کرشن چندر اُردو کا سب سے بلند قامت افسانہ نگار ہے۔ ویسے اس کا قد چھوٹا ہے جس پر کسی خوش مذاق نے یہ پھبتی کہی تھی کہ اُردو ادب پر بونے سوار ہیں۔ اب یہ سوچ کر گھبراتا ہوں کہ کرشن کے میدان میں اس کے دوش بدوش چلنے کی کوشش میں بڑی جگ ہنسائی ہو گی۔ سچّی بات یہ ہے کہ کرشن کی نثر پر مجھے رشک آتا ہے۔ وہ بے ایمان شاعر ہے جو افسانہ نگار کا رُوپ دھار کے آتا ہے اور بڑی بڑی محفلوں اور مشاعروں میں ہم سب ترقّی پسند شاعروں کو شرمندہ کر کے چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے ایک ایک جملے اور فقرے پر غزل کے اشعار کی طرح داد لیتا ہے اور میں دل ہی دل میں خوش ہوتا ہوں کہ اچھا ہوا اس ظالم کو مصرع موزوں کرنے کا سلیقہ نہ آیا ورنہ کسی شاعر کو پنپنے نہ دیتا۔ کرشن کی نظر میں گہرائی اور تخیل میں بلا کی اُڑان ہے۔ تحریر میں سیلاب کا سا بہائو ہے اور اثر انگیزی بے پناہ ہے۔ دُشمن اور نکتہ چیں بھی اس کے قائل ہیں۔ اس پر حیر ت نہ ہونی چاہیے کہ جو حُسن کرشن کی کہانیوں میں ہے، کہیں پایا نہیں جاتا۔ وہ اس جادوگر کی تخلیق ہے۔ شاعرانہ تخلیق کے یہی معنی ہیں۔ جیسے چاندنی ہرچیز کو پُراسرار اور حسین بنا دیتی ہے ویسے ہی کرشن اپنے تخیل کے نور سے حقیقت میں ایسا پُراسرار حُسن پیدا کر دیتا ہے جس کا طلسم ٹوٹتا ہی نہیں۔ فطرت کے حُسن پر یہ اضافہ معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ اُردو حلقوں کو اس پر فخر کرنا چاہیے کہ اُن کی زبان نے، جسے دیس نکالا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک ایسا عظیم فن کار پیدا کیا ہے جو سارے ہندوستان کو محوِ حیرت کر دے گا۔ علی سردار جعفری
हिंदी : कृश्न चन्दर Urdu Profile:کرشن چندر Krishan Chander was an Urdu and Hindi writer of short stories and novels. He also worked on English.
He was a prolific writer, penning over 20 novels, 30 collections of short stories and scores of radio plays in Urdu, and later, after partition of the country, took to writing in Hindi as well.
He also wrote screen-plays for Bollywood movies to supplement his meagre income as an author of satirical stories. Krishan Chander's novels (including the classic : Ek Gadhe Ki Sarguzasht, trans. Autobiography of a Donkey) have been translated into over 16 Indian languages and some foreign languages, including English.
His short story "Annadata" (trans: The Giver of Grain – an obsequious appellation used by Indian peasants for their feudal land-owners), was made into the film Dharti Ke Lal (1946) by Khwaja Ahmad Abbas – which led to his being offered work regularly as a screenwriter by Bollywood, including such populist hits as Mamta (1966) and Sharafat (1970). He wrote his film scripts in Urdu
Bawan Patte peels back the shiny surface of Bombay’s film industry to show what really goes on behind the lights and music. Written in the years after Partition, it dives into the lives of people who make films, writers, actors, producers, and how ambition, money, and morality constantly clash.
Rafia’s story is one of quiet strength, she steps into the film world out of necessity but never lets poverty strip her of dignity. Akram, a thoughtful poet and filmmaker, refuses to turn art into cheap spectacle. And then there’s Ishrat, a man who sells his beauty for success. It’s a shocking but powerful idea, flipping the familiar image of the courtesan and forcing readers to question the double standards of desire and power.
In short, this book is about conscience, about people who try to stay true to themselves in a world built on pretense. It’s sharp, moving, and deeply human.
