Jump to ratings and reviews
Rate this book

সফেদ দ্বীপের রাজকন্যা

Rate this book

255 pages, Hardcover

Published February 1, 2014

8 people are currently reading
187 people want to read

About the author

Naseem Hijazi

87 books310 followers
Sharīf Husain (Urdu: شریف حسین), who used the pseudonym Nasīm Hijāzī (Urdu: نسیم حجازی, commonly transliterated as Naseem Hijazi, or Nasim Hijazi) was an Urdu writer famous for writing Islamic Historical fiction. Born in British India he settled in Lahore, Pakistan after independence. His novels based on Islamic history are considered one of a kind in Urdu literature.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
25 (30%)
4 stars
28 (34%)
3 stars
19 (23%)
2 stars
7 (8%)
1 star
3 (3%)
Displaying 1 - 9 of 9 reviews
Profile Image for Ammar Ibnezia.
18 reviews9 followers
January 19, 2013
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے تو ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کے موجودہ حالات پر کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں۔ نسیم حجازی کی دور رس نگاہوں کو داد دینی پڑتی ہے کہ انھوں نے کیسے خوب صورت اور دلچسپ انداز میں پاکستانی سیاست کا منظرنامہ بیان کیا۔ اس کتاب سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پچاس سے زائد سال گزر جانے کے باوجود ہمارے سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور ہماری سیاسی پختگی و شعور اب بھی پہلے جیسے مقام پر ہے۔
15 reviews1 follower
January 10, 2021
ایک ادیب اپنی قوتِ تصور سے مستقبل میں کتنی کامیابی سے جھانک سکتا ہے اس کا بخوبی اندازہ اس کتاب سے ہو جاتا ہے۔ 1958 میں لکھی گئی یہ کتاب بقول مصنف کے پچاس سال بعد کا سیاسی منظر نامہ ہے اور کیا بہترین کارنامہ ہے کہ ہم مصنف کی پیشن گوئی لفظ بہ لفظ سچ دیکھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس زمانے کے کسی طنز نگار نے موجودہ وزرا اور سیاست دانوں کی سیاہ کاریوں کو انتہائی باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد نشانہ بنایا ہے۔ کہانی کا پلاٹ بھی بڑا دلچسپ اور منفرد ہے۔ مزاح نگاری بھی حدود میں رہ کر کی گئی ہے۔ یہ ناول ثابت کرتا ہے کہ نسیم حجازی کا قلم ماضی
اور مستقبل دونوں زمانوں کی تصویر کشی میں کامل مہارت رکھتا ہے ماشاء اللہ۔ البتہ ایک مسئلہ جو نسیم کو پڑھنے والوں کو پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر وہ اس دور کے پڑھے لکھے ہیں تو نسیم کے نسبتا طویل اور خوبصورت مربوط قسم کے جملے ان کی سمجھ میں نہیں آتے جس کی وجہ سے نسیم کے ناولوں کو وہ پذیرائی نہیں مل پاتی جس کے وہ حق دار ہیں۔
Profile Image for Huda Shahid .
45 reviews3 followers
October 4, 2019
A good comedy of manner is one that doesn't feel old or unrelatable even if read after decades that's the case with this one more than half century has passed since this masterpiece was written and its still relatable alas to our society and hats off to Naseem hijazi. He is the reason I read this book but I didn't knew it was that good the satire is too good and the metaphors are upto the mark if you are interested in politics and have a sensible mind too then one should read it!
Profile Image for Saba.
29 reviews
May 8, 2025
نسیم حجازی وہ مصنف ہیں جن کی کتابوں سے مجھے بہت زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔ان کی تاریخی فکشن کی کتابیں تو میری پسندیدہ ہیں ہی مگر اس بار طنزو مزاح سے بھرپور اس کتاب نے بھی مجھے مایوس نہ کیا۔ یہ کتاب ایک warning ہے جو بقول مصنف مستقبل کے لوگ بہتر سمجھ پائیں گے۔ نسیم حجازی کا مستقبل کا قاری ہونے کے ناطے مجھے لگا کہ یہ کتاب آج کے دور والوں کو ہی مخاطب ہے۔ یہ کتاب ایک کہانی سناتی ہے جو کہتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

ایک شہر تھا امن و سکون کا گہوارا۔ سر سبز و شاداب ہریالی سے منور۔ معدنیات کی فراوانی سے لبریز۔ سب کچھ تھا ان کے پاس بس تھوڑی سی آپسی پھوٹ تھی جو ان کی تمام نعمتوں کو ڈبو بیٹھی۔ ان کی نا اتفاقی کے باعث ان کی حدود میں ایک خلائی مشین داخل ہوئی، جس میں سے نکلنے والے کو وہ اپنا دیوتا مان کر تخت پر بٹھا بیٹھے۔ کنگ سائمن نے ان کی نا اتفاقی کی تلوار سے ان کے سینوں کو اتنا کھروچا کہ بالآخر وہ متحد ہو کر اس آسمانی بلا کے آگے چلا اٹھے۔

خود کو مریخ کا شہری کہنے والا اور بندر کے دماغ کا مالک
کنگ سائمن اس سپیس شپ میں کیسے پہنچا اور سفید جزیرے سے کیسے نکلا یہ آپ کو کتاب ہی بہتر بتا سکتی ہے مگر اس جیسے لوگوں کی چال بازیاں جاننے کے لیے ہمیں کتاب پڑھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ایسے مریخی حکمران ہم صدیوں سے بھگتا رہے ہیں جن کی پیدائش علاقائی، رنگی، زبانی اور کبھی مذہبی تفرقے کے باعث ہے۔

آپ مصنف کی کون کون سی کتابیں پڑھ چکے ہیں۔
Profile Image for Ibn Abdul Rehman.
16 reviews
November 9, 2021
A Political Satire written in such a beautiful manner. The humour, message and the overall story is just amazing. I don't know why this book isn't that much talked about. If you are from any part of the world (especially from India or Pakistan ), you will get to know how the story of this book is relevant with the current political situation. It was written in late 50s(i guess), but it is still so much relatable.
A Must Read.
P.S: I haven't seen any other book which has this kind of humour.
Profile Image for Qasim Khokhar.
68 reviews2 followers
April 7, 2022
An evergreen book for most of countries in the 3rd World especially Pakistan. You would always feel it current, relevant and engaging.
Profile Image for Sohaib.
6 reviews7 followers
October 28, 2012
A book which truly depicts the politics of Pakistan in a humorous way. Have read it five times but its glitter doesn't go away for me. MUST READ.
17 reviews1 follower
September 28, 2016
Just done comedy and sattire. A Good book by him and with the ongoin politics situation in Pakistan, it seems familiarly funny.
Displaying 1 - 9 of 9 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.