فراز تُو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحبِ زر اور صرف شاعر تُو
...
اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تُو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
...
کل اک فقیر نے کس سادگی سے مجھ سے کہا
تری جبیں کو بھی ترسیں گے آستانے جا
...
ترسا دیا ہے ابرِ گریزاں نے اس قدر
برسے جو بوند بھی تو سمندر لگے مجھے
تھامے رہو گے جسم کی دیوار تابکے
یہ زلزلہ تو روح کے اندر لگے مجھے
...
کتنا ویراں ہوچکا ہے میری ہستی کا جمال
تجھ سے بچھڑا ہوں تو آج آیا مجھے اپنا خیال
...