Jump to ratings and reviews
Rate this book

Teesre Paher Ki Kahaniyan / تیسرے پہر کی کہانیاں

Rate this book

112 pages, Paperback

First published January 1, 2002

3 people are currently reading
39 people want to read

About the author

Asad Muhammad Khan

14 books20 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
8 (30%)
4 stars
11 (42%)
3 stars
5 (19%)
2 stars
1 (3%)
1 star
1 (3%)
Displaying 1 - 10 of 10 reviews
Profile Image for MI Abbas.
74 reviews30 followers
December 4, 2021
اسد محمد خاں کے افسانوں کو ادبی حلقوں میں بہت سراہا جاتا ہے۔ شاندار طرز بیاں، اچھوتے کردار، مختلف بولیوں کے عکاس لہجوں سے سنوری زبان اور قصہ گوئی میں خاص مہارت نے انھیں عہدِ حاضر کے ادیبوں میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ تاہم جب ان کی کتاب ’تیسرے پہر کی کہانیاں‘ موصول ہوئی تو اس کےحجم نےمجھے قدرے مایوس کیا۔

محض ایک سو دس صفحات کی مختصرسی کتاب دیکھ کر خیال آیا کہ نہ جانے یہ ایک تشنہ لب کو سیراب کر بھی پائے گی یا یونہی لب جو پیاس سے بلکتا چھوڑ دے گی۔ لیکن کتاب پڑھی تو گویا ایک حیرت کدہ آباد پایا۔

کہانیاں مختصر مگر جامعیت کا شاہکار۔ اندازِ تحریر مختصر مگر اس قدر پرمغز کہ زینسر کا یہ قول یاد آگیا ’خوبصورت ترین تحریر وہ ہوتی ہے جس میں کوئی بےمصرف یا غیر موزوں لفظ نہیں ہوتا۔’ خیال آیا کہ اس ۲۲۰۰ حروف کی حد بندی میں خاک لکھا جاتا ہے ہم سے، اگر اسد محمد خان سے یہ ہنرسیکھ کر انسٹا کےکیپشن لکھے جائیں تو کمال نہ ہوجائے!

ان کی یہ کتاب مختلف النوع اصناف سے مرصع ہے۔ افسانے ہیں کہ کبھی تاریخی اور کبھی معاشرتی رنگ میں رنگے ہوئے، سیاسی پہلودار مزاح بھی ہے، آپ بیتی کی چاشنی بھی ہے اور خطوط نما مضامین کا ذائقہ بھی۔ یہ کہانیاں نہ صرف دلچسپ ہیں بلکہ ان کے موضوعات میں بھی بڑا تنوع ہے۔ موضوعات کا یہ تنوع، ہمیں ان کے مطمع نظر کی نیرنگیوں اور فکشن کی طرح دار جہتوں پر ان کے انوکھے تجربات سے روشناس کراتا ہے۔

تاریخی کہانیوں میں فیروز شاہ تغلق اور شیر شاہ سوری کے ادوار کی زبان اور جاندار منظر نگاری ایک نامحسوس طریقے سے قاری کو گئے دنوں کے سفر پر لے جاتی ہے۔ پھر ایک تنہا جوان بیوہ کی کہانی، جس پر محلے کے مولوی کے پیغام کو ٹھکرادینے پر گستاخی کا جھوٹا الزام لگا کر معاشرے کا سیاہ چہرہ اس بے دردی سے بےنقاب کیا جاتا ہے کہ قاری نہ صرف حال میں لوٹ آتا ہے بلکہ اپنے آپ کو اسی قعرِ مذلت میں گرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایک یوگوسلاوی مسلمان پر سرب سپاہیوں کے غیر انسانی تشدد کی ہولناک داستان کا ترجمہ ہے، جس نے ماضی کے زخم بڑی ہی بے دردی سے کرید کر رکھ دیے۔ اور ایک عورت کی عجیب کہانی جو ویرانے میں ایک چیتے کے ساتھ رہتی ہے۔ غرضیکہ قاری ان کہانیوں کی بدولت کئی صدیوں کا فاصلہ محض ایک ہی جست میں طے کر لیتا ہے۔

