مجھے اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ اس کہانی میں ایک اہم شرعی مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ مریم عزیز کی بہترین تحریر تو نہیں لیکن کافی دلچسپ رہی اور سبق آموز بھی۔ تعبیر چونکہ یتیم ہو چکی ہے اس لیے قریبی رشتہ داروں کے مابین کافی بحث و مباحثہ کے بعد وہ انہی میں سے ایک فیملی کا حصہ بنتی ہے جن کی بیٹی جو کہ اس سے عمر میں ذرا ہی بڑی ہے اس کے لیے بہنوں سی ثابت ہوتی ہے۔ کہانی یہیں سے آگے بڑھتی ہے کافی اتار چڑھاؤ رہے۔ یہ سمجھنا مشکل تھا کہ کہانی کس سمت جائے گی جو کہ مجھے اچھا لگا۔ اس میں ولن بھی ہیں ولن کے سپورٹرز بھی۔ لیکن ہیرو بھی ہے۔ جو کہ ہر لحاظ سے ایک بہترین ہیرو ثابت ہوا۔