An intricate sweeping look at the new Pakistani society that emerged after the partition of British India into modern day countries of Pakistan and India and how religion, greed and politics, along with compassion, innocence and sense of justice and community shaped the fledgling and diverse group of people. Funny, irreverent and sharp in its insights with precise use of language and evocative representation of time and place.
اتنا خوبصورت ناول ہے اور اس کا ہر کردار اتنا نرالا اور الگ سا ہے کہ مجھے نہیں لگتا میرے جیسا ادنیٰ قاری اس پہ بات کر کے اس کی کہانی ،کردار نگاری، واقعاتی بیان کے ساتھ انصاف کر پائے گا۔ خان ذولقرنین اور مارگریٹ جیسے کردار کب روز روز لکھے جاتے ہیں۔ ریشم جان(کبوتری) جیسا کردار تخلیق کرنا بھی تو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ پھر جلال خان جیسا سرپھرا کردار لکھنے والے پہ الہام ہوتا ہے۔ ملک خالد جیسے رذیل آپ کو اکثر اپنے آس پاس نظر آ جاتے تو خان اسلم اور بیگم خان اسلم جیسے لوگ بھی تو اسی معاشرے میں سانس لیتے ہیں کہ نیکی ، بھلائی اور عبادت کے خودساختہ معیار کو ہی سب کچھ جان کر انسان اور انسانی حق حقوق سے یکسر منہ موڑ لیتے ہیں۔ حاجی جیسے اکا دکا فرد سے معاشرے کا تقریباً ہر شخص واقف ہوتا جو اپنی زبان کی تیزی اور چاپلوسی سے کام نکالتا جاتا ہے۔ سائیں سُچا اور مستو جیسے لوگ بھی اسی دھرتی پہ جیتے ہیں ۔ پانچ سو چھہتر صفحات میں۔ تخلیق پاکستان سے لیکر اسی کی دھائی کے وسط تک ، پاکستانی معاشرے کے نسبتاً عروج سے زوال ( اور زوال بھی ایسا ویسا) کو شاید ہی اس سے بہتر انداز میں کبھی بیان کیا جا سکے۔ ہمارا معاشرہ ایک ایک کر کے بھائی چارے، اخلاص،خوش خلق، معاشرت اور مذھبی روایات جیسی خوبصورت صفات سے محروم ہوتا چلا گیا اور اس کی جگہ عدم برداشت ، لوٹ کھسوٹ اور مذھبی شدت پسندی لیتی چلی گئی۔ معاشرہ کسیے دن بدن گھٹن کا شکار ہوتا چلا گیا جہاں ، جلال ، مارگریٹ، سائیں سچا، حافظ برخوردار، ذولقرنین جیسی روحوں کا جینا دن بدن مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا ۔ اس ناول کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کہ کیسے انداز بیان کو مشکل اور دقیق بن بغیر، بنا کوئی لمبی فلاسفی جھاڑے کیسے معاشرتی بگاڑ کو بیان کیا جاسکتا ہے۔ اور معاشرے کے ان طبقات کی منافقت اور جبر کو بنا لگی لپٹی رکھے پڑھایا جا سکتا ہے جو ارض مقدس کے تقریباً تمام مسائل کی وجہ اور جڑ ہیں۔ میں نے یہ ناول پڑھ کر رب کا شکر بھی اداء کیا کہ وطن عزیز کے چند طبقے شکر ہے کتاب اور خاص کر ادبی کتاب سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ورنہ اس کتاب میں بہت کچھ ایسا ہے جو یقیناً ایسے لوگوں کی نازک طبیعتوں پر یقیناً گراں گزرتا