ادب عالیہ کی سخت زمین پر چل چل کر پیر نرم ریت کے طالب ہوئے تو برادرم سعد عباس عرفیتِ گڈریڈز مسمیٰ بہ "رُورل سول" کا عنایت کردہ یہ پلپ ناول کھول لیا۔ اکثریتی پاپولر فکشن کی طرح اس ناول کی کہانی بھی تیز رفتاری اور کافی سارے ٹاوسٹ لئے ہوئے ہے۔ واقعات کی اونچ نیچ کے ساتھ ساتھ دھڑکن بھی اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے تاوقتیکہ آپ اختتام کے قریب پہنچتے ہیں جہاں ناصر صاحب کی پلاٹ پر گرفت کمزور پڑتی محسوس ہوئی اور قصہ بڑی تیزی سے کھائی اتر گیا۔ کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ مرکزی کردار عالمگیر ایک سیاسی وڈیرے سردار فضل سے انتقام لینا چاہتا ہے اور اسی سردار کا رازدار و معتمد خاص بھی ہے۔ انتقام کی اس مخفی جنگ میں سردار کی بیٹی عالمگیر کی ارادہ شکن محبت بن کر نازل ہوتی ہے جس کے بعد نئے انکشافات ناول کو ایک نئے موڑ پر لے جاتے ہیں جس کی کہانی ناول خرید کر ہی پڑھی جائے تو ناشر و رائٹر کا بھلا ہوگا۔ وقت گزاری کے لئے ایک اچھا آپشن ہے۔
Its very impressive narrated and heart touching crime novel. Its starting was very firm and Nasir Malik has all abilities to get attention from reader. Dialogues of main character with his late mother's illusions are very painful. The main character (Aalamgeer) is a crook with mysterious past. The native Fudal has his back for the illegal activities he does but nobody knows Aalamgeer's main agenda. I didn't like the ending as it was not what I was expecting. That's Why **** in my humble opinion. The Author Nasir Malik is new name in Pakistani crime fiction and its his first independent novel. He started his career with writing short stories in Urdu crime magazines.
کتاب کا نام سراسر گمراه کن ہے- ہم نے سوچا یہ کسی جن کی یا آدھے جن آدھے انسان کی کہانی ہوگی مگر ایسا کچھ نہیں ہے ... اور پھر جیسے جیسے پڑھتے جائیں عامیانہ پن اور 🤨غیر شریفانہ استعارات و تشبیہات کا استعمال بڑھتا جاتا ہے ... باقی انداز تحریر کچھ عمرو عیار، ٹارزن اور وہ جو شہزادوں شہزادیوں والی کہانیاں بچپن میں ہم پڑھتے تھے، ویسا ہی ہے۔ کہانی بے تکی اور کردار سازی بے جان ہے ...😒