Ibn-e-Safi (also spelled as Ibne Safi) (Urdu: ابنِ صفی) was the pen name of Asrar Ahmad (Urdu: اسرار احمد), a best-selling and prolific fiction writer, novelist and poet of Urdu from Pakistan. The word Ibn-e-Safi is an Arabian expression which literally means Son of Safi, where the word Safi means chaste or righteous. He wrote from the 1940s in India, and later Pakistan after the partition of British India in 1947.
His main works were the 126-book series Jasoosi Dunya (The Spy World) and the 120-book Imran Series, with a small canon of satirical works and poetry. His novels were characterized by a blend of mystery, adventure, suspense, violence, romance and comedy, achieving massive popularity across a broad readership in South Asia.
"Shola serires - Pehle Shola, Dusra Shola, Teesra Shola and Jahannum ka Shola is described as a masterpiece of his work. And by god it is. This series takes you to a different world. While Sardargarh is a place frequently used in his work, Karaghal was that world of fantasy that he created with smallest nuances. The underground headquarters, the queen of power, the chhunnuk chhunnuk of monkey troubling Qasim is oh-so-great. And this has one of the best characterization. Dr Salman, Tatariya, fake T3B and Alfanse, Roohi, Naushaba, Karaghal ki khanum, and Sahera (and enchantress indeed). I remember every character vividly. *** Irrespecive of the title, and what rating I give, I love his work. Ibn-e-safi, the person who introduced me to the world of suspense and thriller at young age of six (ish). Growing up, it was a challenge to get hold of his books. Thanks to the people who put a lot of effort to digitize all his books. Since past three years, i have read all his 150+ books, Imran Series and Jasoosi Duniya, at least once in a quarter. Yes, that is how much I like his work. Sue me, if it is wrong."
اس ناول کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے، جہاں سابقہ ناول کا ختتام ہوا تھا۔ یعنی کہ فریدی وادئ کراغال سے نکلنے کے بعد رام گڑھ میں داخل ہو کر آگے بڑھ رہا تھا کہ اسے اسی پہاڑی سلسلے میں قاسم اور حمید مل گئے، جنہیں مجرموں نے چھوڑ دیا تھا۔ قاسم کو واپس روحی کے گھر بھیجنے کے بعد فریدی نے حمید کو آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کر کے بھیج دیا۔ ساتھ ہی حمید کو دوران گمشدگی ڈاکٹر زبیری کے اس ڈھونگ رچے تجربے کے مطابق اپنی حرکتوں کو مخصوص رنگ دینے کی ہدایت بھی کہ، تاکہ مجرموں کو یقین ہو جائے کہ وہ ان کے اس نفسیاتی تجربے کا شکار ہو چکا ہے۔ بہرحال اس تجربے سے بچ جانے میں وہ ڈاکٹر زبیری کا ممنون تھا۔ اسی دوران انور اور رشیدہ بھی کہانی کا حصہ بنے ہیں، جہاں انور قاسم کو ڈھونڈنے رام گڑھ آیا ہوا تھا۔ فریدی نے مزید مجرموں کو ہراساں کرنے کیلئے پہلے نواب شکوہ کو مار پیٹ کرنے کے بعد معلومات بہم پہنچانے کے بعد زندہ جانے دیا، پھر ڈاکٹر سلمان کی کار جلا دی۔ اور مجرموں کی طرف سے جعلی نوٹوں کے دھندے کو چلانی والی مادام تتاریہ کے اڈے پہ چھاپہ مار کر اس کے آدمیوں کی درگت بنا کر اصلی کرنسی نوٹ بھی لے اڑا۔ اور حمید نے اس دوران اپنے اوپر کئے گئے تجربے کی تصدیق کرنے کیلئے کافی اوٹ پٹانگ حرکات شروع کر دیں مثلا قاسم کی مرمت اور قاسم بشمول نوشابہ اور روحی پہ فائر کر کے وہاں سے ڈاکٹر سلمان کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ فریدی نے اس دوران انور، رشیدہ اور چند مسخر کردہ بدمعاشوں کے ذریعے ایک جعلی مجرمانہ تنظیم کا آغاز کر دیا تاکہ 'طاقت' نامی مجرمانہ تنظیم کے پاؤں لڑکھڑا دیئے جائیں۔ رد عمل کے طور پہ بوکھلاہٹ میں بلائ گئ مجرموں کی تنظیم کے 'ادارہ روابط عامہ' کی ایک ایسی ہی میٹنگ میں فریدی بطور نقاب پوش میڈم تھریسیا بمبل بی آف بوہیمیا کا قاصد بن کر پہنچتا ہے اور سات لاکھ کا مطالبہ دہراتا ہے، جو اس سے پہلے فون کے ذریعے مادام تتاریہ سے کیا گیا تھا۔ مجرم اس پہ اپنے خاص ہتھیار 'پش فائر' سے حملہ کرتے ہیں، جس میں ایک شعلہ نقاب پوش فریدی کے ہاتھ سے اس کے جسم پہ پھیل کر اس کے سر کو آگ کی لپٹوں میں لے لیتا ہے۔ یہی تیسرا شعلہ ہے۔ مگر مجرموں کی حیرت کی انتہا نہیں رہتی، جب وہ نقاب پوش اس کے باوجود کھڑکی سے چھلانگ لگا کر نکل جاتا ہے۔
بہر حال، اس سیریز میں ایک بار پھر ابن صفی نے اس صنف کی تخلیقی اور سحر انگیز کہانی تشکیل دے کر خود کو اس صنف کا باوا آدم منوایا ہے۔ نہایت شاندار۔
جی تو "تیسرا شعلہ" بھی اختتام کو پہنچا۔ ناول ٹھیک ٹھاک ہے۔ یعنی کہ مصنف کا تخیل اچھا کام کر رہا ہے۔ اس زمانے میں اس طرح کی مشینوں اور آلات کے بارے لکھنا واقعی میں کمال کی بات ہے۔ اس میں حمید کو بھی بہترین کام کرتے بتایا گیا ہے۔ اور اب رہ گیا "جہنم کا شعلہ" دیکھتے ہیں اس سلسلے کا اختتام کیسا ہوتا ہے۔