Jump to ratings and reviews
Rate this book

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

Rate this book
قارئینِ کرام! یہ تصنیف بڑی تنوع کی حامل ہے۔ اِس میں کچھ ایسی یادوں کا تذکرہ ہے جو حافظے کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں اور تنہائی جنھیں دُہراتی رہتی ہے۔ بعض واقعات تو بڑے دلچسپ ہیں اور کئی ایک ایسے حیرت انگیز، تحیر خیز اور ’اَن فراموش ایبل‘ ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے پر میں آج تک ششدر ہوں۔
اِن تحریروں کے بعد کا بیشتر حصہ فارسی شعر و ادب سے متعلق ہے۔ 62-1961ء کے دوران جب میں یونیورسٹی اوریئنٹل کالج لاہور میں ایم اے فارسی کی تیّاری کر رہا تھا، مجھے سیّد وزیر الحسن عابدی جیسے فارسی ادب کے جیّد سکالر کے لیکچروں سے استفادے کا موقع ملا۔ عابدی صاحب جیسے اساتذہ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کے نصابی اور غیرنصابی اِرشادات اور فرمودات میری زندگی کا عظیم سرمایہ ہیں۔ اِن قیمتی ملفوظات کا ایک حصہ بھی اِس کتاب میں شامل ہے۔
1976ء میں مجھے جدید فارسی کی تحصیل کے لیے ایران جانے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ ہمیں تہران کے نزدیک واقع ایک یونیورسٹی (دانشگاهِ سپاہیانِ انقلاب) کے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ہمیں ایران کے بڑے فاضل اساتذہ (محمد حسین خراسانی صاحب، غروی صاحب، صالحی صاحب اور اُستاد دادبِہ) کے لیکچروں کی بدولت فارسی زبان اور شعر و ادب کی نزاکتوں اور نزہتوں سے بڑی نادر آگاہی اور شناسائی حاصل ہوئی۔ 120 دنوں پر محیط قیامِ ایران کے مشاہدات اور نوٹس بھی اِس کتاب کا حصّہ ہیں۔
اب میں ان یادوں اور یادداشتوں کی گٹھڑی آپ کے حوالے کرتا ہوں… سپردم به تو مایهٔ خویش را…
میں نے کہا نہیں تھا؟… اِس پیرانہ سالی میں بھی… مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا…
(انور مسعود)

192 pages, Hardcover

Loading...
Loading...

About the author

Anwar Masood

24 books12 followers
Anwar Masood (Urdu: انورمسعود‎) is a Pakistani poet best known for his humorous poetry, however, his works include other genres as well. He writes in Punjabi, Urdu and Persian languages.
He was born on 8th November 1935 in Gujrat and got his education in Lahore and then in Gujrat where his family moved back after some years in Lahore. He opted in Medical Sciences at first but quit science and migrated into Arts and received Bachelor of Arts degree with distinction from Zamindar College Gujrat. He was the editor of college's magazine Shaheen.
Due to financial troubles he quit education for some time and began teaching in Government Islamia High School, Kunjah where he underwent the experience described in his famous poem 'ambri'.
He then continued education and got admission in Oriental College Lahore where he obtained Master's degree in Persian language in 1962 and got a gold medal. He met his soul mate in Persian classes and got married in 1965.
He has been teaching as a lecturer in different colleges in Punjab since 1962 and got retired in 1996. He was also the visiting faculty of Government College University, Lahore.
He was given Pride of Performance award by Government of Pakistan on 23 March 2000.
So far he has written 15 books in total in Urdu and Punjabi. His books along with first published year are as follows:

میلہ اکھیاں دا (پنجابی کلام) 1974ء

قطعہ کلامی (اردو کلام) 1988ء

فارسی ادب کے چند گوشے (تحقیقی و تنقیدی مقالات) 1993ء

غنچہ پھر لگا کھلنے (اردو طنزیہ و مزاحیہ کلام) 1996ء

ہُن کیہ کریئے؟ (پنجابی کلام) 1996ء

تقریب (تعارفی مضامین۔ اردو) 1997ء

اِک دریچہ اِک چراغ (سنجیدہ اردو شاعری) 2000ء

شاخِ تبسم (مزاحیہ شاعری کا سنجیدہ مطالعہ) 2000ء

میلی میلی دھوپ (اردو پنجابی سنجیدہ/مزاحیہ شاعری) 2002ء

درپیش(اردو مزاحیہ شاعری) 2005ء

بات سے بات (ہلکے پھلکے مضامین) 2007ء

روز بروز (مزاحیہ قطعات) 2010ء

سیف الملوک (اردو نثری ترجمہ) 2011ء

باریاب (نعتیہ شاعری) 2012ء

صدیقہ انور کے نام (خطوط) 2014ء

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
0 (0%)
3 stars
0 (0%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
No one has reviewed this book yet.