Jump to ratings and reviews
Rate this book

Naam Nahi Rakha Abhi

Rate this book

198 pages, Hardcover

Published May 16, 2026

Loading...
Loading...

About the author

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
0 (0%)
3 stars
0 (0%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 of 1 review
Profile Image for Rabia.
247 reviews68 followers
Read
June 29, 2026
„نام نہیں رکھا ابھی“ ایسی کتاب ہے جسے کسی ایک صنف میں محدود کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک ناول نہیں، صرف سفرنامہ نہیں، صرف خودنوشت بھی نہیں، بلکہ زندگی کے مختلف رنگوں، یادوں، مشاہدوں، تعلقات، مزاح اور اداسی کو سمیٹتی ہوئی ایک ادبی تحریر محسوس ہوتی ہے۔ اس کتاب کی سب سے نمایاں بات اس کا لہجہ ہے۔ مصنف قاری کو ایک خاص جذباتی سمت میں لے جاتے ہیں اور پھر اچانک منظر بدل دیتے ہیں۔ آپ کسی باب میں ہنس رہے ہوتے ہیں اور اگلے ہی لمحے ایک ایسا واقعہ سامنے آتا ہے جو پہلے پڑھے ہوئے تمام ہلکے لمحوں پر نئی روشنی ڈال دیتا ہے۔

کتاب کے ابتدائی حصوں میں کالج، کیریئر، دوستوں اور روزمرہ زندگی کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ ان حصوں میں زبان اتنی سادہ اور فطری محسوس ہوتی ہے کہ قاری خود کو ان محفلوں اور گفتگوؤں کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ مصنف معمولی واقعات میں بھی مزاح پیدا کرتے ہیں، لیکن یہ مزاح سطحی نہیں بنتا بلکہ انسانی کمزوریوں اور زندگی کی سادگی سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے قاری صرف مسکراتا نہیں بلکہ ان لمحوں سے جڑ بھی جاتا ہے۔

کتاب کا جذباتی رخ اس وقت زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب میڈم اور ان کی پالک بچی کا ذکر آتا ہے۔ اس حصے میں مصنف بہت زیادہ جذباتی یا ڈرامائی ہونے کے بجائے خاموش انداز اختیار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اثر اور گہرا محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسے تعلق کو دکھایا گیا ہے جو خون کے رشتے سے نہیں بلکہ احساس اور وابستگی سے بنتا ہے، اور پھر اچانک حادثہ اور شناخت کے لیے DNA کی ضرورت پوری فضا کو بدل دیتی ہے۔ یہاں قاری کو احساس ہوتا ہے کہ بعض رشتوں کی حقیقت کسی رپورٹ یا ثبوت سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔

بٹ صاحب والا حصہ کتاب کے مزاج کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ ابتدا میں دوستی، ہنسی مذاق اور روزمرہ کے واقعات ایک ہلکا اور خوشگوار ماحول بناتے ہیں، لیکن جب آخر میں ان کے انتقال کی خبر آتی ہے تو قاری کو احساس ہوتا ہے کہ وہ جن باتوں پر ہنس رہا تھا، دراصل وہ وقت کے ساتھ قیمتی یادیں بن چکی تھیں۔ مصنف یہاں دکھاتے ہیں کہ اکثر انسان کی اہمیت ہمیں اس کے موجود ہوتے ہوئے نہیں بلکہ اس کے چلے جانے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان سے متعلق حصے کتاب کو ذاتی تجربے سے نکال کر ایک وسیع انسانی دائرے میں لے جاتے ہیں۔ مصنف سرحدوں کے فرق سے زیادہ انسانوں کی مماثلت کو دیکھتے ہیں۔ موسم، زبانوں کی قربت، لوگوں کے رویے، شہروں کی روح اور مشترک ثقافتی احساس کو بیان کرتے ہوئے وہ ایک خاموش سوال چھوڑتے ہیں کہ کیا واقعی انسان اتنے مختلف ہیں جتنا انہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہ حصہ کسی سیاسی بحث سے زیادہ انسانی مشاہدہ محسوس ہوتا ہے۔

بادشاہ کی کہانی کتاب کے سب سے زیادہ فکر انگیز حصوں میں سے ایک لگتی ہے۔ ایک ایسا شخص جسے ہم ایک مخصوص انداز میں جانتے ہیں، وقت اور حالات کے ساتھ اتنا بدل جاتا ہے کہ وہ پہچان سے باہر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس حصے میں صرف ایک فرد کی تبدیلی نہیں بلکہ وقت، تنہائی، حالات اور انتخاب کے اثرات بھی نظر آتے ہیں۔ یہاں کتاب مزاح سے نکل کر انسانی پیچیدگیوں کی طرف چلی جاتی ہے۔

سیاہ روشنی اور آرٹ کالج والے حصوں میں مصنف دوبارہ روزمرہ زندگی، نوجوانی، دوستی، سفر، کھانے، لاہور اور طالب علمی کی دنیا میں واپس آتے ہیں۔ ان حصوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ عام چیزوں کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے بڑے معنی اکثر انہی چھوٹے واقعات میں چھپے ہوتے ہیں جنہیں ہم روز گزر جانے دیتے ہیں۔

کتاب کا آخری منظر شاید اس پوری تحریر کا سب سے مضبوط استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔ شدید سردی میں کھڑا ماڈل، اس کے گرد موجود طالب علم، اور ہر ایک کی اپنی بنائی ہوئی تصویر — یہ منظر صرف آرٹ کی کلاس نہیں رہتا بلکہ زندگی کی تشریح بن جاتا ہے۔ ایک ہی حقیقت کو ہر شخص اپنی نظر سے دیکھتا ہے، اپنی سمجھ سے بناتا ہے اور اپنے تجربے سے معنی دیتا ہے۔ شاید اسی لیے اس کتاب کا نام بھی „نام نہیں رکھا ابھی“ ہے، کیونکہ بعض چیزوں کو کسی ایک تعریف، ایک نام یا ایک زاویے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

یہ کتاب پڑھنے کے بعد ختم نہیں ہوتی بلکہ کچھ دیر تک قاری کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ یہ ہنساتی بھی ہے، اداس بھی کرتی ہے، اور آخر میں انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی اکثر انہی دونوں کے درمیان گزرتی ہے۔
Displaying 1 of 1 review