گزرتے لمحوں کے ساتھ انسانی زندگی کےہر آن بدلتے نو بہ نو رویے، جن کا تغیر امتداد زمانہ سے مشروط بھی نہیں ہوتا۔ یہی رویے اس کتاب کے موضوعات ہیں،اور کیا خوب موضوعات ہیں! انھیں پڑھ کر ہی اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس طرح ایک ماہر مجسمہ ساز مخصوص زاویوں پر بڑی ہی نپی تلی ضربیں لگا کر ایک شاہکار تخلیق کرتا ہے۔
Profile Image for Salman Khalid.
106 reviews86 followers
July 2, 2018
بے حد کو کتنی دفعہ لکھوں کہ وہ ’بے حد‘ ہوجائے؟ ۔ ۔ ۔ جتنی مرتبہ آپ ضروری سمجھتے ہیں اتنی تعداد میں بے حد لکھ کر کہنا چاہوں گا کہ کتاب ’بے حد‘ پسند آئی۔

اسد خاں صاحب کا انداز ایسا میٹھا ہے لکھنے کا کہ جرعہ جرعہ چسکیاں لیتے پڑھتا چلا جائے انسان۔ گو کہ زبان تھوڑی مشکل لکھتے ہیں مگر اتنی مشکل بھی نہیں کہ بار بار پڑھنی پڑے۔ اس پر چیریز آن ٹاپ افسانوں کے موضوعات؛ کبھی ماضی میں لے جاتے ہیں جہاں فیروز تغلق رعایا سے معافی نامے خرید رہا ہے(دارلخلافے اور لوگ)، تو کبھی سوری دور کی شراب کی بھٹی میں ایک دلال سے ملاقات کرواتے اور اس کا عبرت ناک انجام لکھتے ہیں(روپالی)۔ یا ایک الف زئی نوجوان کا قصہ جو قتل کی ثالثی میں ایک دلچسپ فیصلہ سناتا ہے(اپنے لوگوں سے سنی ایک شگفتہ کہانی)۔ ۔ ۔ ماضی کو پیش اس طرح کیا ہے کہ کردار، ان کی بولی، اردگرد کا ماحول، کچھ بھی نامانوس نہیں لگتا جو بلاشبہ لکھنے والے کے تخیل اور قلم کا کمال ہے۔
جاہل انا و انتقام کا قصہ ’عون محمد وکیل، بےبے اور کاکا‘ تو ہر مولوی کے سلیبس میں داخل کرنا چاہیئے۔ بے حد پُر اثر افسانہ ہے۔
ان کے علاوہ چند نیم مزاحیہ انداز کے شذرے بھی شاملِ مجموعہ ہیں جو دلچسپی قائم رکھتے ہیں۔
لندن کا ایک مختصر دلچسپ سفرنامہ بھی ساتھ ہے (گنجے ایڈورڈ کا سورج) جو مکتوب کی شکل میں لکھا ہے۔ اس میں ریڈ لائٹ ایریا ’سوہو‘ (بقول اسد خاں صاحب کہ جو بھی اس کوچے میں چلا جائے تو بس جو ہو، سو ہو!) کی مٹرگشتیوں کا احوال بہت اچھا لکھا ہے۔ (یہاں یہ کہنا کہ ’مجھے بہت پسند آیا ہے‘ کچھ نامعقول سا لگتا ہے اس لئے الفاظ گھمانے پڑے)۔
الغرض قصہ مختصر، اس سال پڑھی گئی نہایت پسندیدہ کتابوں میں شامل ہوگئی ہے یہ کتاب۔ اچھے اردو ادب کے قارئین بھی اسے ضرور ٹرائی کریں۔

