Mukhtar Masood (Urdu: مختار مسعود) is a Pakistani Urdu writer and bureaucrat. A graduate from Sir Syed's Muslim University Aligarh, he migrated to Pakistan after independence and was among the three candidates who succeeded in the civil service competitive exam held in January 1949. He then gradually rose to become a commissioner and a federal secretary. Later on he served as chairman of the Pakistan Industrial Development Corporation (PIDC), Agricultural Development Bank of Pakistan (ADBP) and secretary-general of the Regional Cooperation for Development (RCD).
So far he has written 3 books in Urdu: 1. Awaz e Dost (Urdu: آوازِ دوست) 2. Safar e Naseeb (Urdu: سفرِ نصیب) 3. Loh e Ayyam (Urdu: لوحِ ایام)
He has been awarded Sitara-i-Imtiaz, one of the highest civil awards by Government of Pakistan.
مختار مسعود سے تعارف بچپن میں ہوا. گاؤں کے باسیوں تک باقی سہولیات کی طرح کتب بھی بہت دیر میں پہنچتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ جب بچوں کو فرصت اور شوق ہوتا ہے، تب ان کی کتابوں تک رسائی نہیں ہوتی. اب ہم گلہ کرتے ہیں کہ آج کی نسل کتابوں سے دور ہے. جب کہ یہی ہماری بوڑھی نسل ہی تھی جس نے ہمارے پر کاٹے۔ بہرحال میرا بچپن شدید بوریت میں گزرا اور وہ توانائی کسی صحیح راہ میں نہ لگ سکی. ایک دن سگے چچا کے گھر کسی کام سے گیا تو دیسی طاقوں والی الماری میں کچھ کتابیں پڑی تھیں. مانگے سے نہ ملیں اور حوصلہ شکنی کی گئی مگر بعد میں یاد نہیں کہ یکے بعد دیگرے اس طاق سے ان کی تینوں کتب پڑھیں. میری عمر ابھی پختہ نہیں تھی مگر کہانیوں کی تلاش میں، میں نے ان کتب سے الگ لطف حاصل کیا۔ پچھلی تین کتب سے اس کتاب میں یہی فرق تھا کہ وہ اپنے اسلوب اور موضوع میں ہر طرح کے قاری پر اپنا فسوں قائم کرسکتی تھیں. یہ کتاب ایک تحقیقی کاوش لگتی ہے. لگتا یہی ہے کہ عمرِ رواں کے بوجھ کے گرنے سے پہلے مختار مسعود عجلت میں تھے کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سرسید احمد خان کے احسانات کا بدلہ چکا سکیں. ایسا نہیں کہ سرسید اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں ان کا مواد دلچسپ نہیں. اسٹریچی ہال کی صورت میں مسلمانوں کے عروج کی بنیاد میں صرف مسلمانوں کا پاک خون شامل نہ تھا. سرسید احمد خان اگر نہ ہوتے تو شاید میں بھی آج یہ سطریں لکھ نہ رہا ہوتا بلکہ خادم حسین رضوی کے کسی دھرنے میں نعرے لگا رہا ہوتا۔ کتاب کے آخری دو ابواب میں کسی حد تک مختار مسعود کا پرانا انداز دکھا. شاید زیادہ خودنوشتیں پڑھ کر میں عادی ہوچکا ہوں، کہ اس تحریر کو زیادہ پسند کرتا ہوں جب شخصیات کو موضوع بنایا جائے. ویسے بھی کسی سیانے نے بھی کہا ہے کہ خاص لوگ خیالات پر بات کرتے ہیں، اوسط لوگ واقعات پر بات کرتے ہیں اور عام لوگ شخصیات پر بات کرتے ہیں. یوں اس درجہ بندی سے راقم کی ذہنی سطح عیاں ہے۔ کبھی کبھار کتاب صرف الفاظ سے ہی عبارت نہیں ہوتی. یہ کتاب کیا خوب صورتی سے چھپی ہے. اسلم کمال کا سرورق، سفید عمدہ کاغذ، مضبوط کاٹھی اور کم قیمت. اس کتاب سے بہت ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے. شاید یہ چوتھا ایڈیشن تھا اور وہ بھی دو ہزار والا مگر مجال ہے کہ سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر یا پذیرائی کی گئی ہو۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ کچھ لوگ بھی مختار مسعود کے عجب دیوانے ہیں کہ چالیس پچاس کاپیاں اکٹھی خرید کر ان لوگوں میں بانٹتے ہیں جو مختار مسعود کے شائق ہیں. ایسے لوگ ہمارے فیصل مجید بھائی ہیں. حرفِ شوق کی کاپی کے علاوہ ان کی پچھلی تین کتب کی کاپیوں کے لیے بہت شکریہ. میں نے باقی کچھ کتب کی طرح ان تین کتب کے بارے میں سوچ رکھا تھا کہ خرید کر اپنے پاس رکھوں گا مگر آپ نے پیسے بچا لیے۔
زندگی ہمیشہ دوسری زندگیوں کے احسانات کے بدولت نشوونما پاتی ہے۔ اور خوش قسمت ہیں جنکو بینائی میں بصیرت، قلب سلیم اور فکر راست عطا ہوتی ہے جنکی مدد سے وہ اپنی زندگی کے محسنین (افراد اور سماجی ادارے) کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کا اظہار اپنے الفاظ اور اعمال سے ادا کرتے ہیں۔ مختار مسعود کی آخری کتاب "حرف شوق" پر کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وابستہ افراد اور اس ادارے نے ان کی ذات، برصغیر کے مسلم عوام اور پاکستان پر جو احسانات کیے ہیں انکا تفصیلی تذکرہ و تجزیہ کیا ہے۔ یہ قرض ہر مسلم پاکستانی علیگ پر تھا لیکن اس کا حق مختار مسعود نے ادا کیا ہے۔
A very readable history of the Aligarh University from the eyes of one of its graduates. I wish I had read this while I had visited the University since my family has had a historical association with this great Indian Muslim heritage.
This book is a wonderful addition to Urdu language.The writer have his own way of describing the things and events from the history.This book disclosed a lot of hidden chapters from the history.I am reading books since long but few events of history and personalities were new for me. while ready this book the writer introduced few wonderful book from the history. I am really grateful to Mr Mukhtar Masood who left such an impressive book for the coming generations. we mis you a lot sir. We don't have any one like you among us.