Ahmad Faraz was an Urdu language Pakistani poet from Pakistan. He is considered one of the greatest modern Urdu poets of the last century. Faraz is his pseudonym or 'takhalus'. His real name was Syed Ahmad Shah. Faraz is critically acclaimed for simplicity to his style of writing and he is often compared to Faiz Ahmed Faiz - one of the greatest poets of Pakistan. Outspoken about politics, he went into self-imposed exile during the General Zia-ul-Haq era after he was arrested for reciting certain poems at a Mushaira criticizing the military rule. He stayed for 6 years in Britain, Canada and Europe before returning to Pakistan, where he was initially appointed Chairman of Pakistan Academy of Letters and later chairperson of National Book Foundation for several years.
He was awarded the highest literary award of Pakistan Kamal-e-Fun Award in 2000 and Hilal-e-Imtiaz in 2004, in recognition of his services to literature. He returned the latter in 2006 after becoming disenchanted with the Pakistani government and its policies.
شمع کی لو تھی کہ وہ تُو تھا مگر ہجر کی رات دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے ...
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی ...
دل نے نہ مانا کہ کسی اور کے رستے پہ چلیں لاکھ گمراہ ہوئے نقشِ قدم سے اپنے میرے دامن کے مقدر میں ہے خالی رہنا آپ شرمندہ نہ ہوں دستِ کرم سے اپنے ...
کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے مجھ سا منکر بھی تو قائل ہوگیا تقدیر کا جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا ...
غمِ دنیا میں غمِ یار بھی شامل کرلو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں آج ہم دار پر کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کے نصابوں میں ملیں ...
میں کہ پرشور سمندر تھے میرے پاؤں میں اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں تُو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں ...
تجھے خبر نہیں، شاید کہ ہم وہاں ہیں جہاں یہ فن نہیں ہے اذیت ہے، زندگی بھر کی مگر تجھے نہیں معلوم قربتوں کے الم تری نگاہ مجھے فاصلوں سے چاہتی ہے تجھے خبر نہیں شاید کہ خلوتوں میں مری لہو اگلتی ہوئی زندگی کراہتی ہے