منشا یاد کے مشہور پنجابی ناول ٹانواں ٹانواں تارا کو نوے کی دہائی میں پی ٹی وی پر ڈرامے کی شکل میں پیش کیا گیا تھا جو بے حد مقبول ہوا۔
بہت سے قارئین جو پنجابی پڑھ یا سمجھ نہیں سکتے تھے، ان کے لیے اس ناول کو اردو میں ڈھالا گیا جس کے نتیجے میں “راہیں” کے نام سے یہ ناول ہمارے سامنے آیا۔ یہ ناول پنجاب کے دیہی معاشرے کی زندگی، اس کی تہذیب اور خاص طور پر ذات پات اور طبقاتی تقسیم کی تلخ حقیقتوں کی کہانی ہے۔
کہانی بنیادی طور پر خالد نامی کردار کے گرد گھومتی ہے جو تعلیم، اپنی محبت اور گاؤں کے لوگوں کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ اس کی زندگی مسلسل قربانیوں اور مشکلات سے بھری ہے کیونکہ معاشرے کے طاقتور طبقات اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔
منشا یاد کی خوبی ان کی حقیقت نگاری ہے۔ پنجابی ماحول اور دیہی زندگی کی جزئیات اس انداز سے بیان کی ہیں کہ ہم خود کو اسی ماحول کا حصہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ساتھ ہی ناول میں مضبوط اور یادگار کردار بھی ہیں۔ چاہے باؤ خالد ہو یا جورا بھٹی، نجی سنیاری ہو یا باسو کمہار ۔۔۔ ہر کردار کی اپنی ایک پہچان اور مخصوص زبان ہے۔
یہ ناول ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ہمارا سماج کس حد تک طبقاتی اور ذات پات پر مبنی ہے اور کس طرح یہ نظام کمزور طبقوں کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔
یہ کتاب بہت عمدہ ہے ۔ منشا یاد اردو ادب کے مایہ ناز رائٹر ہیں اور ان کے اس ناول پر ایک ڈرامہ بھی نشر کیا جا چکا ہے جو کہ بہت عمدگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔یہ ناول ''راہیں'' بھی اپنی مثال آپ ہے ۔
منشا یاد کا ناول "ٹانواں ٹانواں تارا" جس کا اردو ترجمہ "راہیں" ہے، پنجابی فکشن کےبہترین ناولز میں سے ایک ہے۔ نوے کی دہائی میں اس پر پی ٹی وی ڈرامہ بھی بنایا گیا جو اپنی سادگی اور حقیقت نگاری کے باعث بے حد مقبول ہوا۔ یہ ناول پنجاب کے دیہی معاشرے کی ثقافت کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ طبقاتی اور ذات پات کے نظام کی تلخ حقیقتیں بھی بیان کرتا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار خالد ہے جو اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ محبت اور اپنے گاؤں کے لوگوں کی بہتری کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔ اس کی زندگی محنت، قربانی اور مزاحمت سے بھری ہوئی ہے کیونکہ وہ بار بار معاشرے کے طاقتور طبقات کی جانب سے رکاوٹوں اور دباؤ کا سامنا کرتا ہے۔ ناول کے باقی کردار بھی جاندار ہیں جن میں سے بھا باسو کا کردار مجھے ںے حد پسند آیا۔ اس ناول میں منشا یاد نے دیہی پنجاب کی زبان، تہذیب، ماحول، روزمرہ زندگی، ذات پات کے نظام اور طبقاتی فرق کو اس مہارت سے بیان کیا ہے کہ قاری خود کو اسی ماحول کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ RECOMMENDED