مسعود اشعر کے افسانے بھول بھلیاں ہیں۔ جن میں مرکزی نکتہ و اصل بات ڈھونڈنے کے لئے سوچ کی غلام گردشوں میں بھٹکنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اصل بات سمجھ نہیں آتی اور دورائے قدم پکڑتی ہے۔ مگر قاری کی سوچوں کو چابک دکھانا ہی شاید صاحب کتاب کی منشاء تھی جس میں وہ کامیاب رہے۔ اب سوچنے والا فکر کی کس منزل پر پہنچتا ہے، اس سے انہیں غرض نہیں ہوتی۔ مسعود اشعر اپنے ان افسانوں میں تجرید اور علامتی افسانے کی سرحد پر چلتے نظر آتے ہیں اور اردو افسانوں کی مروجہ روایات کو توڑتے اور نئی جہات، نئے انداز سے افسانہ لکھتے ہیں۔ جدت ان کی لکھی زبان کی وجہ سے نہیں آتی، بلکہ ان کے افسانہ 'کنسٹرکٹ' کرنے کے انداز میں ہے۔ کوئی افسانہ خطوط کی شکل میں ہے۔ کوئی افسانہ یاد ماضی کی صورت لئے۔ ایک افسانہ بیوی کی خودکلامی میں لکھ دیا۔ ایک گھڑی کی ٹک ٹک میں سمودیا۔ نت نئے تجربات اگرچہ عادت نہ ہونے کے باعث کچھ عجیب لگتے ہیں مگر جب آپ لکھنے والے کی فریکونسی پر ٹیون ہوجائیں تو بہت لطف دیتے ہیں۔ تجریدی انداز سے لکھنے کے باعث افسانوں کا عنوان کچھ ہوتا ہے، کہانی کچھ جبکہ درپردہ بات کچھ اور کھٹکتی محسوس ہوتی ہے۔ کسی پزل کی طرح! جسے آپ نے حل کرنا ہے۔ اب اتنی پیچیدگیاں ہوں تو بےچارے پڑھنے والے کی ذہنی آزمائش ہی ہے مگر اس کے باوجود آپ داد دیے بغیر رہ نہیں سکتے اور اردو میں نیا انداز پڑھنے والوں کو یہ مجموعہ بالکل مایوس نہیں کرے گا۔ مسعود اشعر کا عالمی ادب و تراجم سے تعلق بھی چونکہ خاصا رہا ہے تو وسعت مطالعہ کی چھاپ ان کے افسانوں میں بھی واضح محسوس ہوتی ہے۔ شاید اسی لئے ان کے یہ افسانے عالمی معیار کو چھوتے محسوس ہوتے ہیں۔