مقبول عامر صاحب سے میرا تعارف کوئی سال بھر پہلے ہوا . ان کی ایک نظم نظر سے گزری اور اس ایک شعر تم یونہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتہ" "ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے نے ہی اپنا گرویدہ بنا لیا . اس کے بعد جب کچھ مزید غزلیں پڑھی تو پتہ چلا کہ ان کے کافی اشعار زبان زدعام ہیں ، جیسے کہ
"کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا " مجھے ان کے شعری مجموعے نہیں مل سکیں . کچھ دن پہلے لائبریری میں ان کی یہ کتاب ملی جس میں طارق محمود صاحب نے ان کی شاعری کا منظوم پشتو ترجمہ کیا تھا . پشتو میری مادری زبان ہونے کی وجہ سے اس کتاب سے مجھے دوگنا مزا ملا . ایک تو قاصر صاحب کی خوبصورت شاعری اوپر سے طارق محمود صاحب کا بہترین منظوم ترجمہ .
غلام محمد قاصر کو شاعروں کا شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ عام قاری تک نہ پہنچ پائے۔ ان کے متعلق احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں:
(مقبول عامر پٹھان ہے۔ اس کی مادری زبان پشتو ہے اردو بولتے وقت اس کا پشتون لہجہ واضح ہوتاہے۔ (سنا ہے علامہ اقبال بھی پنجابی لہجے میں اردو بولتے تھے) مگر اُس کی شاعری پر غور کیجیے تو وہ نہایت صاف ستھری اردو میں جذبہ و خیال سے آراستہ ایسی رواں دواں خوبصورت شاعری کرتا ہے کہ اس پر رشک آتا ہے، کہیں کہیں تو سراسر اہل زبان معلوم ہوتا ہے، وہ محاورے اور روزمرے کو ایسے سلیقے سے استعمال کرتا ہے کہ اُن کے مفاہیم میں اضافہ ہوتا محسوس ہوتا ہے سمجھ میں نہیں آتا کہ بنوں کا یہ پٹھان شاعر فراق اور یگانہ کے لحن میں شعر کیسے کہہ لیتا ہے جبکہ وہ اپنی انفرادیت پر بھی آنچ نہیں آنے دیتا۔ مقبول عامر کے ہاں جذبے کی شدت نہایت سلاست اور بے ساختگی سے اظہار پاتی ہے۔ اس کا یہ جذبہ ذاتی بھی ہے اور اجتماعی بھی کہ وہ محض باطن کا شاعر نہیں ہے۔ وہ اپنے گردوپیش سے آنکھیں بند نہیں کرتا۔ وہ جس تجربے سے گزرتا ہے اسے اپنے اندر کھپا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ شعر کہتا ہے تو اس کےایک ایک لفظ میں روحِ عصر سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ شعور اور وجدان کو جس طرح مقبول عامر نے اپنی شاعر میں یک جان کیا ہے۔ اُس کی مثالیں اردو میں کم ہی دستیاب ہوں گی۔ بلاشبہ اُس نے زندہ رہنے والی شاعری کی ہے۔)