Jump to ratings and reviews
Rate this book

Rozan-e-Deewar Se / روزن دیوار سے

Rate this book
کالموں کا مجموعہ۔ آدم جی ادبی انعام یافتہ۔

Hardcover

18 people want to read

About the author

Ata ul Haq Qasmi

16 books13 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
3 (100%)
4 stars
0 (0%)
3 stars
0 (0%)
2 stars
0 (0%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 of 1 review
Profile Image for MadZiddi.
125 reviews49 followers
April 21, 2020
کتاب کو خریدتے وقت میں کچھ ہچکچایا اگرچہ عطاالحق قاسمی مزاحیہ ادب میں ایک بڑا نام ہیں اور پسندیدہ اد یبوں کی انپڑھی کتابیں ختم ہوگئی تھیں، مگر عطاالحق قاسمی کے بارے میں سنا تھا کہ انہوں نے مختلف اھم سرکاری عہدے نواز شریف سے قبول کءی تو ان پہ ادیب سےزیادہ سیاستدان ہونے کا گمان ہوتا تھا۔ بہرحال ورق گردانی سے سے پتا لگا کہ پیش لفظ کسی اور نے نہیں بلکہ خالد اختر صاحب نے لکھا ہے تو بس فورا خرید لی۔اور واقعی خالد صاحب جیسے مستند قاری کی ضمانت ہو تو پچھتانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کتاب جو کہ 70 کی دہائی میں لکھے ہوئے کالموں کا مجموعہ ہے ظرافت اور مزاح سے بھرپور ہے۔ سب سے اچھی بات جو قاسمی صاحب کی نثر میں لگی وہ یہ تھی کہ انہوں نے لطیفوں کا بڑا برمحل استعمال کیا ہے مثال کے طور ایک جگہ وہ لطیفہ سناتے ہیں۔
ایک مدہوش شرابی نے الفلاح بلڈنگ کے سامنے ٹیکسی روکی اور پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ڈرائیور سے کہا الفلاح بلڈنگ چلو
ڈرائیور یہ سن کر مسکرایا۔ اس نے اتر کر ٹیکسی کا دوسرا دروازہ کھولا اور مدہوش شرابی سے کہا
صاحب الفلاح بلڈنگ آگئی
پھول لڑکھڑاتے قدموں سے دوسرے دروازے سے اترا ٹیکسی ڈرائیور کی ہتھیلی پر پیسے رکھے اور کہاں
اتنی تیز نہیں چلایا کرو حادثے کا خدشہ ہوتا ہے
۔ پراپیگنڈے کے نشے میں بے حال ہم مسافروں کے ساتھ ٹیکسی ڈرائیور یہی سلوک کرتے آئے ہیں۔
کچھ اس قسم کی باتیں ابن انشاء کے کالموں کی کتابوں میں بھی پڑھیں اور حسب حال لگیی اور یہاں پر بھی پڑھ کر آج کل کے واقعات یاد آگئے۔ایک اور جگہ پے وہ یہ لطیفہ سناتے ہیں ایک اور صاحب کی آواز بھی اسی طرح بیٹھ گئی انہوں نے کسی کام کے سلسلے میں ہمسائے کے دروازے پر دستک دی دروازے کھلنے پر انہوں نے خوشی کے انداز میں خاتون سے پوچھا ملک صاحب ہیں ؟
دروازے کی اوٹ میں سے جواب موصول ہوا نہیں ،چلے آئیں
تو ہمیں گلے کی خرابی سے کوئی کشش نہیں کہ جانتے ہیں کہ اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہوتی ہے کہ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔

کچھ کالم خالص ادیبوں کے حوالے سے بھی ہیں مثلا ایک علم ہے اس میں چدائی لاہور میں اور ایک عالم دین راشد کے آخری لمحات کے نام سے ہے مگر میرے پسندیدہ کالم وہاں ہیں جہاں پے انہوں نے لفظوں کے کاریز رب سے سے معاشرتی دبائو پر چوٹ کی ہے مثال کے طور پر پہ یہاں پیشاب کرنا منع ہے کو انہوں نے کر دیا یہاں اختلاف کرنا منع ہے وہ اسی طرح
دیکھو گدھے اختلاف کر رہا ہے۔
بہرحال یہاں پے پڑھا کہ اس کو کتاب کو آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا تو میں تو آدم جی والے دینے والے ہو سے متفق ہوں کیونکہ اس کتاب سے میں ایک اچھے مزاح نگار سے روشناس ہوا۔
This entire review has been hidden because of spoilers.
Displaying 1 of 1 review

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.