Jump to ratings and reviews
Rate this book

Dil e man musafir e man

Rate this book

640 pages, Hardcover

First published October 1, 2007

Loading...
Loading...

About the author

Aneeza Syed

19 books17 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
5 (41%)
4 stars
5 (41%)
3 stars
1 (8%)
2 stars
0 (0%)
1 star
1 (8%)
Displaying 1 - 2 of 2 reviews
Profile Image for E..
108 reviews
February 21, 2025
"دلِ من مسافرِ من" کی کہانی بستی کمال پور میں بسنے والے ماسٹر ہدایت اللّٰہ، ان کے بھتیجے اور شاگرد کے گرد گھومتی ہے۔ ماسٹر ہدایت اللّٰہ علم کا ایک ایسا سمندر ہیں جس سے پوری بستی استفادہ کرتی ہے۔
ماسٹر ہدایت اللّٰہ ہی اس ناول کا بہترین اور مرکزی کردار ہیں۔ ان کی شخصیت اور باتوں میں کچھ تھا کہ مقابل ان کی شخصیت کے سحر میں آ جاتا ہے۔ ہر کردار کے ساتھ ان کی گفتگو سادہ، گہری اور raw ہے۔


ماسٹر ہدایت اللّٰہ کا بھتیجا شاہنواز مصوری اور مجسمہ سازی کے لیے لاہور جاتا ہے اور اس کی بغاوت اور سرکشی کے نتیجے میں بستی سے اس کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ ماسٹر صاحب کا شاگرد فراز بھی اسی مقصد کے لیے شہر کا رخ کرتا ہے۔ دونوں کے پاس یکساں ہنر تھا لیکن دونوں الگ راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ خیر اور شر کے اس راستے کے انتخاب کا تضاد ہی اس کہانی کا سب سے اہم پہلو ہے۔ مصنفہ نے بڑی گہرائی سے دکھایا ہے کہ انسان کی زندگی کے فیصلے کس حد تک اس کی شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
کہانی کے بیشتر کردار خود ترسی، نفسیاتی کشمکش، identity crisis کا شکار ہیں۔ ڈی سوزا فیملی، جو اقلیت ہیں، وہ ان میں نمایاں ہیں۔ معاشرے کا رویہ اور تعصب انہیں مسلسل جدوجہد پر مجبور کرتا ہے اور ان کے identity crisis کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

"واقعات کے تسلسل پر غور کرو، بہت سی باتیں خود ہی سمجھ آ جائیں گی۔"

فراز اس کہانی کا اہم کردار ہے کہ سب کردار اس سے connected ہیں۔
لاہور میں فراز کی ملاقات پہلے شاہنواز اور للی ڈی سوزا، جینس ڈی سوزا، ایلس ڈی سوزا اور لینا ڈی سوزا اور پھر اسفند سے ہوتی ہے جو اس کہانی کا اہم کردار ہے، یہیں سے اسے شہریار اور سارہ شاہنواز کے متعلق علم ہوتا ہے اور واقعات اور کرداروں کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔مصنفہ کے باقی ناولوں کی طرح اس ناول میں بھی بہت سے کردار ہیں اور سب کی کہانی الگ ہے لیکن ایک پوائنٹ پر آ کر سب کچھ کنیکٹ ہو جاتا ہے۔ کہانی کے دوسرے اہم کرداروں میں رباب کیانی، مبینہ کلثوم، منی باجی، زینب بی بی، فیروز بھٹی، آفتاب جمیل اور رابعہ آفتاب شامل ہیں۔

فراز کے کردار کو مصنفہ نے جس حد تک غیر معمولی دکھانے کی کوشش کی، اتنا وہ مجھے لگا نہیں۔ خاص کر آخر میں تقریباً ہر صفحے پر اس کی تعریفوں کے پل باندھے گئے۔ اس کے کردار کو صرف بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ کردار اہم نہیں تھا یا متاثر کن نہیں تھا، لیکن اسے جتنا غیر معمولی دکھایا گیا، اتنا لگا نہیں۔

ناول کا اختتام جذباتی سا تھا، خاص کر شاہنواز اور ماسٹر ہدایت اللّٰہ کے آمنے سامنے آنے کا منظر۔ شاہنواز کی ڈائری انٹریز، اس کے اعترافات اس کے اندرونی خلفشار کو ظاہر کرتے ہیں۔ شاہنواز جس کا دل مسافر تھا، اسے یار نامہ بر کا سراغ اور گھر کا پتا فراز نے دیا۔

یہ ناول پڑھنا میرے لیے ایسا ہی تھا کہ انسان کسی پرانے خط کو کھول کر اسی میں کھو جائے۔
"جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم" اور "شامِ شہرِ یاراں" کی طرح یہ ناول بھی مجھے ناسٹیلجیک محسوس ہوا۔ مصنفہ کا طرزِ تحریر ہی ایسا ہے کہ قاری کو کہانی کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اور ہر صفحے پر تجسس برقرار رکھتا ہے۔
ضرور پڑھیں ✨
Profile Image for Ali Yasir.
99 reviews21 followers
February 6, 2018
Quite a read. This novel keeps the reader with himself. With an intellectual touch of Faraz's master sahb back in the village and the nostalgia of desi family with whom he is in touch in the city makes the story very much interesting.
Displaying 1 - 2 of 2 reviews