Jump to ratings and reviews
Rate this book

Khana Badosh / خانہ بدوش

Rate this book
Khana Badosh by Mustansar Hussain Tarar

432 pages, Hardcover

First published January 1, 1983

37 people are currently reading
553 people want to read

About the author

Mustansar Hussain Tarar

97 books467 followers
Mustansar Hussain Tarar (Urdu: مستنصر حسين تارڑ) is a Pakistani author, actor, the first Morning Show presenter and a pioneer trekker - in his own words: a vagabond.

Having made a name for himself by taking the mantle in Pakistan's mountaineering community, Mustansar Hussain is widely recognized as one of the most well known personalities in Pakistan. Though the origin of his fame is usually considered to be his established and decorated career as a writer, Tarar can also be recognized as the foremost endorser for tourism projects in Northern Areas of Pakistan, having exorbitantly increased the array of tourist exposure to the areas by becoming both a mountaineer and an adventure author who uses these locations as backdrops for his storylines.

Mustansar Hussain's literary proficiency as an author often overshadows the fact that he has been an active mountaineer for a very extensive period of time. Having embarked upon several painstaking and challenging tasks such as the ascension of K-2 and the surpassing of the treacherous "Chitti Buoi" Glacier among others. More significantly, both of Mustansar Hussain's professions often intertwine and relate, since he uses his experiences on his expeditions as travelogues. Though some of his publications have met lukewarm reactions due to supposed exaggeration, he reflects on this predicament with the notion that "words or even pictures cannot successfully express the beauty and splendour of nature in it's true spirit."

Tarar's first book Nikley Teri Talash Main, a travelogue of Europe, was published in 1971. He has so far over forty titles to his credit which include many genres of literature; travelogues, novels, short stories and collection of his newspaper columns and television dramas. He has been one of the best-seller fiction writer of Pakistan.

Mustansar was born in 'Jokalian' a small town in Punjab, Pakistan in March 1939. He spent his early childhood in the village and moved to culturally rich Lahore, witnessed the independence of Pakistan in 1947 and the events that took place at Lahore. His father Rehmat Khan Tarar opened a small seed store there. Mr Tarar got his schooling from Rang Mehal Mission High School and Muslim Model High School, Lahore. He then got admission in Government College Lahore , a college that owns the credit to polish several intellectuals of Pakistan. In 1950's, he went to London for higher studies. In 1957 he attended the World Youth Festival in Moscow and wrote a book named 'Fakhta' (Dove) on that experience. In 1971 his first travelogue Nikley Teri Talaash Main was published. It led to new trend in Urdu literature. He also became a television actor and from 1988 was for many years a host of PTV's live morning transmission Subuh Bakhair (Good Morning). His unconventional and down to earth style of comparing earned him great popularity. He called himself the 'Cha Cha Jee' of all Pakistani children and soon became known by this title.

