Shamsur Rahman Faruqi (Urdu: شمس الرحمٰن فاروقی) (born January 15, 1935) is an Indian poet and one of the leading Urdu critics and theorists. He is regarded as the T.S. Eliot of Urdu criticism and has formulated fresh models of literary appreciation. He absorbed western principles of literary criticism and subsequently applied them to Urdu literature, but only after adapting them to address literary aesthetics native to Arabic, Persian, and Urdu. He was born on 15 January 1935 in India. He received his Master of Arts (MA) degree in English from Allahabad University in 1955. He began writing in 1960. Initially he worked for the Indian postal service (1960-1968), and then as a chief postmaster-general and member of the Postal Services Board, New Delhi until 1994. He was also editor of his literary magazine Shabkhoon and part-time professor at the South Asia Regional Studies Center at the University of Pennsylvania. An expert in classical prosody and ‘ilm-e bayan (the science of poetic discourse), he has contributed to modern literary discourse with a profundity rarely seen in contemporary Urdu critics. He is the recipient of numerous honors and awards. Most recently he was awarded the prestigious Saraswati Samman for his work She`r-e Shor-Angez, a four-volume study of the eighteenth-century poet Mir Taqi Mir. He was awarded the Saraswati Samman, a prestigious literary award in India in 1996.
کیوں کہ میں کچھ روز سے علیل تھا تو گھر پر فارغ بیٹھا ہوا تھا۔ اپنے عارضے سے ایک طرح سے بہرہ مند ہو کر ، میں نے اس کتاب کا مطالعہ کر کے اپنی حسرتِ دیرینہ پوری کردی۔ یہ کتاب الفاظوں کے بارے میں ہے۔ چونکہ ہماری وسیع المعنی اور دور رس زبان میں انگنت الفاظ موجود ہیں اورکئی بڑے شہروں اور ملکوں میں بولی جاتی ہے تو بہ تدریج الفاظوں کے معنی، تلفّظ اور جنس تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری مضافاتی زبانیں اردو پر ذیاثر ثابت ہوتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں فاروقی صاحب کی کتاب گویا عیسیِ دوراں کا کردار ادا کرتی ہے۔
گاہ و بے گاہ فاروقی صاحب اردو پر ہندی کے اثر و رسوخ کے سلسلہ میں مشتعل ہو جاتے ہیں۔ پہلے تو وہ اردو دانوں سے نہایت مایوس ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی زبان کی پاکیزگی اور عفّت کا ذرا بھی خیال نہیں ہے۔ پھر اردو کی گرامر کی رو سے ردّ و قدح کرتے ہیں کہ ایسے بھونڈے الفاظ اور تراکیب کے لیے اردو میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور پھر ہماری رہنمائی کے لیے ان کے اردو متبادل بھی درج کرتے ہیں۔ میں نے ان عبارتوں کو پڑھ کر بہت حظ اٹھایا۔ میرا دل باغ باغ ہو گیا تھا۔
یہ کتاب واقعی بہت مفید ہے۔ کتاب میں تلفّظ کے لحاظ سے، دہلی، لکھنؤ اور پوربی علاقوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کئی مفصّل بحثیں کی گئیں،لیکن بدقسمتی سے کراچی کی اردو سے چشم پوشی فرماتے ہوئے۔ کوئی نہیں کراچی کو سب ہی نظر انداز کرتے ہیں ہا ہا ہا۔ کاش کہ آپ کراچی کی اردو کو بھی اپنا مرکزِ نظر ٹھہراتے۔ ہمارے یاں کئی تلفّظ رائج اور مقبول ہیں جن کا ذکر کرنا بھی ضروری تھا۔ بہت سے الفاظوں کا تلفّظ جو "واجب الترک" یا ان سے اجتناب کرنا بہتر سمجھا گیا ہے، ہمارے ہاں بولے جاتے ہیں۔ اوپر سے جیسے ہندوستان میں ہندی کا اثر اتنے وسیع پیمانے پر سرایت کرتا چلا جا رہا ہے، ویسے ہی ہمارے ہاں پنجابی کا اثر ہے۔
بہر حال، وہ دن گئے کہ خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ آنے والی نسل کو اپنی زبان اور ادب سے لگاؤ نہیں ہے اور یہ ہی سبب ہے کہ ہم جلد اپنی ثقافت، تہذیب اور تمدّن کو کھو دیں گے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے کہ میں اپنی چھوٹی بہن کو اردو سکھا رہا تھا۔ میں نے اس سے بولا کہ میں فلاں جملہ تمہاری کاپی میں لکھتا ہوں، تم اس کی پریکٹس کرو۔ اور اتفاقاً وہ کتاب میرے والد صاحب نے اٹھا کے دیکھ لی۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک غلط جملے پر میرا صاد لگا ہوا ہے۔ انہوں نے فوراً مجھے ٹوکا۔ وہ جملہ "میرے پاس دو بھائی ہیں" تھا۔ مجھے بعد میں اپنے اوپر بہت حیرانی اور شرمندگی ہوئی کیوں کہ یہاں پر لفظ "پاس" غیر ضروری اور اضافی ہے۔ جملہ بس یوں ہونا چاہیے تھا "میرے دو بھائی ہیں۔" آپ اس کو انگریزی کا اثر کہہ سکتے ہیں کیوں کہ انگریزی میں ہم ایسے بولتے ہیں: I "HAVE" two brothers.
اس طرح کی میری اور بھی صریح روز مرّہ کی غلطیاں ہوں گی جن سے اب مجھے خدشہ ہوتاہے۔ تا چند میں ایسی لغزشیں کرتا رہوں گا؟ اس سوال کا جواب تو... ہم سب کو معلوم ہی ہے. . .