"چھٹا دریا" ۔۔۔۔ حیوانیت کے اس زمانے کی داستان ہے جب سائنس ، فلسفہ، اور علم و ادب کی مدد سے انسانی تہزیب عروج کی طرف جا رہی تھی، جب ایٹم انرجی کی دریافت کے بعد انسان لاتعداد اور فرسودہ روایتی قدروں کو توڑ رہا تھا۔ لیکن ہندوستان میں دو متضاد مزہبی روایات ٹکرا کر لاکھوں انسانوں کا خون بہا رہی تھیں ۔ جب فرنگی سامراج نے جیتے جاگتے اور لہلاتے ہوئے پنجاب کو دو مزہب ٹکڑوں میں بانٹ دیا تھا۔ اور ایک کروڑ انسان۔ ۔۔۔ اپنے گھروں ، کھیتوں ، باغوں، ہلوں اور محبتوں اور نفرتوں کو چھوڑ کر بھٹکتے ، گھسٹتے، جلتے، لٹتے ، کٹتے اور خاک پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے تھے ۔۔۔۔۔ جب دو دو ڈھائی سال کے معصوم بچوں کو زہریلے نیزوں کی نوکوں پر اٹھا کر فضا میں محض اس لیئے اچھال دیا جاتا تھا تاکہ سانپ کا یہ بچہ بڑا ہو کر دوسرے مزہب کو ڈس نہ سکے۔ جب جوان اور معصوم کنواریوں کو مادرزاد ننگا کر کے خنجروں اور کرپانوں اور تلواروں کے سائے میں ، اس لیے جلوس کی صورت میں گھمایا جاتا تھا تاکہ وید اور قرآن اور گرنتھ کی یہ بیٹیاں اپنی مقدس کوکھ سے انسان کو جنم نہ دے سکیں۔ "
"موت کتنے اوٹ پٹانگ طریقے اختیار کر رہی تھی۔ مرنے کے لیے کسی معیار، کسی کسوٹی کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ ٹرک پر کھڑے کھڑے اکڑ جاو اور مر جاو۔ کیمپوں کی بد بو سے مر جاو۔ پانی نہ ملنے سے مر جاو۔ سیلاب سے مر جاو۔ اپنی جوان بیٹی کو غنڈوں کے بازوں میں جاتا ہوا دیکھ کر مر جاو! بچے کو سنگین پر لٹکا ہوا دیکھ کر مر جاو! اور پھر نعرے لگاو۔
ہندوستان زندہ باد! پاکستان زندہ باد!! جواہر لال نہرو زندہ باد! قائد اعظم زندہ باد!! "
برصغیر کی "آزادی" کا نوحہ رپورتاژ کی صورت میں۔ عارف، ساحر، ممتاز مفتی ، چوہدری ، راہی ۔۔۔۔ کے ساتھ گزرےمختلف نوعیت کے لمحات، 11 اگست سے شروع ہوکر فکر صاحب کا نومبر میں لاہور چھوڑ کر خونی دریا عبور کر کے امرتسر پہنچنے تک کی روداد "چھٹا دریا" کی صورت میں فکر صاحب کے قلم سے۔
ساحر اپنی بانہیں پھیلائے کہہ رہا تھا " کامریڈ فکر ! میں تمام دنیائے اسلام کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔ کہ تم یہاں نہ رہ سکے۔ "