عبداللہ حسین سادہ الفاظ میں پُرکار جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ عکس تخلیق کرتے ہوئے وہ کسی فلسفیانہ اور غیر زمینی و ماورائی اسلوب سے مدد نہیں لیتے بلکہ اپنے گرد و نواح میں بستے روزمرہ کی زندگیاں گزارتے کرداروں اور ان کی بظاہر عام سی زندگیوں میں پنہاں جذباتی اسرار و رموز کے نشیب و فراز جو شاید خاموشی سے اندر ہی اندر ایک جوالا مکھی کی طرح زندہ جاوید ہوتے ہیں کو موضوع بناتے ہیں۔ عبداللہ حسین کی تحریروں کا یہ اسلوب ہر ساعت ایک ایسے گردباد کو محسوسات میں ڈھالتا ہے جو کسی طوفان پر منتہج ہوتا ہے۔ رات بھی ایک ایسی ہی تحریر ہے۔ حساسیت اور محبت کا انسانی جذبات اور زندگی سے کیا پریکٹیکل ناطہ ہے۔ فن کو محسوس کرنے اور اس کو کسی لگے بندھے پذیرائی کے سانچے میں ڈھال دینے سے کیا وہ فن ہی رہتا ہے؟ تخلیق کار کا اپنی تخلیقی سرشت سے کیا رشتہ ہے؟ بظاہر سادہ اسلوب میں لکھی گئی "رات" اس طرح کے بہت سے سوال پڑھنے والے کو خود سے کرنے پر مائل کرتی ہے۔
یہ تقریباً پینتالیس صفحات پر مشتمل ناولٹ ہے۔کہانی کے تین مرکزی کردار جمال،ریاض اور شوکت ہیں۔کہانی دوستی,محبت اور دولت کے گرد گھومتی ہے۔پہلے محبت کے آگےدوستی کو ٹوٹتے دکھایا گیا ہے اور پھر دولت کو زندگیوں میں پچھتاوے کا سیاہ رنگ بھرتے ہوٸے۔
یہ ناولٹ تین کرداروں کے گرد گھومتا ہے۔ انسان کرنا کچھ چاہتا ہے کر کچھ لیتا ہے پھر باقی ماندہ زندگی بجائے اس کئے ہوئے میں خوش رہنے کے نہ کئے ہوئے کے غم میں گزار دیتا ہے۔۔
Can different literatures possess different feelings? For me, Urdu literature reminds me of the sadness our generations may have faced, and I think that's why it's so often reflected in the writing.