ابدال بیلا نے نثری شاعری لکھی ہے یا شاعرانہ نثر میں افسانے، یہ فیصلہ مشکل ہے۔ ذرا کتاب میں شامل افسانوں میں سے ایک ’افسانہ‘ بطور نمونہ ملاحظہ کریں۔
سنگ مرمر کے مجسمے کی نبض چل رہی تھی۔ میں نے نبض سے انگلیاں ہٹا کر دھڑکن کو ہاتھوں میں لینا چاہا۔ اس نے اپنا دل میری ہتھیلی پہ رکھ کر میری نبض کو بھی منجمد کر دیا۔ پتھر کا بنا دیا۔ کافی دیر بعد مجھے خیال آیا۔ بیمار وہ تھی۔ یا میں۔
افسانہ نگاروں کی بھیڑ میں اگر ابدال بیلا کی پہچان کرنی ہو تو ان کی شناختی پہچان ’علامتی افسانہ نگار‘ کے طور پر ہے۔ علامتی افسانے جنہیں بے حد صفائی سے، شاعرانہ لباس پہنا کر، احاطہء تحریر میں لایا گیا ہے اور جن کا مرکزی خیال سمجھنا بھی بچوں کا کھیل ہے۔ کتاب کی یہی ہر دو خصوصیات اسے اتنا پسند کرنے کی وجہ بنیں۔
پس نوشت: اس کتاب کو زمانہء کالج میں پڑھنے پر ’سخت‘ ناپسند بھی کرچکا ہوں پر وہ گئے زمانوں کی باتیں ہیں مگر برگران اسے تنبیہ کے طور پر لے سکتے ہیں۔