Jump to ratings and reviews
Rate this book

Jarnaili Sarak / جرنیلی سڑک

Rate this book
This is Raza Ali Abidi's historic travelogue of the Grand Trunk Road that spans between Kabul (present day Afghanistan) and Chittagong (present day Bangladesh). Originally a BBC documentary by Abidi, aired in 1986, this book retains the format of the original radio programme with the juxtaposition of travel commentary, history and folklore told in varying dialects along the historic road. The GT Road was built by the Afghan-Indian king Sher Shah Suri in the 16th century by following 3rd century BC routes from the Maurya Empire and continues to serve as a primary route through and across four countries in South Asia. This book is part history, part cultural exposition of the cultures and peoples that thrive around this great road.

316 pages, Hardcover

First published January 1, 1989

15 people are currently reading
176 people want to read

About the author

Raza Ali Abidi

38 books36 followers
Raza Ali Abidi (Urdu: رضا علی عابدی‎) is a Pakistani journalist and broadcaster who is best known for his radio documentaries on the Grand Trunk Road and the Indus River. His published works include several collections of cultural essays and short stories. He has worked with the BBC Urdu Service and retired in 1996.

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
19 (33%)
4 stars
22 (38%)
3 stars
14 (24%)
2 stars
1 (1%)
1 star
1 (1%)
Displaying 1 - 8 of 8 reviews
Profile Image for Tarun.
115 reviews60 followers
April 22, 2018
بہت خوب ! ہند و پاک کی تاریخی شاہراہ جی ٹی روڈ کے قرب و جوار کی بستیوں اور باشندوں سے ملتے ملاتے پشاور سے کلکتہ کا یہ سفر بخیر طے ہوا . مشاہدات اور تاثرات کے اس مجموعہ کو ضرور پڑھیں
Profile Image for Syed Muhammad  Hamza .
123 reviews1 follower
September 16, 2023
جرنیلی سٹرک از رضا علی عابدی

یہ کتاب ایک سفر نامہ ہے جو 1500 میل لمبی سڑک پہ سفر کے واقعات پہ مبنی ہے۔ جرنیلی سڑک سے کیا مراد ہے ؟ غالباً آپ کے ذہن میں یہ سوال اُبھرے ! تو اس کا جواب کچھ یوں ہے کہ یہ سڑک جو کہ جی۔ٹی روڈ کے نام سے مشہور ہے اور مشہور افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے اس کو تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔
رضا علی عابدی ایک صحافی اور ادیب ہیں اور جب انہوں نے یہ سفر شروع کیا تب وہ بی بی سی لندن کی اردو برانچ کے ساتھ منسلک تھے اور ان کا ایک پروگرام ریڈیو پر نشر ہوا تھا جس کا نام بھی جرنیلی سڑک تھا۔ بعد میں عابدی صاحب نے اس کو کتاب کی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور ان کا یہ فیصلہ اردو ادب کے قارئین کے لیے ایک بہت بڑا احسان ثابت ہوا کہ ان کی بدولت اتنا بہترین سفرنامہ اُردو ادب کی زینت بنا۔
رضا علی عابدی صاحب نے یہ سفر پشاور سے شروع کیا اور اس کا اختتام ہندوستان کے شہر کلکتہ میں ہوا کیوں کہ جی ٹی روڈ وہیں پہ مکمل ہوتا ہے ، ایک دلچسپ بات جو عابدی صاحب نے اپنے قارئین کو بتائی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں طرف کے عوام کا یہی ماننا ہے کہ جی ٹی روڈ انہیں کے ہاں سے شروع ہوتی ہے ، پشاور والے اسی بات پہ مصر ہیں اور بالکل یہی صورتحال کلکتے میں ہے۔ کلکتے میں جہاں جی ٹی روڈ کا اختتام ہوتا ہے وہاں عابدی صاحب نے ایک آدمی سے پوچھا کہ یہ سڑک یہیں پہ ختم ہوتی ہے ؟ تو ان صاحب کا یہ جواب تھا کہ یہ تو یہاں سے شروع ہوتی ہے اور پشاور تک جاتی ہے اور وہیں ختم ہوتی ہے۔
کتاب میں آپ کو کسی مقام پر بوریت کا شائبہ تک نہیں ہوگا اور آپ جب تک کتاب کو مکمل پڑھ نہیں لیتے آپ کو چین حاصل ہونے سے رہا۔ سفر نامے کی جو سب سے اہم بات مجھے پسند آئی ہے وہ یہ ہے کہ عابدی صاحب نے اس میں عوام سے جس طرح سوالات کیے ان کے جوابات ویسے ہی تحریر کیے جیسے انہیں موصول ہوئے ۔ اس کے علاوہ عابدی صاحب نے جہاں بھی قدم رکھا اس کی خوبصورت عکاسی کی اور جہاں تک ممکن ہو سکتا تھا انہوں نے اس علاقے کی تاریخ مورخوں اور عوام دونوں کے نقطۂ نظر سے بیان کی۔ مصنف نے ادب شناس لوگوں کے تذکرے کے ساتھ سفرنامے کی دلکشی و چاشنی کو بڑھا دیا ہے۔
اسلوب بیان نہایت ہی سلیس زبان میں ہے اور ہر کوئی با آسانی سمجھ سکتا ہے اس میں کہیں بھی عالمانہ انداز نہیں اپنایا گیا ، شاید یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ کتاب قاری کو سحر میں مبتلا کر دیتی ہے اور خود سے جدا ہونے سے روکے رکھتی ہے۔
اردو ادب میں اس طرح کے سفرنامے بہت ہی شاذونادر پائے جاتے ہیں جو کہ آپ کو زندگی کے تمام پہلوؤں سے روشناس کراتے ہیں۔ مختلف تاریخی عمارات ، ان کے تعمیر کیے جانے کے اسباب اور ان سے منسلک واقعات جو آپ کو شاید تاریخ کی کتابوں میں بھی نہ ملیں وہ اس سفر نامے میں موجود ہیں۔ خاص طور پر برصغیر میں علم و ایمان کا نور بکھیرنے والے صوفیاء کرام کی خدمات و کرامات بھی ملیں گی۔ اس سے آپ یہ مت سمجھیں کہ یہ کسی مخصوص مسلک کے لیے لکھی گئی ہے بلکہ یہ تو حقائق سے بھرپور ایک تحریر ہے جس کو پڑھ کر آپ کے علم میں اضافہ ہو گا اور ذوق بلند ہو گا۔