پس نوشت: ہمدمِ ہمنام جناب سلمان طارق طبیب کے لئے دعا گو ہوں کہ انہوں نے تحفتاََ کتاب دے کے نیکی کا کوئی کام کیا۔
Profile Image for Mujahid Khan.
111 reviews19 followers
November 22, 2020
کافی دنوں کے بعد اردو کی کوئی کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ جاڑے کی رُت میں اس اسد محمد خان کی نثر پڑھ کے اک عجیب سی فرحت ملی۔ یہ کتاب کہانیوں کا ایک مجموعہ ہے جس میں ہر کہانی اپنے اندر ایک دنیا بسائے ھوئے ہیں۔ اسد محمد خان سے مرا یہ پہلا تعارف تھا مگر انکی خوبصورت نثر پڑھ کر اب انکی اور کتب بھی پڑھنا واجب ہوگئی ہے۔
Profile Image for Osama Siddique.
Author 10 books351 followers
February 14, 2025
This volume demonstrates once more Asad Ahmad Khan's versatility and multifariousness as a writer.

For me the most memorable stories are the historical ones where he masterfully weaves facts, myth, tradition and informed speculation and brings to life an era through immaculate and atmospheric detail of description and joyful use of dialects. Foremost is "Darulkhilafay aur Loag" about the Feroz Shah Tughlaq era; his scheme to incentivize citizens to write out notes pardoning his predecessor Muhammad Tughlaq for his excesses (which are to be buried besides his grave and to hopefully come to his aid on Judgment Day; the defiant young woman who wants to leave a letter condemning him instead for all the personal loss she attributes to him, and the mysterious man who comes to her aid in the heart of royal sphere of influence. Quite apart from capturing an era it is a poignant and hard-hitting story about despotism in general, the vast and cruel displacement caused by grand royal projects and conquering sprees, and the eventual anxiety even on part of the conquerors to not be remembered as tormentors. Another delightful historical story is "Roopali" that is set in magical Mandu all the way down South in the era of Sher Shah Suri and provides a contrast as under a just ruler life is gentler and easier for many and criminals find the going much tougher. The characters of the child traffickers are well drawn and the dialogue is delicious. "Khilti Dhoop Ujlay Sayay" uses an episode to once again extol Sher Shah Suri.

"Aun Muhammad Wakeel, Bebe aur Kaka" is a plainly told but very powerful story about challenges faced by an entrepreneurial single woman raising a child, a two-faced and manipulative cleric, a fickle society and the fact that how convenient it is for personal vendetta to proceed unobstructed under the guise of religion and piety and employing false accusations of sacrilege and blasphemy.

"Tasveer sai nikla huwa Admi" is stylistically and thematically a very different story with strong symbolism. It is about a mysterious - and as it turns out, repeatedly exploited - woman who lives in the wilderness, in outwardly great comfort, with her pet Cheetah.

"Sheher-e-Murdagan" provides the interesting narrative of how Asad Muhammad Khan - also a prominent screenplay writer - co-wrote the script of the famous historical TV serial 'Shaheen,' endeavoring to balance the rather agenda driven and self-serving (both by the author and his benefactor the dictator Zia) historical romance novel set in the last days of Granada.

"Aik Tehreer - Ivo Andric" translates a short and harrowing passage by Yugoslav Nobel laureate Ivo Andric about the brutal impalement of a Muslim by a group of Serb soldiers.

There are seven additional pieces that range between political satire on US President George Bush's colonoscopy as well as on post-colonial efforts in Britain to teach young students about the 'glorious past,' a massacre in Sindh and strident official attempts to underplay it, a tale of revenge by a garrulous storyteller, a poem about migration and getting to know and be accepted by a new Great River, a strange arbitral award in a tribal setting, and a humorous rendition of personal experiences as a story writer who would rather just write stories but has to pay the bills by writing TV screenplays.

