے ان کے مطابق یہ کہانی آپ کو ہنسائے گی اور ہنسانے سے زیادہ شاید رلائے گی بھی۔ یہ آپ کو سوچنے پرمجبور کرے گی۔ آپ اسے بہت آسانی سے جھٹک نہیں پائیں گے۔ میری اپنی تحریروں کو لے کر ایک خواہش ہے کہ انہیں کنزیوم کرنے کے بجائے پڑھا جائے۔ ایسی کتاب جسے آپ ہر کچھ ماہ بعد کھولنا چاہیں۔
نئے سال کی پہلی کتاب اور ایک ہی نشست میں مکمل ؟ مُجھے حیرانگی ہو رہی ہے بے یقینی بھی کہ کیا یہ واقعی مصنفہ کی پہلی کتاب ہے؟ کہانی کی گرفت ایسی تھی کہ میں کتاب رکھ ہی نہیں سکی۔ plot twist, suspense,side characters involvement ہر چیز کمال تھی۔ بہتریں عمدہ کہانی، ہر کریکٹر کو خوبصورتی سے اختتام تک لایا گیا، ان کے اصلاح کے ساتھ…. اور مزید خوبصورت اس کتاب کو بنایا ہے رائڑر کی منظر عکاسی اور تفصیلی باریک بینیوں نے اس کے ساتھ ساتھ رائٹر نے ڈر کا ماحول بناۓ رکھا 😭 نہایت خوبصورت اور عمُدہ کہانی۔ ⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️ I don’t know why no one is talking about this on bookstagram … the most underrated book on booksta🥹❤️
Just finished and i loved reading this novel. This novel is a roller coaster ride of emotions and a mirror to the bitter realities of our society and country. A beautiful tale of resilience, struggle, power, remorse, purpose, affection, companionship, love and loss. Every character of this novel has a story to tell , to feel and to reflect upon. یہ ناول پڑھتے ہوئے میں بہت ایموشنل ہوئی ہوں۔ بھیگی آنکھوں اور مسکراتے لبوں کے ساتھ میں نے یہ ناول مکمل کیا ہے۔ کچھ ایسا ہی ہے یہ ناول جو پڑھتے پڑھتے رلا دیتا ہے اور روتے روتے ہنسا دیتا ہے۔ ہنسانے کا سارا کریڈٹ ویسے رہبر عثمان کو جاتا ہے۔ زینا کی کہانی کی تھوڑی تفصیل مزید ہونی چاہیے تھی۔ اس کا رہبر سے ملنا، تب کی ذہنی کیفیت، کورٹ ٹرائل کے لیے ماننا، کورٹ ٹرائل، ان سب کی تفصیل ہونی چاہیے تھی۔ اختتام مجھے بہت اچھا لگا۔ اوپن اینڈڈ۔ حقیقی سا۔ مائرہ کا انداز بیاں بہت اچھا ہے۔ موضوع، کہانی اور کردار نگاری کے ساتھ ساتھ جذبات و احساسات ( چاہے وہ محرومی کے ہوں یا ندامت کے، بے بسی کے ہوں یا اختیار کے، محبت کے ہوں یا شفقت کے) کا بیان اور بیان کے لیے الفاظ کا چناؤ بہت خوبصورت ہے۔
دعا میں التجا نہیں تو عرض حال مسترد سرشت میں وفا نہیں تو سو جمال مسترد میرے لیے کچھ کتابیں ایسی ہیں جن کو کئ بار پڑھنے کے بعد بھی مجھے لگتا ہے شاید اس میں کچھ رہ گیا ہے جو میں نے نہیں پڑھا۔ اور عرض حال مسترد میرے لیے یہی ہے۔ میں جب بھی نئے رائٹرز کو پڑھتی ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ میں بہت تفصیل سے پڑھوں۔ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے ایک بار بھی ایسا نہیں لگا کہ میں ایسی کتاب پہلے پڑھ چکی ہوں۔ کرداروں سے لے کر منظر نامہ ہر چیز خوبصورت تھی۔ رہبر، عنقاء، اتباع، زینا، گزین، مہربانو۔ مجھے سب کرداد اچھے لگے۔ ہم بہت جلد جج کرتے ہیں لوگوں کو لیکن ان کے پیچھے کی کہانی کوئی نہیں جاننا چاہتا۔ میں نے ہر کرداد کو محسوس کیا اور مجھے ہر کردار سے محبت ہوئی۔ کہانی کا مرکزی خیال دوستی، محبت، بلوچستان جیسے ٹرائبل علاقے کے مسائل تھا۔ اور کہانی کا اختتام بھی انھی مسئلوں میں گرے لوگوں کی مسلسل کوششوں پر ہوتا ہے۔ کہانی کا پلاٹ بھی اچھا تھا۔ کہانی کسی بھی پوائنٹ پہ رکی ہوئی نہیں لگ رہی تھی اور مکمل تھی۔ کسی بھی کردار اور واقعہ کو لے کر یہ نہیں محسوس ہوا اس میں کچھ اور لکھا جانے کی ضرورت تھی۔ ہر کردار کی وقت کے ساتھ ساتھ کریکٹر ڈیولپمنٹ بھی دکھائی دی ہے۔ کہانی کے بارے میں، میں کچھ بھی نہیں بتاؤں گی۔ کیوں کہ میں سپوائلرز نہیں دینا چاہتی ہوں۔ مجھے اچھا لگا رائٹر نے ہر کریکٹر کو رئیل لائف سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ہر کردار اپنے اندر ایک سبق رکھتا تھا۔ میرے لئے سب سے اچھا کرداد "گزین" اور "مہر بانو" کا تھا۔ کیوں کہ گزین ایسا لڑکا تھا جس کی موجودگی میں کبھی بھی کوئی لڑکی انکمفرٹیبل نہیں ہو سکتی۔ اور مہر بانو کا کردار اس لیے اچھا لگا کیوں کہ آپکی عزت نفس سے بڑھ کر کچھ نہیں محبت بھی نہیں۔
THIS WAS REALLY GOOD 👏🏼 lived up to the hype for me! ❤️
the plot was so interesting and engaging that 800+ pages honey ke bavajud bilkul bhi drag nahi laga. har scene kahani ko jodte hue the. aur kahani thi bhi bohot acchi 🫶🏼 i loved the found-family trope!
as for the characters, i loved every single one of them! all of them were very well written! even negative character like Mehran! (i rarely feel bad for negative characters lekin characters itney acche way me likhe gaye the ke iskey liye mujhe bohot bura laga even Amma Sahab ke liye 🤧)
aur waise to mujhe sab hi characters bohot pasand aaye lekin phir bhi my favourite was Meher Bano 🥹❤️ uskey har scenes were top-notch! such graceful strong women are my inspiration! 🫶🏼
and the romance — UFFFFFFFFFFF 🥰🥰🥰 maza aagaya itna pyara romance padh kar 🥰🥰🥰 wo ek scene jahan Rehbar party me Anqa ka haath pakad ke usey ghumata hai – wo zehen me jazab ho gaya hai 🥹 one of my favourite scenes ever!
baaki sab bhi, including the ending, was satisfying! honestly i want to say so much, especially about pyari Zaina, lekin mere paas alfaaz nahi hai! i’m just glad i read this book! it is going to stay with me for a long time!
I feel completely blank right now because I never wanted it to end like this. Every character got their share. happiness, pain, and above all, justice. Justice I would say, was the greatest strength of this book
Beautifully written, strong vocabulary, suspense, solid plot everything was executed so perfectly that any flaws simply faded into nothing. I’m genuinely glad I read this book bcz if I hadn’t I wouldve missed an incredible masterpiece.