کتاب توقع سے ہٹ کر ثابت ہوئی. میں سمجھا تھا کہ شاید سراغراسائی صحافت کے طرز پہ کوئی انکشافات سے لبریز کتاب ہوگی جس میں جیل کے اندر جاری دھندوں سے پردہ ہٹے گا. یہی کچھ تو انگریزی فلموں میں دیکھا ہے. بہرحال اردو ڈائجسٹ میں اسکا اشتہار دیکھا تھا. کتاب کے اندر محترم جناب جاوید راہی نے اصل جرائم کے واقعات کو اپنی صحافتی مہارت سے بہت سنسنی خیز کہانیوں میں بدلا. بہت اچھی کتاب ہے. راقم کی طرح جو حضرات جرمیات میں دلچسپی رکھتے ہیں. انکو ضرور پسند آئے گی. کتاب سے نظر ہٹانا مشکل ہوجاتی ہے.