Awards:
Presidential award of Pride of Performance.
Prime Minister's award for the Best Novelist for "Rakh".
Life time achievement award of Almi Farogh-e-Urdu Adab, Doha (Qatar).
Gold Medal bestowed by Moscow State University for literary achievements.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
105 (42%)
4 stars
89 (35%)
3 stars
37 (14%)
2 stars
6 (2%)
1 star
11 (4%)
Displaying 1 - 17 of 17 reviews
Profile Image for Annie Akram.
141 reviews9 followers
December 25, 2022
خانہ بدوش۔۔۔۔تارڑ صاحب کی ایک ایسی سفری داستان ہے جو کسی ایک ملک یا جگہ پر محیط نہیں ہے بلکہ پورے نو ممالک کے سفری تجربات اور مشاہدات کا مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے میں تارڑ صاحب کے جو سفرنامے پڑھ چکی ہوں ان میں،" منہ وَل کعبے شریف"، نکلے تری تلاش میں"،"دیوسائی"،"چترال داستان"،"غارِ حرا میں ایک رات" اور "آسٹریلیا آوارگی شامل " ہیں۔ یہ سفرنامہ کئی اعتبار سے باقی سفرناموں سے مختلف ہے۔
"خانہ بدوش" کا آغاز افغانستاں سے ہوتا ہے جہاں کی لَو دیتی تپش میں تارڑ صاحب کئی دن گزارتے ہیں۔ افغانستان کے بعد آپ تہران(ایران)پہنچتے ہیں جہاں اپنے دیرینہ دوست سکھدیپ سے ملاقت کر کے بیتے دنوں کی کچھ یادیں تازہ کرتے ہیں۔۔
اسکے بعد وادی آرارت سے ترکی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ یہیں سے دراصل میری دلچسپی کی بتدریج ابتداء بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے قبل میں اس سفرنامے میی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کافی struggle کر رہی تھی۔ ترکی میں تارڑ صاحب ارضِ روم(Erzurum)،غازی انتپ(Gaziantep)، اور کلس(Klas) جیسے علاقوں میں قیام کے بعد دمشق(شام) کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں مسجد امیہ سمیت کئی صحابہ کرام کی آخری آرام گاہیں ہیں۔ جن لوگوں نے "منہ ول کعبے شریف" کا مطالعہ کر رکھا ہے وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ تارڑ صاحب عشق میں گُندھے ہوئے آدمی ہیں۔ صحابہ کرام اور دیگر اسلامی شخصیات کی یادگاروں کی زیارت کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں تاریخ کی سیر بھی کرواتے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں سے گفتگو کے نتیجے میں ان مقامات کے تقدس سے بھی آشنا کرواتے جاتے ہیں۔
جن مقامات سے ہمارا یہاں تعارف ہوتا ہے ان میں حضرت خلد بن ولید کا مزار(حمص)، حضرت رقیہ بنت امام حسین کا مزار (جامع التوبہ،دمشق)، صلاح الدین ایوبی کا مزار، بلالِ حبشی کا مزار اور ابو عبیدہ بن الجراح کی قبر مبارک(باب الصغیر قبرستان) شامل ہیں۔
اسکے بعد باری آتی ہے بیروت(لبنان) کی جہاں کے پانچ روزہ قیام میں وہ کئی بار اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں۔ اسکی وجہ بیروت میں جاری خانہ جنگی ہے۔ اسکے بعد بحری سفر کے ذریعے قبرص(یونان)، اسکندریہ(مصر) ، سے ہوتے ہوئے اٹلی پہنچ جاتے ہیں۔ دمشق کے قیام کی تفصیلات بہت خوبصورت ہیں جس میں مسلم بھائی چارے کی بو باس بھی ہے اور تاریخ کی بام و دریچوں کی سیر بھی۔
یہ اس لحاظ سے بھی میرے لیے دلچسپی سے بھرپور ہے کہ اس سے قبل میں ایک اور کتاب eat pray love میں اٹلی کے تفصیلی احوال پڑھ چکی ہوں۔ اور اس حصے کو پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے میں دوبارہ روم کی سیر کر رہی ہوں۔ اٹلی میں روم،فلورنس، وینس اور وہاں کے سیاحتی مقامات سے ہمارا تعارف ہوتا ہے۔یہاں قاری کبھی مائیکل اینجلو اور کبھی دانتے کی رہائیش گاہوں سے ہوتا ہوا ٹسکنی کی پہاڑیوں اور دریائے آرنو کے پار نکل جاتا ہے۔
اس سفر کا اگلا پڑاؤ سوئٹزر لینڈ ہے جہاں جپسی کی آمد بھی ہوتی ہے۔ یہاں ایک فسوسناک خبر کے ساتھ یہ سفرنامہ اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔

تارڑ صاحب کا اندزِ تحریر دیگر مصنفین سے اس لیے بھی جدا ہے کہ آپ کے ہاں تحریروں میں مزاح کی آمیزش بھی ہے، اور طنز کا تڑکہ بھی۔ مثلاً یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
"اس بے تکی خریداری ک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ ہم کو اپنے لٹنے کا ذرہ برابر بھی ملال نہ تھا بلکہ ہم مصریوں کی چرب زبانی کے قائل بھی ہو چکے تھے۔ جانے یہ لوگ اسرائیل سے مزاکرات کرنے کے لیے کسی پھیری والے کو کیوں نہیں بھیج دینے"

اسی طرح آپ کے ہاں منظر نگاری جس کمال کو پہنچی ہوئی ہے اس کی کئی مصنفین صرف تمنا ہی کر سکتے ہیں۔ گو کہ اس میں جا بجا کسی قدر مبالغہ آرائی کا شائبہ بھی ہے جس کا آپ خود بھی اعتراف کرتے ہیں۔چاہے وہ بحری سفر کا پانچ روزہ تجربہ ہو، افغانستان کے ریگ زاروں کی دھول سے اٹی ہوئی تفصیلات ہوں،بیروت میں خانی جنگی ہو ،قاری خود کو ساتھ ساھ چلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
منظر نگاری کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

