Ibn-e-Safi (also spelled as Ibne Safi) (Urdu: ابنِ صفی) was the pen name of Asrar Ahmad (Urdu: اسرار احمد), a best-selling and prolific fiction writer, novelist and poet of Urdu from Pakistan. The word Ibn-e-Safi is an Arabian expression which literally means Son of Safi, where the word Safi means chaste or righteous. He wrote from the 1940s in India, and later Pakistan after the partition of British India in 1947.
His main works were the 126-book series Jasoosi Dunya (The Spy World) and the 120-book Imran Series, with a small canon of satirical works and poetry. His novels were characterized by a blend of mystery, adventure, suspense, violence, romance and comedy, achieving massive popularity across a broad readership in South Asia.
لاشوں کے سوداگر کی کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کچھ لوگ مستقبل کا حال بتانے کے جھانسے میں لوگوں کو دھوکے سے لوٹنے کے ساتھ ساتھ دیگر کئ ایک غیرقانونی دھندے بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کہانی میں ڈاکٹر ہڈسن نامی انگریز فراعین مصر کے اہراموں سے دریافت شدہ اور حنوط کردہ لاشوں (mummies) کی روحوں کو بلا کر مستقبل کا حال بتانے کی اوٹ میں جعلی کرنسی نوٹوں کا دھندہ کرتا ہے، جس میں شہر کے کئ ظاہری شرفاء کے علاوہ دو انگریز لڑکیاں روزیٹا اور ریگی، ایک مرد انگریز رولینڈ کے علاوہ مقامی غنڈہ گریٹی بھی شامل ہوتے ہیں۔
کرنل فریدی اور کیپٹن حمید مل کر ان کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اور مجرموں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
ابھی تک معاملہ تین ستاروں تک ہی رہ رہا ہے۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ پانچ ستاروں تک ضرور پہنچے گی۔ میرا دوست کو بھی خوشی ہے کہ مجھے ابن صفی کی کتب پسند آنے لگی ہیں۔ وہ بہت بڑا شیدائی ہے ان کا اور یہ تمام کتب نجانے کتنی بار پڑھ چکا ہے۔ جبکہ میں اسے کہتا ہوں کہ "وقت کم ہے اور کتابیں بہت زیادہ"