یہ خاکے نہیں ہیں۔ یہ تو زندگی کے اندھیروں میں کھلنے والے وہ روزن ہیں جن کی روشنی نہ ملتی تو دم گھٹ جاتا۔ یہ تو ان لوگوں کے قصے ہیں جو جا چکے ہیں، مگر وہ جس جگہ تھے وہاں اب تک روشنی ہے اور جب تک آنکھوں میں دیکھنے کی سکت ہے، باقی رہے گی۔ جاوید صدیقی
Javed Siddiqi is a Hindi and Urdu screenwriter, dialogue writer and playwright from India. He has written over 50 storylines, screenplays and dialogues.
During his career, Siddiqui has collaborated with some of India's most prominent filmmakers.He has won two Filmfare Awards, two Star Screen Awards and one BFJA Award.
In Urdu he has written pen sketches of various lesser known personalities and published two books so far.
جتنا بہترین ادب 'خام' کرداروں سے تخلیق ہو سکتا ہے، روشن دان اس کی ایک لازوال مثال ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک خاکہ۔ خوبصورت زبان، جملے اور تکنیکی ترتیب۔۔۔ سبحان اللہ!
میں نے اپنے ایک ادبی دوست سے پوچھا: یار "روشن دان" پڑھی ہے؟
دوست: کس نے لکھی ہے؟
میں: انڈیا والے جاوید صدیقی۔ ستیہ جیت رے اور شیام بینگل ساتھ جنہوں نے کام کر رکھا ہے۔ زندگی مت خرچ کرو اور آتے سانسوں کو غنیمت جان کر یہ کتاب پڑھ ڈالو۔ پہلے ایک خاکہ بولا۔۔۔ پھر دوسرا۔۔۔ پھر جب لگا کہ یہ سلسلہ نہیں تھمنے والا تو مکمل کتاب پڑھنے کو کہہ ڈالا۔
دوست: کہاں سے پڑھ رہے ہو؟
(اب یہ بولے گا کہ پڑھ کر مجھے بھیج دو، خطرے کو فوراً بھانپ لیا)
میں: ریختہ پر پڑی ہے۔ دیکھ لو۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس نے ریختہ سے یہ کتاب ڈھونڈی، 'موگرے کی بالیوں والی' پڑھا اور میرا شکر گزار ہے۔ اب میں اسی احساسِ طرب میں مبتلا ہوں جو ایک کم پڑھا لکھا ، زیادہ پڑھنے والے پر برتری کے نتیجے میں محسوس کرتا ہے۔ اس خوشی کے لیے میں جاوید صدیقی صاحب کا احسان مند رہوں گا۔
Really interesting read. Though the most of the sketches in this book are about people you rarely know, but writing style of the author makes the book unputdownable once you start reading this.
The book also provides a lot of information about 'Khilafat Tehreek', Jauhar Brothers and their descendants. You also come to know the irony that descendants of Jauhar Brothers, who worked for Khilafat movement (to restore Khalifat, which was abandoned with the contribution of Saudi rulers), took funding from same Saudis.
I could not decide which is my personal favorite skecth in the book as each and every personality had different shades. The sketches about Niaz Haider (dialogue writer for Shyam Bengal's movie Aarohan and Muzaffar Ali's serial Jaan e Alam) and Abrar Alvi (The writer of Guru Dutt's movies Piyasa, Sahib, Bivi aur Ghulam) are filled with stories about fake and temporary film world and how the writers are exploited. The sketch about Sultana Jaffri (wife of Sardar Jaffri) is worth reading to know why Javed Akhtar said 'If someone promises to write such sketch for him, he is ready to die'. The sketches about Hajyani (a Miadservant) and Shammo Mama and Bajiya (writer's relatives, who spent their lives on their terms inspite of their disability and poverty) are also there to remain with the readers for long time.
روشن دان جاوید صدیقی کے لکھے ہوئے خاکوں کا مجموعہ ہے۔ جاوید صدیقی ہندوستان کے ادیب ہیں اور اُن کا سابقہ بہ یک وقت صحافت اور فلمی دنیا سے رہا ہے۔ یہ خاکے زیادہ تر اُن لوگوں کے ہیں جن سے کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی صورت میں جاوید صدیقی صاحب کا واسطہ رہا۔ ان میں کچھ معروف لوگوں کے خاکے بھی ہیں اور کچھ مصنف کے قریبی لوگوں کے بھی ۔
جاوید صدیقی زبان و بیان پر گرفت رکھتے ہیں۔ اچھا لکھتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ قاری کو اپنے جذبات میں شریک کر لینا جاوید صدیقی کے لئے مشکل نہیں ہے۔ ان کے بعض خاکوں میں تو افسانوں کا سا رنگ ہے کہ پڑھنے والا اُس کے سحر میں کھو جاتا ہے آخر تک مصنف کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔
کہیں کہیں البتہ منظر نگاری کو کچھ ضرورت سے زیادہ طول دے دیتے ہیں۔ یا اپنے ممدوح (یا شاذ معاملات میں مذموم) کے بارے میں غیر دلچسپ تفصیلات بھی شامل کر دیتے ہیں۔
بہرکیف، یہ ایک اچھی کتاب ہے اور اسے وقت گزاری کے لئے پڑھا جا سکتا ہے۔