ایرک جو کہ اسرائیل کا وزیرِ دفاع رہا اور پھر گیارہواں وزیراعظم بنا، ۲۰۰۶ میں دماغ کی رگ پھٹنے سے ہسپتال میں داخل ہے۔ نیم بے ہوش ہے۔ ظاہری ایکٹیویٹی ندارد۔ پر وہ اپنے مختلف معالجوں سمیت غیر مرئی لوگوں کی آوازیں بھی سُن رہا ہے، جن کا اس کی زندگی سے کسی سطح کا تعلق رہا ہے اور وہ اس کے عتاب کا نشانہ بنے۔ جواب بھی دے رہا ہے(صرف اپنے طور پر، پر غیر مرئی لوگ کافی حد تک 'بلڈوزر' سے ہم کلام ہو رہے ہیں) وقتاً فوقتاً بے ہنگم شور ہے جو اسے دیکھنے آ رہے۔ کچھ وہ بھی ہیں جو اب دنیا میں نہیں رہے۔ ازرے ئیل ریاست کی یہودی بالادستی کو جو مظلوم عربوں کے اوپر جن کا نہ تو پوگرام میں کوئی کردار ہے نہ ہی ہولوکاسٹ میں، ثابت کرنے کی کشمکش میں مبتلا ایرک (ایک انتہائی مادیت پرست، خدا پر یقین نہیں ) ہسپتال میں مختلف مظلوم انسانوں اور روحوں کے شور کو نفسیاتی (روحانی) بوجھ سمجھ رہا ہے۔ ازرے ئیلی بالا دستی کو قائم رکھنے کے تعاون میں برطانیہ اور امریکہ پیش پیش رہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے بعد زمین عنایت کی اور امریکہ نے عالمی دنیا کے ہر اس قانون کو جھٹکارا جو ازے رئیل کے خلاف ہوتا۔
میکسم جیبی: میں ایک پلے لکھ رہا ہوں اوکی ناوا میں ایک جاپانی لڑکی کا ریپ، زبردستی کا جنس فعل، ریپ کرنے ولے امریکی نوجوان۔ سال ۲۰۰۶ جاپانیوں کی بے بسی The cobra eye effect of super power . کبھی جاپان کو امریکہ پر فوجی اور تجارتی پابندیاں لگوانے کا خیال آیا؟ سارہ (ہنگری کی سانولی یہودن) : میکسم اپنے پلے کا اختتام کیا رکھو گے؟ میکسم: ' عالمی عدالت کا فیصلہ : امریکہ سزا سے بالا ہے۔' "
اس تاریخی ناول کے مختلف پہلو ہیں؛ سپر پاور کا ہر قانون سے بالا ہونا، اسرائیلی جارحیت، فلسطینیوں کا مردِ میدان رہنا اور ضمیر کی عدالت۔ اسرائیلی جارحیت کو خوبصورت انداز میں مکالمی شکل میں ڈھالا گیا ہے۔ ناول کے کردار قوی اور پلاٹ منفرد ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ۔ کرداروں کا مزہب مختلف ہے (جو فلسطین میں کسی نہ کسی شکل میں ایرک کے غضب کا شکار رہے ہیں )اور ایرک (جو کہ اسرائیل کا وزیرِ دفاع اور وزیراعظم تھا ) کی حواس باختہ حالت میں ظاہر ہوتے ہیں (ایرک کے لیے) اور اسے اپنی آوازوں سے تنگ کرتے ہیں۔ ضمیر کی خلش کا اظہار اچھوتا ہے، گویا ایرک ہرگز ماننے کو تیار نہیں کہ اس نے جو کیا غلط کیا پر اس کی زبان بار بار ازرے ئیل کی جگہ 'فلسطین' کا نام لینے سے نہیں چوکتی۔
"بیویریا کی نرس حنّا: کبھی تو ایسا ہو کہ رات کو تھک کر سونے کے بعد صبح کو آنکھ اس یقین کے ساتھ کھلے کہ اب ہمارے مردوں کے لیے کوئی معرکہ سر کرنے کو نہیں ہے۔ ہم جہاں جی چاہے، جائیں، کہیں بھی، کسی بھی ٹیلے پر، پورب ہو یا پچھم، اتر ہو یا دکن رات پڑ جانے پر چادر بچھا کر سو جائیں۔"
کچھ کتابیں اپنے انداز بیاں اور موضوع کی انفرادیت کے باعث آپکی یاداشت ہی نہیں، آپکے دل پر بھی ایک دیر پا اثر چھوڑتی ہیں۔ "حبس" ایسی ہی ایک کتاب ہے۔
س ناول کو اردو ادب کا ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ کتاب میں سابق اسرائیلی وزیرِاعظم ایریل شیرون کے ذہن کا نفسیاتی اور فلسفیانہ گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے، جو 2006ء میں فالج کے حملے کے بعد کئی برس تک کومے میں رہا اور بالآخر اسی حالت میں جہنم واصل ہوا۔ مصنف نے اپنے نفسیات کے علم اور تجربے کو سیاسی و اخلاقی تبصرے کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے ایک ایسے رہنما کے داخلی انتشار کو موضوع بنایا ہے جس کی سیاسی زندگی تشدد سے عبارت رہی۔ ساتھ ہی یہ ناول فلسطینی عوام کے وسیع تر تاریخی المیے اور ان کی جدوجہد کو بھی سامنے لاتا ہے۔ ایریل شیرون تل ابیب کے ہداسہ ہسپتال میں کومے کی حالت میں بے خبر اور لاچار پڑا ہے۔ اس کے پاس مختلف آوازوں کی صورت میں ایسے ملاقاتی آتے ہیں جن کا کوئی مجسم وجود نہیں، مگر شیرون کے لیے وہ نہایت حقیقی اور مجسم ہیں۔ ان آوازوں میں مقامی فلسطینی مسلمان بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض اس کے ہاتھوں مارے گئے؛ فلسطینی عیسائی، صہیونیت مخالف یہودی ربی، فلسطینی یہودی، حتیٰ کہ خود اسرائیل میں رہنے والے غیر صہیونی یہودی اور عیسائی بھی۔ اگرچہ شیرون کو اپنے کیے پر واضح اور حقیقی پچھتاوا محسوس نہیں ہوتا، لیکن یہ آوازیں اس کے لیے مسلسل اذیت اور ذہنی کرب کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ناول روایتی ناولوں سے خاصا مختلف ہے اور اس میں نہایت ہمہ گیر اور جاں گسل تحقیق کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ اس میں شیرون محض ایک سابق اسرائیلی وزیرِاعظم کی حیثیت سے نہیں، بلکہ صہیونی سیاسی ذہن اور اسرائیلی ریاست کے تاریخی و نظریاتی تناظر کی ایک علامت کے طور پر بھی سامنے آتا ہے۔ مصنف چونکہ خود ماہرِ نفسیات تھے، اس لیے انہوں نے کارل یونگ کے نظریۂ ’’اجتماعی لاشعور‘‘ (Collective Unconscious) کو بروئے کار لاتے ہوئے شیرون کی سوچوں اور یادوں کے ذریعے یہودی تاریخ کے مختلف ادوار کو کھنگالا ہے، اور ساتھ ہی جدید صہیونی ذہن میں موجود تشدد، نسلی تفاخر، بے حسی اور دوسرے انسان کو غیر انسانی سمجھنے کے رجحانات کا نفسیاتی تجزیہ کیا ہے۔ مصنف کی گرفت صرف ناول کے ادبی اور نفسیاتی پہلوؤں تک محدود نہیں، بلکہ بائبلی تاریخ، بالخصوص عہدنامۂ عتیق (Old Testament) کے گہرے مطالعے کی بھی غماز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول میں ’’چوہے‘‘، ’’ٹڈیاں‘‘، ’’مینڈک‘‘، ’’جوئیں‘‘ اور ’’پہلوٹھی کے بیٹے‘‘ جیسے ابواب بھی شامل ہیں، جن کا واضح اشارہ کتابِ خروج (Book of Exodus) میں بیان کردہ مصر کی دس آفتوں (Ten Plagues of Egypt) کی طرف ہے۔ یہ آفتیں بھی شیرون کے ذہنی کرب کا حصہ بن کر اسے اذیت دینے آتی ہیں۔ ناول میں بیان کیے گئے واقعات تاریخی اعتبار سے درست ہیں، لہٰذا مصنف نے فکشن اور نان فکشن کے درمیان موجود باریک لکیر کو بڑی حد تک مٹا دیا ہے، جس کے باعث قاری اس کتاب کو مزید سنجیدگی سے پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ واقعات کسی خاص ترتیب کے ساتھ بیان نہیں کیے گئے، بلکہ اسی طرح بے ربط اور منتشر ہیں جیسے کسی شخص کے لاشعور یا تحت الشعور میں بسے خیالات ہوتے ہیں۔
اس کتاب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے صیہونیت اور فلسطین کی قدیم و معاصر تاریخ سے کسی حد تک واقفیت ضروری ہے۔ تاہم، اگر اس پس منظر کا پہلے سے مطالعہ نہ ہو تو کتاب کے ساتھ ساتھ متعلقہ تاریخی واقعات، شخصیات اور سیاسی تناظر پر تحقیق کرتے چلنا بھی اس کے مفہوم اور گہرائی کو سمجھنے میں خاصا معاون ثابت ہوتا ہے۔
کتاب قاری کو ایک غم و غصے کی مسلسل کیفیت میں مبتلا رکھتی ہے۔ آپکے ذہن میں وہ سوال اٹھاتی ہے جن کے جواب شاید کبھی ملنے ممکن نہیں۔
ناول کا نام "حبس" بھی بہت موزوں چنا گیا ہے۔ یہ حبس، فلسطینیوں کی حالت زار کا عکاس بھی ہے، ایریل شیرون کی حالت کومہ میں وارد ہونے والی منتشر سوچوں کے نتیجے میں پیدا کرنے والی گھٹن کا بھی عکاس ہے اور گو ایک طرح سے بعید از امکان خیال ہے مگر یہ حبس اس سنہری جیل کا بھی ہے جو اسرائیل کی شکل میں یہود نے اپنے لیے بنا دی گئی ہے۔
اس کتاب کا ایک بار مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو فلسطینی جہدوجہد سے آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہو اور منفرد موضوعات پر لکھی کتب کا شوقین ہو۔ ❤️