تاثرات و خیالات: سید محمد حمزہ بخاری نقوی
مورخہ 16 ستمبر 2023ء
Profile Image for Umar Farooq.
7 reviews
October 19, 2024
جرنیلی سڑک، ایک بہترین تاریخی دستاویز!

بلاشبہ یہ شاندار سفرنامہ ہے، مگر کتاب پر بات کرنے سے قبل میں دو اہم باتیں بتانا چاہوں گا، پہلی یہ کہ رضا علی عابدی صاحب نے یہ سفر BBC اردو کے ریڈیو پروگرام کے لیے ١٩٨٥ میں پشاور سے کلکتہ تک کیا تھا اور یہ سفرنامہ پہلے تو پندرہ پندرہ منٹ کے ریڈیو پروگرام کی صورت عوام تک پہنچا لیکن بعد میں اسے باقاعدہ کتابی صورت میں چھاپ کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا گیا ۔ دوسری اہم بات جرنیلی سڑک کا تعارف ہے، تو بات کچھ یوں ہے کہ پشاور (پاکستان) سے کلکتہ(انڈیا) تک پھیلی یہ مشہور سڑک تقریباً ساڑھے چار سو سال پہلے افغانی بادشاہ شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی، اس کی لمبائی پندرہ سو میل ہے اور اس کے بنانے کا بنیادی مقصد افغانستان سے انڈیا تک آسان آمدورفت تھی۔ سڑک کو پُر رونق بنانے کے لیے کچھ کچھ فاصلے پر سرائے خانے بنائے گئے تا کہ مسافر قیام کر سکیں، بعد میں انگریزوں نے آ کر اس سڑک کی مزید مرمت کروائی اور اب یہ اُسی حالت میں موجود ہے، تاریخ اور جغرافیے میں دلچسپی رکھنے والے احباب کے دل میں اس کتاب کے مطالعے کی تڑپ تو اسی ایک پیراگراف سے ہی پیدا ہو گئی ہوگی لیکن بھئی مجھے بھی تو اپنا چورن بیچنا ہے، تو دو تین پیراگراف یہ جاننے کے لیے پڑے لیجیے کہ میرے اس سفرنامے کو پڑھ کر کیا تاثرات ہیں۔

غیر افسانوی ادب میں آپ بیتی کے بعد سب سے زیادہ دلچسپی مجھے سفرنامے میں ہی ہے، اس کی پہلی وجہ تو گھر بیٹے ہی کئی دوسرے ملکوں، شہروں اور علاقوں کی سیر ہو جاتی ہے، دوسرا یہ کہ سفرنامہ نگار کسی ماہر ٹورسٹ گائڈ کی طرح اُن علاقوں کے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کرتا چلا جاتا ہے، اور اگر وہ اچھا انشائیہ پرداز ہو تو نثر پڑھنے کا الگ مزہ آتا ہے ۔ رضا علی عابدی صاحب کی یہ پہلی کتاب پڑھی ہے جو گزشتہ بُک فئیر سے ایک دوست کے تجویز کرنے پر خریدی تھی، اور مطالعہ مکمل ہونے کے بعد احساس ہوا کہ اچھا فیصلہ تھا ۔ چونکہ یہ سفرنامہ "جرنیلی سڑک" ریڈیو پروگرام کے لیے لکھا گیا تھا تو اس کا انداز گفتگو سا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ مصنف خود اپنے سفر کی روداد مصالحے لگا لگا کر ہمارے گوش گزار رہا ہے، جس سے مطالعے کا لطف دو بالا ہو جاتا ہے ۔ اسلوب کی بات کروں تو بالکل عام زبان استعمال کی گئی ہے، کوئی شخص اس کتاب کو اس وجہ سے پڑھنا ترک نہیں کرے گا کہ مشکل الفاظ ہیں، تو نئے قارئین بھی اس سے کو اپنی لسٹ میں شامل کر سکتے ہیں، اگر اب بھی دلچسپی نہیں بنی تو مزید سنیے ۔

