پاکستان کے نامور ترقی پسند نقاد، ماہرِ لسانیات، افسانہ نگار اور مترجم اختر حسین رائے پوری کی خونوشت، مطالعہ اور مشاہدات۔ ۔ ۔ اردو آپ بیتیوں میں ایک اہم نام، آدم جی ادبی انعام یافتہ۔
" امیر اندلس عبد الرحمن ثالث کے وزیر با تدبیر المنصور کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب کسی مہم سے لوٹتا تو اپنی قبا کی گرد کو ایک کوزے میں جھٹک دیتا۔جب مہم جوئی میں زندگی ختم ہوئی اور اس نے داعی اجل کو لبیک کہا تو کوزے کی خاک اس کے کفن پر چھڑک دی گئ۔میں اتنی گرد راہ کہاں سے لاؤں لیکن جو بساط میں باقی رہ گئ اسے ان اوراق پر جھٹک دیا ہے"(صفحہ 275) ادیب،صحافی، ماہر لسانیت، سفیر،ماہر تعلیم،مترجم،افسانہ نویس،سنسکرت،ہندی،فرانسیسی اور فارسی کے بڑے عالم ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری مرحوم کا دلچسپ،سبق آموز، فکر انگیز زندگی نامہ: ادیبوں،شاعروں، سیاست دانوں،صحافیوں، مجاہدین آزادی کے دلچسپ چٹکلوں، سبق آموز حکایت سے مزین، قومی زندگی کے کئی گوشے وا کرنے والی آپ بیتی اور خون دل سے لکھے گئے ایک دردمند محب وطن مبصر کے تبصروں پر مشتمل جگ بیتی- ہر صفحہ ادبی چاشنی سے مملو۔ مصنف نے یونیسکو کے سفیر کی حیثیت سے مختلف ملکوں کے سفر کئے،اس لئے یہ ایک دلچسپ سفر نامہ بھی ہے ۔ کتاب ان الفاظ کے ساتھ ختم ہوتی ہے،" میں انسان دوستی اور انسان بیزاروں کی بھول بھلیوں سے گزر کر انسان شناسی کی منزل تک پہنچا ہوں۔یہ روحانی اور ذہنی سفر آسان نہ تھا اور اس کے بیان میں مجھے لا محالہ اختصار سے کام لینا پڑا۔ناسازگار حالات نے کئی گفتنی مضامین کو ناگفتہ رہنے دیا۔ کفن بیار تو تابوت و جامہ نیلی کن کہ روزگار طبیب است و عافیت بیمار " اصل اردو کتاب دانیال ، کراچی نے شائع کی تھی اور اس کا خوبصورت انگریزی ترجمہ امینہ اظفر نے کیا ہے اور آکسفورڈ نے شائع کیا ہے۔۔