Ahmad Nadeem Qasmi born Ahmad Shah Awan was an Urdu and English language Pakistani poet, journalist, literary critic, dramatist and short story author. He wrote 50 books on topics such as poetry, fiction, criticism, journalism and art, and was a major figure in contemporary Urdu literature. His poetry was distinguished by its humanism, and his Urdu afsanay (short stories) are considered second only to Prem Chand in its depiction of rural culture. He was also editor and publisher of the literary magazine Funoon for almost half a century. He received several awards such as the Pride of Performance in 1968, Sitara-e-Imtiaz in 1980 and Pakistan's highest literary award Kamal-e-Fun Award in 1998 for his literary works.
آبلے(احمد ندیم قاسمی) احمد ندیم قاسمی کی یہ کتاب 3 ناولٹ پر مشتمل ہے یعنی تین کہانیوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی خاص بات منظر نگاری ہے۔قاری اپنے آپ کو دیہات کے ماحول میں چلتا پھرتا دیکھتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی دیہاتیوں کی کسمپرسی، غربت اور لامحدود مسائل سے بھی روشناس ہوتا ہے۔احمد ندیم قاسمی کا انداز تحریر بالکل سادہ ہے جیسے کہ کوئی بڑا بوڑھا اپنے ماضی کے تلخ وشیریں تجربات کو کہانی کے سانچے میں ڈھال کر بیان کر رہا ہو۔
محترم احمد ندیم قاسمی کی یہ کتاب جس میں ان کے تین مختصر ناولٹ شامل ہیں، چوپال پر کھلنے والی اس کھڑکی کی مانند ہے جس سے دیہات کی بھرپور زندگی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر جس سے ساتھ ہی ساتھ دیہاتیوں کی غربت، کسمپرسی اور گوناگوں مسائل کا منظر پڑھنے والے کو افسردہ کر دیتا ہے۔ قاسمی صاحب کا تعلق تحریک ترقی پسندی کے سیل رواں سے خاصا رہا جس کے چھینٹے ان کی تقریباََ ہر تحریر پر پڑے ہیں۔ اس کتاب میں بھی حقیقت نگاری پر زیادہ توجہ، غربت سے جنم لیتے مسائل، فرسودہ روایات کی جکڑن اور معاشرتی گھٹن ایسے موضوعات کو بڑی چابک دستی سے کہانیوں کی شکل میں سمیٹا گیا ہے مگر چند دیگر مشاہیر کے برعکس قاسمی صاحب کے نظریات میں شدت کی بجائے ایک اعتدال محسوس ہوتا ہے جو کہ میرے خیال میں ایک بڑے صاحبِ قلم کی خاص پہچان ہے۔ شاید یہی معتدل مزاج ہی ترقی پسند تحریک سے ان کی علیحدگی کی وجہ بنا ہو۔ جملہء معترضہ ایک طرف، یہ منی ایچر ناولز پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ قاسمی صاحب اگر ناول نگاری کی طرف توجہ کرتے تو یقیناََ ایک کامیاب اور بڑے ناول نگار بن سکتے تھے۔ تینوں ناولٹ میں سے آخری زیادہ پسند آیا جو ایک شہری کے بارے میں ہے جس نے دیہات سدھار مشن کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا اور ایک گاؤں جا پہنچا جہاں اس کے ’کتابی‘ خیالات خود اسی کے لئے شامتِ اعمال کا باعث بنتے ہیں۔ اس میں درپردہ لطیف چوٹ انقلابیوں پر کی گئی ہے۔ باقی دو بھی دلچسپ کہانیاں تھیں۔ بس سائنوسائیڈل لہر کی طرح ان کا اختتام میرے سر کے اوپر سے گزر گیا، نیچے کچھ نہیں آیا۔ دیہاتی زندگی، قاسمی صاحب اور اردو کے رسیا کے لئے اچھی کتاب ہے۔
امن؟ امن تو صرف ایک لفظ ہے۔ امن جنگ کا دوسرا نام ہے، اور امن کی جبگ اصلی جنگسے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ بنگال کا قحط کیا تھا؟ یہ امن کی جنگ تھی۔ یہ ہر چیز کی گرانی، یہامن کی جنگ ہے۔ یہ اغوا اور زنا کے نت نئے شوشے؟ یہ امن کی جنگ ہے۔ امن — تم امن کے لیے دعائیں مانگتے ہو؟ حالانکہ تم دو صدیوں سے امن کے مزے لوٹ رہے ہو۔ دو صدیوں سے تم اس چپچاپ جنگ میں مبتلا ہو۔ ایسی جنگ جو تمہارا خون نہیں بہاتی، صرف تمہارے دل اور دماغ کو نچوڑ کر گلے ہوئے چیتھڑے کی طرحپرے پٹخ دیتی ہے —