I have also reviewed other books of short stories by Asad Ahmad Khan on GoodReads

Khirki Bhar Asman at https://www.goodreads.com/review/show...
Narbada at https://www.goodreads.com/review/show...
16 reviews2 followers
Read
December 11, 2021
Asad Mohammad Khan is a master story teller of Urdu. In the past five decades hardly anyone else has come up to his standard. Versatile writer and a great dreamer who imagines an entire cosmos and writes about it.
2 reviews
January 27, 2025
کتاب: تیسرے پہر کی کہانیاں
مصنف: اسد محمد خان
تبصرہ: منیب الرحمان

سال 2025 کی دوسری کتاب بھی مکمل ہوئی!
کچھ مصنفین سے آپ کا تعارف بہت دیر سے ہوتا ہے مگر دیرپا رہتا ہے، اسد محمد خان صاحب بھی انہی میں سے ایک ہیں، فکشن میں آج سے یہ میرے پسندیدہ مصنفین میں شامل ہوچکے ہیں،(دیر آید درست آید)۔

خیر, مذکورہ بالا کتاب "تیسرے پہر کی کہانیاں" کا تعارف محترمہ اقصیٰ گیلانی صاحبہ کے اس گروپ میں ہی کیے گئے ایک تبصرے سے ہوا، اور اس تبصرے نے ایسا متاثر کیا کہ فوراً سے پیشتر کتاب کا آرڈر کیا۔ کتاب موصول ہونے کے بعد یقین مانیے، ایک بہترین مشغولیت ہاتھ آگئی، اور کتاب مکمل ہونے تک ذہن اسی میں اٹکا رہا۔

ویسے تو اقصیٰ گیلانی صاحبہ کے جامع تبصرے کے بعد کچھ کہنے کی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی۔ لیکن پھر بھی دل چاہتا ہے کہ اس بہترین کتاب کی تعریف میں چند الفاظ ضرور کہے جائیں۔

اچھوتے اور منفرد موضوعات پر لکھی گئی ہلکی پھلکی مختصر تحاریر پر مشتمل یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک شاندار متبادل ہے جو اپنی روزمرہ کی مصروفیات سے بیزار ہو کر سکرین پر وقت ضائع کرتے ہیں۔ یوٹیوب یا ٹک ٹاک کی شارٹ ویڈیوز کے بجائے اس کتاب کو اپنے ہاتھوں میں تھامیں، اور یقین کریں، آپ کا وقت نہ صرف بہتر استعمال ہوگا بلکہ آپ کی سوچ کا زاویہ بھی بدلے گا(بور ہوجانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا)۔

مصنف کے انداز بیان کا بہاؤ اور انداز تحریر کمال کا ہے۔ یہ کتاب قاری کو کہانی کے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ ہر جملہ، ہر لفظ ایک مکمل کہانی ہے۔

باذوق احباب کی دلچسپی کے لیے اس کتاب سے چند اقتباسات :

1. "گاتے گنگناتے لوگ کسے اچھے نہیں لگتے؟"

2. "کمال اس نے کیا تھا، ایک کٹیلے کو پرسکون کر دیا تھا، جبکہ طوفان کا زور ابھی ٹوٹا نہیں تھا۔ بادل اسی طرح گرج رہے تھے۔

3. "یہ صاحب مجھے گناہوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ سمجھو جنتی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ میں جو اکیلی رہ کر تمہاری پرورش کر رہی ہوں تو یہ کفرانِ نعمت ہے جو گناہ ہوتا ہے۔"

4. "کاکے نے پیش امام سے کہا، پرورش کرنا گناہ نہیں ہوتا۔"

5. "یہ ماں بیٹے کی گفتگو ہے۔ آپ کو پسند نہیں ہے تو چلے جائیے۔"

6. "ایک بادشاہ اگر ان کی زندگیوں میں بے وجہ دخل نہ دیتا تو آج یہ سب ہی جیتے ہوتے۔محرومی اور بھوک اور افلاس اور بیماری اور موت کا شکار نہ ہوجاتے۔"

