Ibn-e-Safi (also spelled as Ibne Safi) (Urdu: ابنِ صفی) was the pen name of Asrar Ahmad (Urdu: اسرار احمد), a best-selling and prolific fiction writer, novelist and poet of Urdu from Pakistan. The word Ibn-e-Safi is an Arabian expression which literally means Son of Safi, where the word Safi means chaste or righteous. He wrote from the 1940s in India, and later Pakistan after the partition of British India in 1947.
His main works were the 126-book series Jasoosi Dunya (The Spy World) and the 120-book Imran Series, with a small canon of satirical works and poetry. His novels were characterized by a blend of mystery, adventure, suspense, violence, romance and comedy, achieving massive popularity across a broad readership in South Asia.
2 girls are found throwing a tamper at some distant clock tower but fail to remember anything . The story investigates this strange phenomenon. There is science, gangs, witty humor and of course Fareedi and Hameed's investigative skills.
اس ناول میں قاسم جیسا گرانڈیل ہونق اپنی بیوقوفیوں سے کہانی کو کافی پر لطف بناتا ہے۔ قاسم دو لڑکیوں کے تعاقب میں اپنی بیوقوفانہ طبیعت اور حرکات کے باعث تھانے جا پہنچتا ہے جن پر یکایک جنونی کیفیت طاری ہوئ تھی اور پھر کچھ لحظہ بعد وہ واپس اپنے حواس میں تھیں۔ شہر میں اس طرح کے اور بھی بیشتر واقعات رپورٹ ہو چکے تھے۔ کرنل فریدی اور کیپٹن حمید اپنی انتھک کوششوں سے پی سنگ، ہارڈی اور سرلا مکرجی جیسے مجرموں تک پہنچتے ہیں جو کسی پروفیسر زیدی کی لیبارٹری سے مبینہ طور پر حافظے کو تقویت دینے والا عرق کا نسخہ چرا کر اس کی مدد سے عرق کشید کر کے شہر کی امیر لڑکیوں میں بیچتے تھے، جو کسی نشے سے کم ثابت نہ ہوا تھا۔
اس ناول میں پی سنگ کی دیدہ دلیری، ہارڈی کی نمک حرامی اور فریدی کا مجرموں کو ایک دوسرے سے بھڑوا کر ادھ موا کر دینا نمایاں نکات ہیں جو کہانی کو جاندار بناتے ہیں۔
جاسوسی دنیا کا یہ ناول اب تک کا سب سے منفرد ناول ہے اور اس کی وجہ اس میں فریدی کا بدلا ہوا مزاج ہے جس کی وجہ کیپٹن حمید کی سمجھ میں بھی نہیں آتی۔ دیکھا جائے تو یہ ناول اب بھی ہمارے حالات کی صحیح عکاسی کرتا ہے کیوں کہ نشہ کی لت اور خاص طور پر امیر کبیر گھرانے کی لڑکیوں میں کوئی منفرد بات نہیں بلکہ یہ لعنت تو آج کل اوپری سطح سے غربت میں پسے ہوئے طبقات تک موجود ہے۔ گو کہ ناول میں بیان کردہ ڈرگ انسانی خدمت کے لیے بنایا گیا تھا لیکن ایک شخص کی بد نیتی کی وجہ سے اس کا غلط استعمال ہونے لگا اور اس کو تیار کرنے والے پیسے بٹورنے لگے۔ اس ناول میں زیادہ تر حمید کو spotlight میں رکھا گیا ہے جب کہ فریدی بہت کم ہی منظر نامے پر آیا ہے لیکن آخری سین میں اس کی واپسی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ فریدی کا نیا طریقہ جس میں وہ مجرموں کو گرفتار کرنے سے پہلے خود میں بھِڑوا دیتا ہے اور عموماً چھوٹے درجے کے ملازمین کے ہاتھوں مالکوں کو پٹواتا ہے، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں صرف فریدی کا نقطہ نظر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے ایک تو خود کو invincible سمجھنے والے مجرم فریدی کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ فریدی کے اشاروں پر ناچیں، یہ بھی بہت بڑی مات ہوتی ہے۔ بہ ہر حال ناول پڑھنے لائق ہے اور اپنے اندر انفرادیت کا پہلو سموئے ہوئے ہے
مجھے اس ناول میں دو باتوں پر اعتراض ہے۔ پہلی یہ کہ قاسم کی میز پر دو دو ویٹر موجود ہوں اور اس کے باوجود بھی قاسم اپنی کافی میں تین چمچ نمک کے ڈال لے، حقیقت کے قریب نہیں معلوم ہوتا۔ ویسے بھی کھانے کی میز پر نمک دانی ہوتی ہے جس سے نمک چھڑکا جاتا ہے چمچوں میں بھر کے نہیں ڈالا جاتا۔ لگتا ہے کوئی اور بہانہ نہ ملا تو مصنف نے نمک کا سہارا لے لیا۔ دوسرا، کار میں عقب میں دیکھنے کے لئے بھی ایک شیشہ موجود ہوتا ہے لیکن حمید کو اس شیشہ کی موجودگی میں بھی پتہ نہ چلا کہ فریدی گاڑی میں سوار نہیں ہوا۔ یہاں بھی لگتا ہے کہ مصنف نے صرف کام ہی چلایا ہے۔ جب قاسم نے پچھلی سیٹ پر فریدی کو نہ پا کر غل مچایا تو یہ بھی لکھا جا سکتا تھا کہ حمید نے اسے خاموش کرایا اور مسلسل گاڑی چلاتا رہا کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ فریدی کہا گیا ہو گا۔ اس کے علاؤہ حمید کا طنزیہ طرز گفتگو فریدی کے ساتھ مجھے کسی بھی ناول میں سمجھ نہیں آیا یا مصنف اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں معلوم نہیں پڑا۔