ہائلی ریڈیبل کتاب جاڑے کی دھوپ اور تپتی دوپہر میں ٹھنڈی چھاؤں ایسی لطافتوں والی کتاب کا نام دھوپ چھاؤں ہی ہوسکتا تھا۔ شگفتگی، دلچسپی اور روانی۔ ۔ ۔ بہت سی تحریروں کے بارے میں یہ توصیفی اسم لکھے گئے ہیں مگر ان کا سب سے اعلا نمونہ میرے خیال میں چراغ حسن حسرت کے یہ مضامین ہیں۔ 'ہائلی ریڈیبل بُک' کا اردو مترادف دستیاب نہیں ہوسکا اس لئے انگریزی ترکیب سے کام چلائیں۔ امید ہے پڑھنے والے تک مافی الضمیر پہنچ گیا ہوگا۔ کتاب کے تین حصے ہیں: دلچسپ افسانے، شگفتہ مضامین، زرنیخ کے خطوط۔ ۔ ۔ تینوں حصوں میں جو قدر مشترک ہے وہ ہے دبا دبا مزاح اور چلبلا انداز تحریر۔ افسانوں میں کچھ تراجم ہیں، کچھ طبع زاد۔ تراجم بھی ایسی مہارت سے کیے گئے ہیں کہ طبع زاد کا ہی دھوکا ہو اگر حوالے ہٹا دیے جائیں۔ مضامین میں کچھ سیاسی نوعیت کے ہیں، کچھ معاشرتی۔ چند ادبی معلوماتی بھی ہیں۔ مگر سب کے سب مزاح کے تڑکے کے ساتھ! ایک سنجیدہ سفرنامچہ بھی شامل کیا گیا ہے جو 'افسانوی اندازِ سفرنامہ' کا خوبصورت نمونہ ہے۔ سب سے دلچسپ حصہ زرنیخ کے خطوط لگا جس میں مریخ سے آئی ایک مخلوق اپنے دوست کو چٹھیوں میں اپنا حالِ سفر بلکہ احوالِ ہندوستان حیرت و استعجاب کے ساتھ سناتی ہے۔ چند خطوط کے عنوانات ملاحظہ ہوں: اخبار نویس، شاعروں ادیبوں کی ایک محفل، یونیورسٹی میں ایک دن، عورتوں کا جلسہ، اسمبلی میں۔ ۔ ۔ رخصت کا خط البتہ سب سے زیادہ دل کو بھایا جس میں تمام تر کجیوں کے باوجود اہلِ ہند کے اخلاص و مروت کو سب سے مقدم جانا گیا اور سر آنکھوں سے لگایا گیا۔ اُردو مزاح کے شائق اور عمومی قاری اس انتخاب کو ضرور پسند کریں گے۔