یہ اتنی ہی سچی داستان ہے جتنی اس بات میں سچائی ہے کہ ایک ادارے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ انیس سو پینسٹھ میں پاکستان نے آپریشن جبرالٹر نہیں کیا اور ہندوستان نے بغیر کسی وجہ کے حملہ کیا۔ فہرست طویل ہوسکتی ہے پر جانے دیجیے۔
فاضل مصنف سقوطِ ڈھاکہ سے اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ خود جی ایچ کیو پہنچ گئے اور خود کو قوم کے لیے وقف کردیا. اپنے نئے پیدا ہونے والے بچے کی شکل تک نہ دیکھی۔ چار سال کی ٹریننگ چار ماہ میں فرما کر بی آر بی نہر مینڈک کی مثل تیر کر ہندوستان ایسے پہنچے جیسے سسرال داماد جاتے ہیں۔
کتاب کی پشت پر ان کی تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ فاضل مصنف کو شاید کسی نے بچپن میں کہہ دیا تھا کہ ان کی ناک مشہور ہندوستانی اداکار پریم چوپڑا کی طرح کئی میل کی ہے. صاحب نے جب اس داستان کے لیے قلم تیز کیا تو اس ایمانی داستان کے لیے اپنا فرضی جاسوسی نام بھی چوپڑا رکھ فرمایا. افسانوی پس منظر یہ ٹھہرا کہ ان کا تعلق پنجاب کے مشہور چوپڑا خاندان سے ہے. چوپڑا جوکہ فقط ایک اسم نہ کہ ایک ذات ہے. یہ ایسے ہی بے احمقانہ ٹھہرے کہ کوئی عباس یا علی کو ایک خاندان یا ذات بنا ڈالے۔
ہندوستان جاکر فاضل مصنف نے کونسا ایسا کارنامہ ہے جو نہیں فرمایا. قدم رنجہ فرماتے ہی خواتین ان پر یوں ریجھ گئیں جیسے پرفیوم ناول والا مرکزی کردار وہی دیومالائی پرفیوم چھڑک کر نکلا ہے۔ کبھی مقامی لونڈے لپاڑے جذبہ ءِ ایمانی سے لبریز ہوکر ان سے مل جاتے ہیں. کبھی مسلمان مالک مکان ان کی مشکوک سرگرمیوں کے بعد ان سے تفتیش کرتے نظر آتے ہیں. بھارت کے خلاف نفرت کے باعث، بعد ازاں وہ ان کے ساتھ مل جاتے ہیں. کبھی کوئی مسلم بٹ مین بھارتی آرمی سے بغاوت کرکے ان گروہ میں آجاتا ہے۔
قصہ یہاں ختم نہیں ہوتا، فاضل مصنف معروف گینگسٹر حاجی مستان کے گھر کا نمک بھی چکھ چکے ہیں. ان کے شبستاں سے فرصت ملتی تو فاضل مصنف جناب دلیپ کمار سے خوش گپیاں بھی فرمانے چلے جاتے. یوں فسوں قائم ہوا جیسے دو بچھڑے عم زاد آپس میں مل بیٹھ گئے. بقول مصنف یوسف بھائی ہر پاکستانی کو اپنا مہمان سمجھتے ہیں چاہے کوئی جاسوس ہی کیوں نہ ہو. شکر کریں کہ دلیپ صاحب نے یہ کتاب پڑھی نہیں ورنہ وہ مصنف کو عدالت میں گھسیٹ سکتے تھے۔
قید سے نکلنا اور سرکاری تنصیبات کو اڑانا تو کوئی مصنف سے سیکھے۔ بھارتی نیپالی سرحد پار کرکے جب نیپال پہنچتے ہیں تو جاسوسی کا ماحول یوں بن جاتا ہے جیسے شادی کی برات میں چیف پکوتا فرداً فرداً اپنے شاگردوں کے پکوانوں کو چکھتا نظر آئے. کبھی کس دیگ کے پاس آتا ہے اور کبھی کس پتیلے کے پاس۔ تین اسرائیلی جاسوسیں مصنف کی بانہوں میں بھی جھُولنے کو تیار ہیں اور ایک آدھ نیپالی لڑکی بھی مسلمان کربیٹھے ہیں۔
ایسی سچی داستانیں پانچویں کے بچوں کو تو متاثر کرتی ہوں گی مگر ہمیں نجانے کیوں نہیں کاٹتیں. جیسے انگریزی میں کہتے ہیں نا کہ Karma comes with all shapes and sizes. ایسے ہی مختصراً یہی ہے کہ طارق اسمٰعیل ساگر بھی کئی ناموں سے آسکتے ہیں۔
آج میں جس کتاب کے بارے میں لکھنے جا رہی ہوں سب سے پہلے یہ کہہ میں خود کو اسکے اہل نہیں سمجھتی، کیونکہ اس کتاب کے مصنف بہت اعلیٰ مرتبے پہ فائز ہیں۔ ابو شجاع ابی وقار کی کتاب 'غاذی'۔ مصنف پاکستان کی خوفیہ ایجنسی ISI کے agent ہیں، جنہوں نے بھارت میں کئی بڑے مشن کامیابی سے سر انجام دئیے جنکو انہوں نے اپنی کتاب میں تفصیلاً بیان کیا ہے۔ قیدو بند کی مشکلات اور torcher کے دل دہلا دینے والے مناظر ملتے ہیں۔ ایک خوفیہ agent اس وقت جنگ لڑتا ہے جب بارڈر پہ امن ہوتا ہے۔ ابو شجاع ابی وقار کی حقیقی داستان پڑھتے وقت کئی مقام پہ قاری کو کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔
اللہ اس بہادر سپہ سالار کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین ❤️
We must remember our unsung heroes. Highly recommended this book in the memory of brave agent of ISI.🇵🇰