یہ فقرہ بمعہ متضاد رجحانات کا طبیعت میں پایا جانا، اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اگر کسی کو شیکسپیئر کی افادیت کا اندازہ نہ بھی ہو تو ، چل جائے، لیکن ، مجھے کہیں بھی یُبُوست زدگی کا احساس نہیں ہوا۔ میں خود نوِشت کو ادبی تنقید کے الگ زاویے سے دیکھتا ہوں۔ سوانح تحریر کرتے وقت لکھاری ماضی کی ٹرین میں براجمان اتنی دہائیوں پر مشتمل سفر طے کر رہا ہوتا ہے کہ جزبات و نفسیات کے تموج کا نیا ڈھنگ ترتیب پا رہا ہوتا ہے۔
خود نوشت کے بارے میں ڈاکٹر سلیم اختر صاحب نے آغاز ہی میں قابلِ توجہ' تحفظات' سے آگاہ کر دیا ہے جو ہر مصنف کے لیے سلیقے کا کام دے سکتے ہیں۔ سلیم اختر صاحب نے نفسیات پر لکھنے اور تنقیدی دبستان سے تعلق رکھنے سے شہرت پائی۔ ان کی 'اردو کی مختصر ترین تاریخ' جتنی متنازعہ حیثیت اختیار کر چکی ہے اتنی ہی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے (نوٹ: متنازعہ ہونا ، کتاب کے اچھے ہونے کی سند نہیں ، پر اکثر اچھی کتب ہی اس عتاب کا نشانہ بنتیں) ۔
ادب شناس محقق ، نفسیات سے لگاؤ ، کامیاب پروفیسر: ڈاکٹر اختر سلیم صاحب اردو ادب کا ایک بہت بڑا باب ہیں۔ ان کی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ خودنوِشت پڑھنے کا خوب لطف حاصل کیا۔ بچپن کی شرارتیں جو خاصی محظوظ کن ہیں سے لے کر ادبی بیٹھکوں اور ادیبوں کے چھوٹے چھوٹے خاکے شامل ہیں۔ کوئی صفحہ بھی دلچسپی سے عاری نہیں۔ ان چند ادبی خاکوں میں ایک خاکہ 'ناہنجار' کے نام سے ہے۔ بہت ہی انوکھا خاکہ ہے، اس شخص کا جو سلیم اختر صاحب کا نا استعمال کر کے مختلف ادیبوں سے پیسے اینٹھتا رہا ، اور بقول ڈاکٹر صاحب وہ پچیس سال سے ادبی تحاریر لکھ کر نام کمانے کی کوشش کر رہا ہے پر اس کا نام نہیں واضح کیا گیا۔
نشانِ جگرِ سوختہ (آپ بیتی) از ڈاکٹر اختر سلیم بلاشبہ اردو کی اور جدید خود نوِشتوں میں سے ایک اہم خود نوِشت ہے.
ہر اِک ادیب ہے اس کے مزاج کا مداح عجیب طرح کا انساں سلیم اختر ہے
زیر نظر کتاب ڈاکٹر سلیم اختر کی خود نوشت ہے اور سچی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے کیا خوب کتاب لکھی ہے- سلیم اختر نے بے شمار موضوع منتخب کیے اور خامہ فرسائی کی اور کمال یہ ہے کہ ہر موقع پر بوہت خوب لکھا اور خود کو منوایا. انکی کتاب "درشن جھروکا" میری پسندیدہ ترین کتب میں سے ہے. اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب اعتراف کرتے ہیں کہ وہ خاکہ نویس نہیں ہیں لیکن جب بات ائی خود نوشت کی تو انہوں نے کمال کی کتاب تخلیق کر دی جو نشان جگر سوختہ کے نام سے ہمارے سامنے ہے- آپ اس کا مطالعہ کریں اور سر دھنئے-