Masud Mufti is a Pakistani writer known for his books on 1971 war. He served in Civil Service of Pakistan (District Management Group). Since retirement in 1994 he wrote articles in English and Urdu press of Pakistan till 2009, but now mostly pursuing the life-long hobby of writing Urdu literature.
چودہ دسمبر 1971ء کو مسعود مفتی نے گورنر مشرقی پاکستان و دیگر وزراء و امراء کے ہمراہ ہوٹل انٹرکونٹینینٹل میں پناہ لی جو ریڈ کراس کی تحویل میں فضائی بمباری سے محفوظ سیف زون تھا۔ انیس دسبر کو انہیں ڈھاکہ چھاؤنی میں جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ یہ کتاب ہوٹل میں محصور ان پانچ دنوں کے تاثرات پر ہے جو پناہ گزینوں کے چہروں کی زبانی بیان کیے گئے ہیں۔ چہرے جن سے خوف، امید، ذہنی کرب اور ہر اندرونی کیفیت جھلکتی نظر آتی ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان پر دیگر تحریروں کے برعکس یہ ایک خالصتاََ ادبی نوعیت کی تحریر ہے جس میں سیاسی و تواریخی حوالے اور روزمرہ کے واقعات بالکل عنقا ہیں۔ یہ ایک ادیب کی نظر تھی جس نے مورخ کی نظر سے واقعات کو نہیں دیکھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس لکھے میں اثر زیادہ ہے کہ اضطراب و خوف کی ہڈ بیتیوں میں مصنف کے قلم سے جو نکلا، وہ سیدھا قاری کے دل تک پہنچ گیا۔ مشرقی پاکستان کی نزع کے دنوں پر لکھی کتابوں میں ایک اچھی ادبی کتاب۔