Sharīf Husain (Urdu: شریف حسین), who used the pseudonym Nasīm Hijāzī (Urdu: نسیم حجازی, commonly transliterated as Naseem Hijazi, or Nasim Hijazi) was an Urdu writer famous for writing Islamic Historical fiction. Born in British India he settled in Lahore, Pakistan after independence. His novels based on Islamic history are considered one of a kind in Urdu literature.
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے تو ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان کے موجودہ حالات پر کوئی کتاب پڑھ رہے ہوں۔ نسیم حجازی کی دور رس نگاہوں کو داد دینی پڑتی ہے کہ انھوں نے کیسے خوب صورت اور دلچسپ انداز میں پاکستانی سیاست کا منظرنامہ بیان کیا۔ اس کتاب سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پچاس سے زائد سال گزر جانے کے باوجود ہمارے سیاسی حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی اور ہماری سیاسی پختگی و شعور اب بھی پہلے جیسے مقام پر ہے۔
ایک ادیب اپنی قوتِ تصور سے مستقبل میں کتنی کامیابی سے جھانک سکتا ہے اس کا بخوبی اندازہ اس کتاب سے ہو جاتا ہے۔ 1958 میں لکھی گئی یہ کتاب بقول مصنف کے پچاس سال بعد کا سیاسی منظر نامہ ہے اور کیا بہترین کارنامہ ہے کہ ہم مصنف کی پیشن گوئی لفظ بہ لفظ سچ دیکھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس زمانے کے کسی طنز نگار نے موجودہ وزرا اور سیاست دانوں کی سیاہ کاریوں کو انتہائی باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد نشانہ بنایا ہے۔ کہانی کا پلاٹ بھی بڑا دلچسپ اور منفرد ہے۔ مزاح نگاری بھی حدود میں رہ کر کی گئی ہے۔ یہ ناول ثابت کرتا ہے کہ نسیم حجازی کا قلم ماضی اور مستقبل دونوں زمانوں کی تصویر کشی میں کامل مہارت رکھتا ہے ماشاء اللہ۔ البتہ ایک مسئلہ جو نسیم کو پڑھنے والوں کو پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر وہ اس دور کے پڑھے لکھے ہیں تو نسیم کے نسبتا طویل اور خوبصورت مربوط قسم کے جملے ان کی سمجھ میں نہیں آتے جس کی وجہ سے نسیم کے ناولوں کو وہ پذیرائی نہیں مل پاتی جس کے وہ حق دار ہیں۔
A good comedy of manner is one that doesn't feel old or unrelatable even if read after decades that's the case with this one more than half century has passed since this masterpiece was written and its still relatable alas to our society and hats off to Naseem hijazi. He is the reason I read this book but I didn't knew it was that good the satire is too good and the metaphors are upto the mark if you are interested in politics and have a sensible mind too then one should read it!
نسیم حجازی وہ مصنف ہیں جن کی کتابوں سے مجھے بہت زیادہ توقعات ہوتی ہیں۔ان کی تاریخی فکشن کی کتابیں تو میری پسندیدہ ہیں ہی مگر اس بار طنزو مزاح سے بھرپور اس کتاب نے بھی مجھے مایوس نہ کیا۔ یہ کتاب ایک warning ہے جو بقول مصنف مستقبل کے لوگ بہتر سمجھ پائیں گے۔ نسیم حجازی کا مستقبل کا قاری ہونے کے ناطے مجھے لگا کہ یہ کتاب آج کے دور والوں کو ہی مخاطب ہے۔ یہ کتاب ایک کہانی سناتی ہے جو کہتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
ایک شہر تھا امن و سکون کا گہوارا۔ سر سبز و شاداب ہریالی سے منور۔ معدنیات کی فراوانی سے لبریز۔ سب کچھ تھا ان کے پاس بس تھوڑی سی آپسی پھوٹ تھی جو ان کی تمام نعمتوں کو ڈبو بیٹھی۔ ان کی نا اتفاقی کے باعث ان کی حدود میں ایک خلائی مشین داخل ہوئی، جس میں سے نکلنے والے کو وہ اپنا دیوتا مان کر تخت پر بٹھا بیٹھے۔ کنگ سائمن نے ان کی نا اتفاقی کی تلوار سے ان کے سینوں کو اتنا کھروچا کہ بالآخر وہ متحد ہو کر اس آسمانی بلا کے آگے چلا اٹھے۔
خود کو مریخ کا شہری کہنے والا اور بندر کے دماغ کا مالک کنگ سائمن اس سپیس شپ میں کیسے پہنچا اور سفید جزیرے سے کیسے نکلا یہ آپ کو کتاب ہی بہتر بتا سکتی ہے مگر اس جیسے لوگوں کی چال بازیاں جاننے کے لیے ہمیں کتاب پڑھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ایسے مریخی حکمران ہم صدیوں سے بھگتا رہے ہیں جن کی پیدائش علاقائی، رنگی، زبانی اور کبھی مذہبی تفرقے کے باعث ہے۔
A Political Satire written in such a beautiful manner. The humour, message and the overall story is just amazing. I don't know why this book isn't that much talked about. If you are from any part of the world (especially from India or Pakistan ), you will get to know how the story of this book is relevant with the current political situation. It was written in late 50s(i guess), but it is still so much relatable. A Must Read. P.S: I haven't seen any other book which has this kind of humour.