باون پتے میں کرشن چندر نے ممبئی کی فلم انڈسٹری کو موضوع بنایا ہے اور ہندوستان کی تقسیم کے بعد کے عرصے میں لکھے گئے ناول میں ان دنوں فلمی صنعت سے وابستہ تمام تر شعبوں سے منسلک افراد کو اس ناول میں شامل کیا گیا ہے۔ اس ناول میں فلمی صنعت میں ذیادہ پیسہ کمانے کے لئے فلموں میں شامل کئے گئے جنسی گانوں اور جنسی موضوعات کے ساتھ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جنسی بے راہ روی کو بہت موثر انداز میں دکھایا گیا ہے۔
جب میں نے کرشن چندر کا ناول "باون پتّے" پڑھا، تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ پڑھ رہی ہوں جس میں فلمی دنیا کے جھوٹے چمک دمک کے پیچھے چھپی سچائیاں واضح ہو رہی ہیں۔
اس ناول میں رفیہ جیسے کردار ہیں، جو اپنی مجبوریوں کے باوجود اپنی عزت کا سودا نہیں کرتے۔ وہ عورت جو فلمی دنیا میں آتی ہے صرف اس لیے کہ اپنے خاندان کا بوجھ اٹھا سکے، مگر ہر قدم پر وہ اپنی خودداری کو قائم رکھتی ہے۔
پھر اکرم ہے — ایک شاعر، ایک سوچنے والا انسان، جو فلم کو محض تفریح نہیں بلکہ شعور کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ وہ فحاشی سے پاک فلم بناتا ہے، مگر معاشرہ اسے رد کر دیتا ہے۔ اور یہی وہ مقام تھا جہاں مجھے محسوس ہوا کہ اکرم صرف ایک کردار نہیں، بلکہ خود کرشن چندر کا عکس ہے۔
کیونکہ میں نے کرشن چندر کی زندگی کے بارے میں جتنا جانا، اُس سے اندازہ ہوا کہ انہوں نے بھی فلموں میں کام کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ وجہ شاید یہی رہی ہو گی کہ ان کی تحریریں صرف دل بہلانے والی نہیں تھیں، بلکہ وہ سچ کہنے والی، جرات مند اور ضمیر کو جھنجھوڑنے والی تھیں۔ جیسے اکرم فلم میں ناکام ہوتا ہے، ویسے ہی کرشن چندر کو بھی فلمی دنیا میں کامیابی نہیں ملی، مگر وہ ادب کے میدان میں ایک بے مثال کامیاب انسان ثابت ہوئے۔
ایک اور چونکا دینے والا پہلو مرد طوائف کا کردار تھا۔ عشرت نامی مرد جو اپنی کامیابی کے لئے اپنی مردانہ وجاہت کا سودا کرتا ہے۔یہ اردو ادب کے لیے نیا اور جرأت مندانہ تصور تھا۔ عورتوں کو تو اکثر طوائف کے روپ میں پیش کیا گیا، مگر ایک مرد کا جسم بیچنا اس معاشرے کی نئی اور کڑوی سچائی تھی۔
"باون پتّے" صرف ایک ناول نہیں، یہ کرشن چندر کی ذاتی جنگ، مشاہدہ اور ضمیر کا اظہار ہے۔ یہ ناول ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی صرف وہ نہیں جو دنیا کو دکھائی دے، اصل کامیابی وہ ہے جو انسان کے اندر خودداری اور سچ کے ساتھ جڑی ہو۔
آپ بھی یہ ناول ضرور پڑھ کر دیکھیں کیا اکرم کامیاب ہو پائے گا ،کیا رفعیہ اپنی خودداری قائم رکھ پائے گی اور کیا عشرت اس غلاظت سے نکل پائے گا۔ ایک بار پھر کہوں گی بہت ہی شاندار ناول ہے۔ عمارہ عتیق
اس ناول کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں جو کہانی بیان کی گئی ہے وہ ان جگہوں سے منسلک ہے جن کو ہم بہت پر سکون سمجھتے ہیں لیکن ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ بے سکونی ساری اس ناول میں سمو دی گئی ہے اور یہ اچھا ناول ہے ۔ مطلب اچھا آپ یہ پڑھ سکتے ہیں میرے رائے میں آپ اس میں مصروف رہیں گے۔