اکثر شہروں کے ناموں سے متعلق بڑے دلچسپ اور مضحکہ خیز قصے مشہور ہوتے ہیں، اٹک کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ :
"کہتے ہیں کہ اٹک کا یہ نام اکبر بادشاہ نے رکھا تھا، نام رکھنے کا اُسے بڑا شوق تھا، کسی جگہ کا خوبصورت منظر دیکھ کر اُس کے منہ سے بے ساختہ 'واہ' نکلی، اُس مقام کا نام واہ رکھ دیا گیا۔ پھر چلتے چلتے اُس کا قافلہ دریائے سندھ کے کنارے پہنچ کر اٹک گیا، وہ جگہ 'اٹک' کہلائی۔ پھر قافلہ خیر سے پار اتر گیا، وہ مقام خیر آباد کہلایا۔"
پھر جہلم پہنچ کر وہاں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں :
"جہلم عجیب و غریب علاقہ ہے، پہلے یہ جوگیوں کا علاقہ تھا، اب یہ فوجیوں کا علاقہ ہے۔ شاید قناعت اور اطاعت کی پرانی رسم تھی جو نہیں بدلی، اس علاقے سے فوجی بھرتی کرنے کی روایت جو شیر شاہ کے وقت میں بھی تھی، آج بھی برقرار ہے۔ کھیوڑے کی کانوں کا نمک شاید ختم ہو جائے، مگر اس سرزمین کی یہ دوسری پیداوار چھاؤنیوں اور بیرکوں کو بھرتی رہے گی۔"

اس سفرنامے میں پشاور سے لے کر کلکتہ تک جتنے شہر آتے ہیں سبھی کا ذکر ہے، نہ صرف ذکر ہے بلکہ راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، لاہور، امرتسر، انبالہ، پانی پت، آگرہ، کانپور، بنارس، اور کلکتے جیسے پرانے اور مشہور شہروں کی تاریخ بھی بڑے دلچسپ انداز میں بیان کی گئی ہے۔ پاکستان اور انڈیا دونوں کے شہروں کے متعلق بڑی تفصیل سے باتیں بیان کی گئی ہیں، عابدی صاحب راستے میں جتنے بھی لوگوں سے ملے، اُن سے سے اُن کے علاقوں کے متعلق گفتگو ہوئی وہ سب بھی ساتھ لکھی ہے جسے پڑھ کر اِن سب شہروں کے متعلق بہت ساری نئی معلومات ملتی ہیں ۔ لاہور شہر ویسے بھی میرا پسندیدہ ہے، اس کے بارے میں پڑھنا بھی پسند ہے، وہ اِس کے متعلق لکھتے ہیں :
"اصل لاہور اُن غیر ملکیوں نے دیکھا تھا جو مغلوں کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ لاہور دراصل ایک بہت بڑا باغ ہے جس میں کہیں کہیں آبادی ہے۔ لاہور کی تاریخ میں ستّر سے زیادہ باغوں کا ذکر ملتا ہے، وقت بدلا تو زیادہ تر میں ہل چل گئے ۔"

یہ صرف ایک سفرنامہ ہی نہیں، بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو جرنیلی سڑک سے جُڑے شہروں اور علاقوں کے متعلق بہترین معلومات فراہم کرتی ہے، جوں جوں علاقے بدلتے ہیں ویسے ویسے لوگوں کے لہجے بھی بدلتے ہیں، اُن لہجوں کو جوں کا توں بیان کر کے اِس کتاب کو اور بھی دلچسپ بنایا گیا ہے ۔ یہ کتاب پڑھ کر جرنیلی سڑک میں اتنی دلچسپی تو ضرور پیدا ہو گئی ہے کہ کبھی موقع ملے تو اس سڑک پر سفر ضرور کیا جائے، حالات کی نزاکت کے باعث لاہور کراس کر کے انڈیا جانا تو اب شاید ہی ممکن ہو لیکن کم از کم پشاور سے لاہور تک کا سفر بھی یقیناً شاندار ہوگا ۔ سفر بڑی خوبصورت چیز ہے، یہ نئے لوگوں سے ملواتا ہے، نئے تجربات دیتا ہے، نئی معلومات فراہم کرتا ہے اور اگر آدمی اچھا مشاہدہ رکھتا ہو تو پڑھنے والوں کو بھی ساتھ شریک سفر کر لیتا ہے، کتاب کے شروع میں ایک خوبصورت شعر تمام
مسافروں کے نام؛

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں!

