Jump to ratings and reviews
Rate this book

পূর্ণিমার রাতের প্রেম

Rate this book

120 pages, Hardcover

Published February 1, 2002

2 people are currently reading
11 people want to read

About the author

Krishan Chander

149 books81 followers
हिंदी : कृश्न चन्दर
Urdu Profile:کرشن چندر
Krishan Chander was an Urdu and Hindi writer of short stories and novels. He also worked on English.

He was a prolific writer, penning over 20 novels, 30 collections of short stories and scores of radio plays in Urdu, and later, after partition of the country, took to writing in Hindi as well.

He also wrote screen-plays for Bollywood movies to supplement his meagre income as an author of satirical stories. Krishan Chander's novels (including the classic : Ek Gadhe Ki Sarguzasht, trans. Autobiography of a Donkey) have been translated into over 16 Indian languages and some foreign languages, including English.

His short story "Annadata" (trans: The Giver of Grain – an obsequious appellation used by Indian peasants for their feudal land-owners), was made into the film Dharti Ke Lal (1946) by Khwaja Ahmad Abbas – which led to his being offered work regularly as a screenwriter by Bollywood, including such populist hits as Mamta (1966) and Sharafat (1970). He wrote his film scripts in Urdu

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
6 (60%)
4 stars
2 (20%)
3 stars
1 (10%)
2 stars
0 (0%)
1 star
1 (10%)
Displaying 1 - 4 of 4 reviews
713 reviews75 followers
September 22, 2021
‎اپریل کا مہینہ تھا۔ بادام کی ڈالیاں پھولوں سے لد گئی تھیں اور ہوا میں برفیلی خنکی کے باوجود بہار کی لطافت آ گئی تھی۔ بلند و بالا تنگوں کے نیچے مخملیں دوب پر کہیں کہیں برف کے ٹکڑے سپید پھولوں کی طرح کھلے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اگلے ماہ تک یہ سپید پھول اسی دوب میں جذب ہو جائیں گے اور دوب کا رنگ گہرا سبز ہو جائے گا اور بادام کی شاخوں پر ہرے ہرے بادام پکھراج کے نگینوں کی طرح جھلملائیں گے اور نیلگوں پہاڑوں کے چہروں سے کہرا دور ہوتا جائے گا اور اس جھیل کے پل کے پار پگڈنڈی کی خاک ملائم بھیڑوں کی جانی پہچانی با آ آ سے جھنجھنا اٹھے گی۔ اور پھر ان بلند و بالا تنگوں کے نیچے چرواہے بھیڑوں کے جسموں سے سردیوں کی پلی ہوئی موٹی موٹی گف اون گرمیوں میں کترتے جائیں گے اور گیت گاتے جائیں گے۔

The verbosity, the way with words, the scenery, just wow!!! I read this short story during middle childhood years, and when I read the name again today, the scenario of my childhood imagination came infront of my eyes.

‎سہ پہر ختم ہو گئی۔ شام آ گئی، جھیل ولر کو جانے والے ہاؤس بوٹ، پل کی سنگلاخی محرابوں کے بیچ میں سے گزر گئے اور اب وہ افق کی لکیر پر کاغذ کی ناؤ کی طرح کمزور اور بے بس نظر آرہے تھے۔ شام کا قرمزی رنگ آسمان کے اس کنارے سے اس کنارے تک پھیلتا گیا اور قرمزی سے سرمئی اور سرمئی سے سیاہ ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ بادام کے پیڑوں کی قطار کی اوٹ میں پگڈنڈی بھی سو گئی اور پھر رات کے سناٹے میں پہلا تارا کسی مسافر کے گیت کی طرح چمک اٹھا۔ ہوا کی خنکی تیز تر ہوتی گئی اور نتھنے اس کے برفیلے لمس سے سن ہو گئے۔

‎اور پھر چاند نکل آیا۔

‎اور پھر وہ آ گئی۔

A day in the life of a Kashmiri love story, during the season of the blooming of almonds and apricots, during the night of the full moon.

‎ ایک خواب ناک سمفنی اور سوئی ہوئی جھیل کے بیچ میں چاند کی کشتی کھڑی تھی۔ ساکن چپ چاپ، محبت کے انتظار میں، ہزاروں سال سے اسی طرح کھڑی تھی۔ میری اور اس کی محبت کی منتظر، تمہاری اور تمہارے محبوب کی مسکراہٹ کی منتظر، انسان کے انسان کو چاہنے کی آرزو کی منتظر۔ یہ پورے چاند کی حسین پاکیزہ رات کسی کنواری کے بے چھوئے جسم کی طرح محبت کے مقدس لمس کی منتظر ہے۔

The unrequited love, the love that got wasted in the currents of time. It's a nostalgia of romance, Kashmir, beauty and fantasy.

‎انسان مر جاتے ہیں، لیکن زندگی نہیں مرتی۔ بہار ختم ہو جاتی ہے لیکن پھر دوسری بہار آ جاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی محبتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں لیکن زندگی کی بڑی اور عظیم سچی محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ تم دونوں پچھلی بہار میں نہ تھے۔ یہ بہار تم نے دیکھی، اس سے اگلی بہار میں تم نہ ہو گے۔ لیکن زندگی پھر بھی ہو گی اور جوانی بھی ہو گی اور خوبصورتی اور رعنائی اور معصومیت بھی۔
Profile Image for Aditya Mandhane.
102 reviews1 follower
June 28, 2022
An immersive, beautiful little tale of a single night. The love for nature, and nature of love, are both oozing from the prose.
Displaying 1 - 4 of 4 reviews

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.