"نیچے میرے قدموں میں بچھے سپاٹ میدان کی بنجر سطح میں سے ہوک کی مانند ایک بگولا اٹھ رہا ہے۔ اس کے ان دیکھے دائروں میں ایک کانٹے دار جھاڑی آئی ہوئی ہے جو بھنور میں پھنسے کنڈیالے چوہے کی طرح بے بسی سے ایک میکانکی تواتر کے ساتھ گھومتی چلی جاتی ہے۔ ہوا ک زور لحظہ بھر کے لیے ٹوٹتا ہے اور کنٹے دار جھاڑی گردش کی س قید سے نکل کر ٹھنڈی پڑتی لاش کی طرح ایک آدھ مرتبہ جھٹکوں سے حرکت کرتی ہے اور پھر میدان کی بنجر زمین پر ساکت ہو جاتی ہے"

اسی طرح یہ سفر نامہ ایک فینٹسی بھی ہے۔ کیسے ایک شخص پشت پر رُک سیک اٹھائے،کبھی زمینی تو کبھی بحری سفر کرتا ہے۔ کبھی کسٹم فسران سے مغز ماری تو کھی ہچ ہائکنگ کے طرز پر سفر کی خاطر ہر آنے جانے والی گاڑی کو انگوٹھے سے اشارہ، کبھی کسی میلے کچیلے ہوٹل اور کبھی کسی کیمپنک سائٹ پر اپنے کیمپ میں رہائیش۔ یہ وہ فینٹسی ہے جو قاری کی توجہ کو باندھے رکھتے ہے، ہلنے نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو میں نے محض چار دن میں مکمل کر ڈالا۔

اس سفرنامے میں قاری کی ملاقات مختلف قومیتوں کے افراد سے بھی ہوتی ہے۔ تہران میں سکھدیپ اور علی رضا، تو بیروت میں فلسطینی نوجوان احمد،روم میںPierluigi تو سوئٹزر لینڈ میں جپسی، اور سمندری سفر کے دوران گرتھ،سام اور جارج بھی قاری کی تفنن طبع کا سامان بنے رہتے ہیں۔

اس سفرنامے میں تارڑ صاحب بارہا وطن کی مٹی اور آسودگی کو بھی یاد کرتے نظر آتے ہیں۔ یوں محسس ہوتا ہے کہ وہ گھر کی آسودگی اور سفر کے ہنگاموں دونوں کی خواہش کے درمیان کہیں بٹے ہوئے ہیں۔

غرضیکہ تارڑ صاحب کا ذوق اور فہم رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب بھرپور دلچسپی کا سامان ہے۔
Profile Image for Jibran.
226 reviews766 followers
March 23, 2016
Khana badosh = nomad

This is one of those books that are burned in my memory from early teens. A splendid account of travels in West Asia and the Middle East in the 1970s that kindled in my heart a love for travel. In pre-internet days Tarar's books were a rite of passage when it was possible for only a few privileged people to undertake international travel.
Profile Image for Mahnoor Kayani.
18 reviews21 followers
June 5, 2020
It was quite shocking for me to find this book in my college library. The thing is that my college library has all those books which a person won't bother reading even if he's dying out of boredom. You guessed it right, Most of them are course books and I just can't get myself stuck to them. I don't know why it's turning into a review on my college library but whatever.

Now, Khana Badosh is the first travelogue I read and since then I have been looking forward to reading all of them by MHT. He's the best when it comes to writing travelogues.

After completing it, I went to the library to find another travelogue but I couldn't find any and let me tell you, I didn't have any hopes either.