7. "چاندی خرچنے سے مغفرتیں نہیں ملتیں۔"

8. "احترام کے قابل یہ انسانی بدن خود انسان کے ہاتھوں کیسی توہین برداشت کرتا رہا ہے...(رہےگا)"

9. "راجدھانیوں میں تو خاص طور پر کسی کا اپنا کوئی نہیں ہوتا۔"

اس کتاب کا ہر جملہ زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کو چھوتا ہوا دل و دماغ کی گہرائی میں جااترتا ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھی تو ضرور وقت نکال کر اسے پڑھیں۔ یہ صرف کہانیاں نہیں، بلکہ زندگی کے کئی رنگوں کا مجموعہ ہے۔

11 جنوری 2025
Profile Image for Shahzina Shafi.
79 reviews6 followers
June 28, 2024
"ایک قدیم زمانے کے ماحول اور کرداروں کو ہمارے سامنے اس طرح پیش کرنا کہ ہمیں مانوس لگیں اسد محمد خان کے تخیل اور قلم کا کمال ہے۔ قاری ایک ہی جست میں سینکڑوں سال پہلے پہنچ جاتا ہے جیسے اس کے ہاتھ میں کوئی طلسمی دور بین آ گئی ہو۔ "
معاصر، قدیم اور عالمی تحریروں پر مشتمل یہ مختصر سی کتاب اپنے منفرد انداز بیاں اور متنوع موضوعات کی بدولت مجھے اچھی لگی ۔ یہ اسد محمد خان صاحب کی چوتھی کتاب ہے جو میں نے پڑھی ہے۔ اس سے پہلے کھڑکی بھر آسماں، یادیں: گزری صدی کے دوست اور ٹکڑوں میں کہی گئ کہانی، میں پڑھ چکی ہوں۔ اسد محمد خان صاحب کی کہانیوں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ان کے کرداروں کی زبان ان کے ماحول اور دور کے مطابق ہوتی ہے۔ ان کے کردار چاہے جاہل اجڈ اور گنوار چور اچکے ہوں یا پھر کسی قدیم سلطنت کے بادشاہ ان کی زبان بغیر کسی ملاوٹ کے ان کے ماحول کے عین مطابق ہوتی ہے۔ یہ اسد محمد خان صاحب کی خامہ فرسائی کا ہی کمال ہے کہ انہوں نے شیر شاہ سوری اور فیروز شاہ تغلق کے تاریخی ادوار کو کہانی کی صورت ادب کے لطیف پیرائے میں اس طرح سے بیان کیا ہے کہ قاری اس قدیم ماحول اور اس کے کرداروں سے اجنبیت کے بجائے مانوسیت محسوس کرتا ہے۔ تا ہم کچھ کہانیوں میں ان کا انداز علامتی اور تمثیلی ہو جاتا ہے جس کو بعض اوقات سمجھ پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسد محمد خان صاحب کی کتابیں پڑھنے کے لیے آپ کا تاریخ، اردو ادب اور عالمی ادب میں مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے۔ نہیں تو آپ ان کی کہانیوں سے وہ لطف نہیں اٹھا پائیں گے جو کہ ان کی کہانیوں کا بنیادی حق ہے۔
Profile Image for Aslam Mir.
12 reviews7 followers
April 20, 2021
A medley of various stories,story-like essays,letters and scathing social and political satire and translations.A couple of historic and autobiographical stories with complicated dimensions. The word play and fiction is unique which is the hallmark of Asad Muhammad Khan's stories.
Profile Image for Nimrah.
9 reviews3 followers
May 30, 2021
دل نشین نثر اور اس میں خاموشی سے بہتی ہوئی کہانیاں۔ اس مجموعے میں صنوبر کی کہانی بار بار پڑھنے پر بھی تازہ بہ تازہ معلوم ہوتی ہے۔
Displaying 1 - 10 of 10 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.