رفاقت حیات نے درمیانے اور نچلے درمیانے طبقے کی زندگی کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ شاید کچھ لوگوں کو یہ بات معمولی لگے لیکن میری نظر میں ایسا نہیں ہے۔ میرے خیال میں ہمارے افسانہ نگاروں میں سے کسی نے بھی ان طبقوں کی زندگی کو اتنی اپنائیت، محبت اور تفہیم کے ساتھ اور ہنر مندی سے کہانیوں میں نہیں ڈھالا ہے جیسے رفاقت حیات نے اپنی کہانیوں میں بیان کیا ہے۔ رفاقت کی تمام کہانیوں میں ان طبقوں کی زندگی ، ان کے مسائل، ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور غم ، ان کی محرومیاں ، ان کے خوف غرض کہ ان کے زندگی کے مختلف رنگ پوری گہرائیوں کے ساتھ منعکس ہوئے ہیں۔ ہمیں ماننا پڑے گا رفاقت نے یہ کہانیاں لکھ کر اُردو افسانے کے قاری کو ایک ایسی دنیا سے روشناس کروایا ہے جس سے نا واقف تو نہیں مگر جس کو اتنی گہرائی سے شاید پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔
اصل نام رفاقت علی اور قلمی نام رفاقت حیات ہے۔ 15 اپریل، 1973 کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے قصبے محراب پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم محراب پور ، نواب شاہ اور ٹھٹھہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی لیکن جلد ہی نثر کی طرف متوجہ ہو گئے اور تب سے فکشن کے مطالعے اور تخلیق میں مصروف ہیں۔
اوپر والی منزل از رفاقت حیات دو سو کم صفحات پر مشتمل اس افسانے کی کتاب کو احسن انداز سے القاء پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے اور تقریباً ساڑھے پانچ سو روپے ہے۔ "خواہ مخواہ کی زندگی" کے بعد یہ رفاقت حیات یہ دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے انکا ناول "رولاک" شائع ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب انکی زندگی میں تخلیقی فرصت بڑھ گئی یا اشاعت کا موقع اب ملا ہے۔ جو بھی ہے ہمارے لئے اچھا ہوا ہے اور یہ کتاب ہمیں پڑھنے کا موقع میسر آیا ہے۔ "اوپر والی منزل" کی پہلی قرات پڑھ کر لگتا ہے آپ سچی کہانیاں پڑھ رہے ہیں۔ دوسری دفعہ کی پڑھت احساس دلاتی ہے کہ یہ سچ نہیں بلکہ فکشن ہے۔ پاپولر فکشن۔ لیکن تیسری دفعہ کا مطالعہ کرکے یہ سمجھ آتا ہے یہ سنجیدہ ادب ہے۔ سب سے بڑی خوبی حقیقت نگاری ہے جیسے روسی ادب میں ہوتی ہے اور دوسری خوبی بیان ہے جس میں برجستگی اور روانی ہے جیسے چیخوف اور تیسری خوبی اختصار ہے اور یہی خوبی ہے جو کلاسک افسانوی ادب میں کثرت سے نظر آتی ہے۔ گو کہ طویل افسانے اور ناولٹ بھی ہیں لیکن انکی تعداد بہرحال کم ہے۔ رفاقت حیات ان لکھاریوں کے قبیلے سے ہیں جو کثرت سے نہیں ادب نہیں تخلیق کرتے بلکہ فن کے پختہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کے لئے تخلیقی صبر درکار ہوتا ہے۔ ان افسانوں کے واقعات اور کردار ہمارے اپنے ماحول سے کشید کئے گئے ہیں جسکی وجہ سے ان سے relate کرنا بہت آسان ہے۔ مکالمہ مختصر لیکن پر اثر ہے۔ جس سے کردار کے اندرون اور بیرونی ماحول کے اثر کا پتا چلتا ہے۔ زمانہ انٹرنیٹ سے پہلے کا ہے اور مقام اس دفعہ سندھ کے علاوہ اسلام آباد/ روالپنڈی بھی شامل ہے۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات سے لیکر خوشحال طبقے تک، اور بچے سے لیکر بوڑھے تک تمام کرداروں کی نمائندگی کی ہے۔ اس کتاب میں تنوع انکی باقی کتب سے زیادہ ہے اور لہجہ مدہم ہے۔ اور آخری بات انھوں نے کشمکش اور نقطہ عروج کو نفسیاتی سطح پر بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں گیارہ افسانے ہیں۔ "کدال کی آواز اور نظم" پڑھ کر رابرٹ فراسٹ کی نظم یاد آتی ہے۔ "رات" ایک ٹرک ڈرائیور کی زندگی کو بیان کرتی ہے جہاں جنس کے علاوہ اسکی زندگی کوئی تفریح باقی نہیں رہ گئی۔ "ایک وڈیرے کی کہانی" میں مرکزی کردار امیر ہونے کے باوجود اچھے دل کے مالک ہے۔ "کرفیو" کو ایک بچے کی نگاہ سے بیان کیا ہے۔ "نظام دین چوکیدار" ایک چوکیدار کی کہانی ہے جس کو اپنے کام پر فخر ہے۔"لوٹ" تقسیم ہند کے فسادات پر ہونے والے المیے پر مبنی ہے۔ "سازش" اور" کفارہ" بچے کے آنکھ سے بیان کردہ افسانے ہیں۔ "پشت بان" افسانے کو نیئر مسعود کے نام منسوب کیا ہے۔ ایک بات ہے نیئر مسعود کا سفر سے کوئی خاص رغبت نہیں تھی۔ اور آخر میں "اوپر والی منزل" اور "رہائی" میرے پسندیدہ افسانے ہیں حالانکہ ان میں کوئی چونکا دینے والی کوئی بات نہیں۔ شائد ایسا کچھ نہ ہونا بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ جدید افسانوں کے قارئین کے لئے یہ ایک اہم کتاب ہے۔ از Faisal Majeed