I am looking forward to reading Undlas Main Ajnabi because I heard some really good reviews.
Profile Image for Hasan Raaz.
25 reviews9 followers
February 5, 2019
One of the 3 classics of MHT( 1.Niklay Teri talash...2.Undlas main ajnabi and 3rd .Khana Badosh), a must read... delightful travellogue..by mastreo himself..as usual I was in 70's middle East while reading every single page of it....Exquisite
Profile Image for Mian Usama.
31 reviews5 followers
June 29, 2014
tarar sahab always take the reader of his book with him on the travel, wonderful travelogue by a wonderful person
Profile Image for Tariq Ahmad Khan.
104 reviews10 followers
March 13, 2024
جب چھوٹے ہوا کرتے تھے تو گھر میں بھائی مختلف ڈائجسٹ اور میگزین لایا کرتے۔ ان میں ایک سسپنس ڈائجسٹ بھی ہوا کرتا تھا جس میں اکثر مرحوم علی سفیان آفاقی صاحب کے سفر نامے ہوا کرتے تھے۔ وہی۔ یہ سب ہم گھر والوں سے چھپ کہ پڑھا کرتے (کیونکہ اچھے بچے ڈائجسٹ نہیں پڑھتے ایسا تب سمجھا جاتا تھا۔تو ہم اچھے نہیں تھے تو چھپ چھپا کر پڑھ پی لیتے تھے)۔ پھر ایف ایس سی میں تارڑ صاحب سے پہلا تعارف پیار کا پہلا شہر سے ہوا( سچ تو یہ ہے اس وقت بھی مجھے یہ ناول سے زیادہ ایک سفرنامہ لگا تھا) تو تارڑ صاحب ہمارے کچی عمر کے پکے پیار ٹھہرے۔ تب سے لیکر ان کے لکھے کئی سفرنامے جیسا کہ اندلس میں اجنبی، نکلے تیری تلاش میں ، نیو یارک کے سو رنگ، پتلی پیکنگ کی ، ویت نام تیرے نام ، منہ ول کعبہ شریف، غار حرا میں ایک رات، دیوسائی اور یہ خانہ بدوش پڑھ ڈالے
خانہ بدوش تارڑ صاحب کا افغانستان سے شروع کر سوئٹزرلینڈ تک تقریباً نو ممالک کا سفر نامہ ہے ۔ یہ سفر نامہ پڑھتے وقت احساس ہوتا ہے کہ دنیا کے ی بدل گئی ہے۔ گئے زمانوں میں بھلے ٹرانسپورٹ کے ذرائع اتنے جدید اور تیز نہیں تھے لیکن ایک ملک سے دوسرے جانا کتنا آسان اور سہل تھا۔ راستے کی چھوٹی چھوٹی مشکلات تو تھیں پر لوگوں کی اکثریت کے دل کشادہ تھے تو یہ راہ کی مشکلیں کچھ زیادہ مشکل نہیں لگا کرتی تھیں۔ اب تو آسانویں کے ساتھ ساتھ سب انسان اپنی اپنی ذات کے حصار میں سکڑتے جا رہے ہیں۔ سفر پہ قدغنیں جہاں بڑھی ہے وہاں ایک ملک سے دوسرے کا سفر ناممکن حد تک مشکل بنا دیا گیا ہے
۔
تارڑ صاحب کے سفر نامے سے جہاں آپ بہت کچھ نیا جان پاتے ہیں وہیں اس سفر میں ملنے والے عجیب و غریب کردار بھی اپنے آپ میں الگ طرح کے ہوتے ہیں۔تارڑ صاحب کے سفرناموں کی خاص بات یہ ہے کہ پڑھتے سمے بے اختیار دل مچل اٹھتا کہ سب کچھ تیاگ کر بیگ اٹھائیں اور نکل پڑیں ان دیکھی دنیا کے لئے۔پر پھر اپنی جیب کی پتلی حالت دکھتی تو بندہ سوچتا چلو کتاب کے ذریعے ہی اربض روم دمشق ، بیروت ، وینس، سکندریا گھوم آتے ہیں
Author 1 book1 follower
February 23, 2021
کھڑکی سے آنے والی ہوا بدن کو یوں چھو رہی تھی جیسے کورے گھڑے پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ ہلکی کہرنیلی چٹانوں کے گرد سفید ہالے بنائے ہوئے تھی ۔ٹرین کسی وادی میں سے گزرتی تو معدوم ہوتی ہوئی گونج ساتھ ساتھ چلی آتی۔ ایک جھیل کا پانی نزدیک ہوتا گیا اور پھر ہم اس سے پرے ہٹتے چلے گئے ۔
اٹلی اور سوئٹزر لینڈ ہی نہیں، آپ کسی بھی ملک کا سفر کریں تو یوں لگتا ہے تارڑ صاحب آپ سے پہلے یہاں آ چکے ہیں۔ یا یوں محسوس ہوتا ہے آپ مستنصر حسین تارڑ کی کتاب پڑھ رہے ہیں۔
ایک ایسا جادوگر ہے جو آپ کے تصور کے ساتھ کرتب کھیلتا ہے۔
8 reviews
Read
June 7, 2020
Tarar sahab's work is always a treat. Loved the title especially.
Displaying 1 - 17 of 17 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.