عمر فاروق

#Bookreviews #urdubooks #urdubooksreviews #جرنیلی_سڑک #HistoryOfPakistan
Profile Image for فیصل مجید.
185 reviews9 followers
February 25, 2023
رضا علی عابدی کی جرنیلی سڑک ایک معلوماتی اور تحقیقاتی سفرنامہ ہے جو جی ٹی روڈ کے بارے میں ہے۔ یہ دستاویزی سفر جو بی بی سی ریڈیو کے لئے تیار کیا گیا، بعد میں کتابی صورت میں دستیاب ہوا۔
پشاور، روالپنڈی، جہلم، گوجرنوالہ، گجرات، لاہور، انبالہ، پانی پت، دلّی، آگرہ، فتح پور سیکری، کانپور، الہ آباد، بنارس، سہسرام، بردوان اور آخر میں کلکتہ تک کا یہ سفر یہ سفرنامہ بیان کرتا ہے۔ سفرنامہ بیک وقت حال اور ماضی کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ تاریخ کے ساتھ ساتھ موجودہ سماجی تبدیلیوں کو بیان کرتا ہے۔
لہجہ دھیما ہے لیکن تنقید پوری ہے۔ مرکزی خیال ہے "پسماندگی"۔ وقت کے ساتھ مالی آسودگی تو میسر آئی لیکن تہذیبی پسماندگی نہیں حاصل ہوسکی۔ نوسٹلجیا بہت واضح ہے۔
مصنف کمال خوبصورتی سے پاکستان اور ہندوستان کے فرق کو واضح کیا ہے۔ ایک خاص بات تاریخ کو عام افراد سے بیان کروایا ہے جس سے عام قارئین کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے ورنہ ��ام طور پر تاریخی کتب کے حوالہ جات بوریت کا باعث بنتے ہیں۔
تین سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کی موجودہ قیمت سات سو روپے ہے اور اسے سنگ میل پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔

از Faisal Majeed
2 reviews
October 6, 2024
چند اقتباسات:
"اضطراب کا یہ حال کہ جیسے صبر کا یارا جاتا رہا۔ جیسے اچھے دنوں کے انتظار کی سکت جاتی رہی۔ انسان کا جی کب نہ چاہا کہ یوں ہو اور یوں ہومگر آج کا انسان چاہتا ہےکہ یوں ہو اور ابھی ہو۔ جو کچھ آنا ہے راتوں رات آ جائے۔ خواہشوں کی رفتار اور ہوتی ہےفطرت کی چال اور۔ اس مرتبہ اس دوڑ میں فطرت ہار گئی ہے اور رشوت جیت گئی ہے۔
داستانوں کے خاتمے پر اب یہ نہیں کہا جاتا کہ جیسے خدا نے ان کے دن پھیرے ، سب کے پھیرے۔ اب یہ کہا جاتا ہے کہ خدا دن پھیرے اور راتوں رات پھیرے۔ سبب سیدھا سادا ہےکل کی کسی کو خبر نہیں۔ گزرتے ہوئے پل کے رکھوالوں پر کسی کو اعتبار نہیں اسلئے ذہن اندر سے کچوکے لے رہا ہے کہ جو کرنا ہے ابھی کر لو۔"
رضا علی عابدی
Profile Image for Mian Inam.
23 reviews6 followers
July 19, 2024
قلعہ رہتاس کہنے کو تو برصغیر کے تاج میں نگینے کی طرح جڑا ہے۔ مگر انسان کی طرح بستیوں کی ،آبادیوں اور عمارتوں کی بھی تقدیر ہوا کرتی ہے۔ رہتاس کی تقدیر میں تنہائی لکھی ہے،کم نگاہی لکھی ہے۔ یہ قلعہ جرنیلی سڑک سے صرف چار پانچ کلومیٹر دور ایک بلند ٹیلے پر کھڑا ہے مگر چپ سادھے،عظمت رفتہ کے اس شاہکار کو کوئی دیکھنے بھی نہیں آتا۔ ایک پٹھان بادشاہ نے اس خطہ زمین پر جو فصیلیں اٹھائی تھیں وہ اپنی قدامت کے باعث نہیں بلکہ دوسروں کی بے توجہی کے سبب سے یوں جھکی جارہی ہیں کہ اب گریں اور اب گریں۔
Displaying 1 - 8 of 8 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.