SYED MUHAMMAD ASHRAF is an Urdu short story writer. He is the author of two collections of short stories and a novella. Some of his stories have been translated into English and have received various awards. One of the most prominent fiction writers, known for his stories drawing upon the cultural heritage of the past. Also the first one to make animals and non-living things the central metaphors in his stories.
ڈار سے بچھڑے نے دل کو سید محمد اشرف سے جوڑ دیا ہے۔ ۔ ۔ ان کی تعریف تو بہت سن رکھی تھی، درشن لیے تو نام اور کام واقعتاََ بڑا پایا۔ ۔ ۔ انسانی جذبات کے عکاس خوبصورت افسانے۔ حقیقت سے قریب، معنویت سے بھرپور علامات جنہیں سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ علامات کے استعمال کے باوجود سید محمد اشرف افسانے کا کہانی پن کسی موڑ پر پھیکا نہیں پڑنے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا ہر افسانہ بہت دلچسپ اور من کو خوب بھایا۔ قرۃ العین حیدر کا یہ جملہ مہرِ تصدیق ہے کہ ’’جب بھی اس نئی دنیا کی پنچ تنتر لکھی گئی تو سید محمد اشرف کی چند کہانیاں اس میں ضرور جگہ پائیں گی‘‘۔ اچھا ادب پڑھنے والوں کو یہ ضرور پڑھنی چاہیئے۔
فاقْصُصِ الْقصص لعلّھُم یتفکرّرُن کہانیاں کہتے رہو کہ لوگ کچھ تو سوچ بچار کریں"۔" (القرآن الحکیم، سورۃالاعراف) یوں اس کتاب کی ابتداء تھی۔
سید محمد اشرف سے تعارف سب رنگ ڈائجسٹ کی توسط سے ہوا تھا، جب بالی عمر میں سب رنگ میں ان کا ناولٹ "زمیندار کا نیلا" پڑھا تھا۔ اُس وقت بچپنا تھا، اس لئے مصنفین کے نام یاد ہی نہ رہتے تھے. بعد میں مجھے شک رہتا تھا کہ شاید موضوع کے اعتبار سے مذکورہ ناولٹ ابو الفضل صدیقی کا ہوگا. ان کی "آخری سواریاں" برادرم سلمان خالد نے عطا کی تو عقد کھلا. 'زمیندار کا نیلا' از سر نو پڑھنے کی خواہش ہے۔
"ڈار سے بچھڑے" سید محمد اشرف کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے. اسلوب اور انداز بہت سادہ ہے، سوائے ایک دو افسانوں کے. انداز ایسا نہیں ہے کہ کسی دوسرے لکھاری سے تقابل یا تشبیہہ ہوسکے. زیادہ تر افسانوں میں موضوع مسلمانوں کے حالات، ہندو مسلم فسادات اور تقسیم پر تجریدی نوحہ خانی ہی تھی. اس لئے کچھ افسانے ایسے تھے کہ سادہ اسلوب کے باوجود مخ تک رسائی نہ ہو پائی. اس لئے اکثریت افسانے زیادہ متاثر نہ کرپائے۔ جو افسانے عمدہ لگے، وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
١) آدمی یہ افسانہ دو دوستوں کی پندرہ سال بعد ملاقات پر شروع ہوتا ہے. ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کیسے حالات اُس باغ کے مالی کو بدل چکے ہیں کہ جو راوی کو کالج سے گھر جاتے ہوئے رستے میں ڈر سے بچانے کے لئے ڈھارس بندھایا کرتا تھا۔
٢) دوسرا کنارہ یہ افسانہ کراچی کے ساحلِ سمندر پر ایک بھارتی مسلمان کا ایک سبز آنکھوں والی معصوم بچی سے مکالمہ ہے. ہمیں دکھایا جاتا ہے کہ کیسے ایک سرحد کی لکیر نے، ثقافت ایک ہونے کے باوجود کتنی دوری پیدا کردی ہے کہ نئی نسل جانتی ہی نہیں کہ سرحد کے دونوں طرف کے مسلمان کے تیوہار ایک جیسے ہی ہیں۔
٣) ڈار سے بچھڑے شاید یہ اس کتاب کا سب سے خوبصورت افسانہ ہے. سرکنڈوں کے جھنڈ میں شکار کرتے ہوئے دو یاروں کی ملاقات جو پیدا برٹش انڈیا میں ہوئے تھے. اُن بدنصیب مرغابیوں کی طرح یہ نفوس بھی ڈار سے بچھڑے ہوئے ہیں اور اُسی مرغابی کی طرح کرلا رہے ہیں۔
(٤) ببُول کے کانٹے (قاضی عبدالستار کے لئے) کیا اداس افسانہ تھا. کہانی کا مرکزی کردار ولایت سے واپس آیا ہے اور زمینداری ختم ہوجانے کے بعد اپنے رکھ رکھاؤ والے کنبے کی ذلت کا تماشہ دیکھ رہا ہے. شاید کہ یہی کچھ قاضی صاحب کو دیکھنا پڑا کہ جو ان کی ذاتی زندگی کے بارے پہلے کبھی پڑھا۔
٥) قربانی کا جانور بہت خوبصورت افسانہ تھا. یہ دو ملازمت پیشہ میاں بیوی کی کہانی ہے جو عید الاضحٰی پر قربانی ادا کر کے خدا کی خوشنودی چاہتے ہیں. مگر پہلے زمینی خداؤں کی سیوا کرنی پڑتی ہے۔