One of the major three poets of the Delhi school, Khwaja Mir Dard, poet of love and pathos, wrote extensive prose and poetry. Such a great and phenomenal work, to present transcendental love in terms of humanly and earthly love. Simple, natural and musical style, thoughtful and thought-provoking content. By far, most favorite collection.
نالۂ دل کا اثر دیکھ لیا دردؔ، بس! جی میں نہ رہ جائے یہ، آہ بھی کر دیکھنا - اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا - قتلِ عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا پر، تیرے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا - اُن نے قصداً بھی میرے نالے کو نہ سُنا ہو گا، گر سُنا ہوگا - اذیت، مُصیبت، ملامت، بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا - مرنا ہی لکھا ہے میری قسمت میں عزیزاں! گر زندگی ہوتی تو یہ آزاد نہ ہوتا - رُسوائیاں اُٹھائیں، جُورِ عتاب دیکھا عاشق تو ہم ہوئے پر، کیا کیا عذاب دیکھا - ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک، جُستجو کریں دل ہی نہیں رہا ہے، جو کچھ آرزو کریں