جمال احسانی ایک جدید احساس کا نام ہے ایک عجیب زندگی کا نام ہے غزل جمال احسانی کی شخصیت میں رچی بسی ہے، فرسودہ رومانی خیالات سے باہر جا کر جمال نے شاعری میں نئے رنگ بھرے ہیں.
نہ اجنبی ہے کوئی اور نہ آشنا کوئی اکیلے پن کی بھی ہوتی ہے انتہا کوئی
اسے بچا لیا آوارگان شام نے آج وگرنہ صبح کا بھولا تو گھر چلا جاتا
آگاہ میں چراغ جلاتے ہی ہو گیا دنیا مرے حساب سے بڑھ کر خراب ہے
یہ خبر اخبار میں کیوں کر نہ آئ اک شجر کا حسن چوری ہو گیا تھا