ندا فاضلی کو کئی عرصہ تک میں خاتون سمجھتا رہا. ان کا ذکر جب فلم مسان میں ہوا تو تب کھوج سے انکی شخصیت کے بارے میں مزید معلوم ہوا۔
جیسے ممبئی کے ہجوم میں ایک "انڈر ورلڈ" ہے. ویسے ہی بالی وڈ کی چکا چوند روشنیوں کے نیچے بھی کچھ فلمسازوں کی انڈر ورلڈ ہے. یہ وہ لوگ ہیں جن کی فلموں میں سبزی مائل آنکھوں اور آریائی نقوش والے ہیروز اور ہیروئینز کی جگہ میرے اور آپ جیسے عام لوگوں کی کہانیاں ہوتی ہیں. مسان فلم بھی ایسی ہی تھی۔ اس فلم میں مونث مرکزی کردار، ندا فاضلی، بشیر بدر، جاں نثار اختر اور غالب کی شائق ہے. میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اس فلم کے اسکرین پلے کے تخلیق کار ان شعرا کے مداح اور قاری رہے ہیں. اسکرپٹ میں گرلز کالج کی بس سے ایک بالغانہ مذاق کا اثر، یقیناً جاں نثار اختر کی ایک شائستہ نظم "گرلز کالج کی لاری" سے لیا گیا ہے۔
ندا فاضلی داستانِ حیات کا یہ حصہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ایک معصوم اور مغموم روح اپنی یادوں کو زبان کی شیرینی اور ایک بے ضرر طنز کے سہارے بیان کررہی ہے. واقعات قاری کے سامنے ایسے بکھیرے جارہے ہیں جیسے یادداشت کے صفحات آہستہ آہستہ سرک رہے ہوں۔
جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یادیں، زندگی کی زمیں سے کھودی جارہی ہیں. جیسے کسی بوڑھے کو اس کے بچپن کی زندگانی یاد کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ آنکھیں بند کر کے کہے کہ "میں ایک بچے کو کھلونوں کی دوکان پر روتا ہوا دیکھ رہا ہوں. ایک ہاتھ آتا ہے اور مجھے کھینچ کر لے جاتا ہے. میری گردن مڑ رہی ہے. مگر میرا سفر جاری ہے.......". یہی انداز ہے ان کا۔
ندا فاضلی ایک شیریں تلخی کا نام ہے. ایک ان رُک، خود سوزی ہے جس کی سلگ کبھی مے فراہم کرتی ہے یا کبھی تقسیم کی کاٹ چھانٹ. حالات ہیں کہ سنورتے ہی نہیں ہیں. کبھی گوالیار سے دلی اور کبھی دلی سے ممبئی ہجرت کرنی پڑتی ہے. گھر والے اور خصوصاً گھر کے سربراہ بھی اپنی سیکولر سوچ کے باوجود کئی سال بعد بھی پاکستان جا کر بس گئے ہیں مگر ندا کی ندائے غم ابھی بھی بڑے شہروں کی تنگ کھولیوں میں گونج رہی ہے. شہروں کا مزاج ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا. ممبئی آسانی سے مانوس نہیں ہوتا۔
ملنے ملانے والوں میں بڑے چھوٹے سب نام ہیں. مگر دل کی تختی پر خوشیوں کی عبارت ہم جیسے چھوٹے چھوٹے لوگ تحریر کرتے ہیں. اس کتاب میں یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی آپ کو یادوں میں مدغم ملیں گی. عام انسان، پیڑ، بلیاں، درگاہیں، مندر اور ان کے نگہبان، جن کی چشمِ کہن سال کبھی ہندو مسلم میں فرق نہ دیکھ سکتی تھی۔
ندا فاضلی بھی گلزار کی طرح، روایتی اردو شاعری کے اسلوب اور روایات کے باغی ہیں. ان کی اشعار لوک گیت جیسے ہیں. جن میں بھاری اصطلاحات اور پرمعنی الفاظ نہیں ملتے. ان کی شاعری بھی ہم جیسے لوگوں کے لیے ہے. عام زندگیوں میں پلنے والے حادثات و سانحات ہی یہاں ملیں گے۔
This is a really unique biographical monograph that reads like an existentialist narrative. Written in the second person, Nida Fazli ostensibly wants to distance himself from the protagonist, Nida himself in his various characters, i.e a son, a lover, a poet, and a struggling soul torn between trials of partition and forced choices. I really liked knowing Fazli though I would have loved to know him more. But Nida the writer, after all, had limited access to Nida in the narrative. I guess that's the best he could achieve by telling it as plainly as he can. I'm straight away jumping into the second part which takes him outside the walls.
کبھی کبھار "انے وا" کتابیں اٹھا لینا بھی کافی منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔ نئے نئے لکھاریوں سے شناسائی ہوتی ہے تو کبھی جانے پہچانے لکھاریوں کے نئے روپ رنگ سامنے آتے ہیں۔ اس کتاب سے پہلے ندا صاحب میرے لئے فقط ایک بہترین شاعر تھے، پر کتاب کے پہلے چند صفحات نے ہی اس چیز کا یقین دلا دیا کہ وہ ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین نثر نگار بھی تھے۔ یہ ایک سوانحی یاداشتوں پر مشتمل کتاب ہے جو کہ ان کی نجی زندگی کی عکاس ہے (ایک اور کتاب، دیواروں کے باہر، ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور ارد گرد کے کرداروں کی یادداشتوں پر مشتمل ہے)۔ ہلکے پھلکے مزاح اور بہترین اشعار کے انتخاب سے مزین یہ کتاب پہلے صفحے سے قاری کو اپنے حصار میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور آخری دن تک کسی موقع پر بھی اس کی جان نہیں چھوڑتی۔ ندا فاضلی کے قلم میں بلا کی کاٹ ہے، وہ سادگی سے کئی پیچیدہ معاشرتی پہلوؤں کو بیان کر جاتے ہیں اور قاری کو احساس بھی نہیں ہونے دیتے، بالکل ویسے ہی جیسے کہ ایک جاپانی سمورائے اپنی تیز دھار تلوار سے دوسرے کو کاٹ دیتا ہے پر اسے احساس تک نہیں ہونے دیتا۔ کتاب کا ایک اور بے حد منفرد پہلو اس میں استعمال ہوئے اشعار کا انتخاب ہے۔ اشعار کا استعمال ایسا برموقع ہے کہ کم از کم میں تو عش عش کر اٹھا۔ بیشتر لکھاری تو بس خانہ پری کے لئے جابجا گھسے پٹے اشعار تھوپ دیتے ہیں جن کا متن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، پر ندا صاحب کے یہاں ایسا ہرگز نہیں ہے۔
THIS BOOK FROM Padma AWARD WINNER IS A BIOGRAPHICAL ACCOUNT OF HIS LIFE WHICH IS NOSTALGIC AND EXPLAINS LOTS AND LOTS OF THINGS ABOUT WHY HIS FAMILY MIGRATED TO Pakistan AFTER PARTITION. A must read.