ایک بہت ہی عمدہ کتاب جو ہر مسلمان کو حصوصًا پاکستانی کو ضرور پڑھنی چاہیئے اور جائزہ لینا چاہیئے کہ اسلامی طرزحکومت قرآن اور حدیث کی روشنی میں کیسی ہوتی اور بادشاہت کیا چیز ہے. اس کتاب کو پڑھنے کے بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان جو کہ اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے وہ کس حد تک اسلامی ہے.
ویسے تو اس کتاب میں کافی قیمتی باتیں ہیں مگر ہمارے ملک میں جو بہت بنیادی سطح کے کام ہوتے ہیں ان کے بارے کچھ اسلامی نظریے مثال کے طور پر پیش کر رہا ہوں.
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو, انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو, خواہ تمہاری گواہی تمہارے اپنے خلاف یا تمہارے والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف پڑے."
"اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کر سکو."
"مشرکین میں سے جن لوگوں کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ وفا کرنے میں کوئی کمی نہ کی اور نہ تمہارے خلاف کسی اور کی مدد کی تو ان کے عہد کو معاہدے کی مدت تک پورا کرو."
"تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم کو خدا کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو تم زمین پر جم کر بیٹھ جاتے ہو.... اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں درد ناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے."
یاد رہے یہاں اللہ مسلمانوں سے مخاطب ہو رہا ہے.
"اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہاری گھروں سے نہیں نکالا ان کے ساتھ تم نیک سلوک اور انصاف کرو, یقیننًا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے."
احادیث اور اقوالِ خلفاء راشدین
"کسی حاکم کا اپنی رعیت میں تجارت کرنا بد ترین خیانت ہے"
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا
"جو شخض محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے معاملات میں سے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا ہو اور پھراس نے لوگوں کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق کام نہ کیا اس پر اللہ کی لعنت."
پھر فرمایا, " میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہو, اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرو تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں."
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, "بخدا ہم اپنی اس حکومت کا منصب کسی ایسے شخض کو نہیں دیتے جو اس کا طالب اور حریص ہو."
عبدالرحمن بن سمرہ سے حضور نے فرمایا, اے عبدالرحمن امارت کی درخواست نہ کرو, کیونکہ اگر وہ تمہیں مانگنے پر دی گئی تو خدا کی طرف سے تم کو اس کے حوالے کر دیا جائے گا, اور اگر وہ تم کو بے مانگے مل گئی تو خدا کی طرف سے تم کو اس کا حق ادا کرنے میں مدد دی جائے گی."
"لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کو ہاتھ سے نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ ان پر عذابِ عام بھیج دے."
میرے بعد کچھ لوگ حکمران ہونے والے ہیں. جو ان کے جھوٹ کی تائید کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں.
عنقریب تم پر ایسے لوگ حاکم ہوں گے جن کے ہاتھ تمہاری روزی ہوگی, وہ تم سے بات کریں گے تو جھوٹ بولیں گے, اور کام کریں گے تو برے کام کریں گے. وہ تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہو گے جب تک تم ان کی برائیوں کی تعریف اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرو. پس تم ان کے سامنے حق پیش کرو, جب تک وہ اسے گوارا کریں. پھر اگر وہ اس پر تجاوز کریں تو جو شخض اس پر قتل کیا جائے گا وہ شہید ہو گا.
جس نے کسی حاکم کو خوش کرنے کے لیے وہ بات کی جو اس کے رب کو ناراض کر دے تو وہ اللہ کے دین سے نکل گیا.
حضرت عمر نے ایک بار حضرت سلمان فارسی سے پوچھا کہ میں بادشاہ ہو یا خلیفہ؟
انہوں نے بلا تامل کہا اگر آپ مسلمانوں کی زمین سے ایک درہم بھی حق کی خلاف وصول کریں اور حق کے خلاف خرچ کریں تو آپ بادشاہ ہیں نہ کہ خلیفہ.
ایک اور موقع پر حضرت عمر نے اپنی مجلس میں کہا کہ خدا کی قسم میں ابھی تک نہیں سمجھ سکا کہ میں بادشاہ ہو یا خلیفہ. اگر میں بادشاہ ہوں تو یہ بہت بڑی سخت بات ہے. اس پر ایک صاحب نے کہا اے امیر المومنین ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے, آپ نے پوچھا وہ کیا, ان صاحب نے کہا کہ خلیفہ کچھ نہیں لیتا مگر حق کے مطابق, اور کچھ خرچ نہیں کرتا مگر حق کے مطابق. آپ خدا کے فضل سے ایسے ہی ہیں. رہا بادشاہ تو وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے, ایک سے بے جا وصول کرتا ہے اور دوسرے کو بے جا عطا کرتا ہے.