This is an attempt to portray the life of Indian Muslims in all its aspects, beginning with the advent of the Muslim and ending with the present day. In it Indian Muslim history has been divided into three phases - early, middle and modern - and the various aspects of life and activity have been discussed under orthodoxy, statesmanship and administration, religious thought, Sufism, poets and writers, architecture and art, and social life. As the purpose of the book is to help in understanding rather than to provide all the information available, only typical and significant ideas and personalities are discussed. Many questions are asked and discussed in the book which have so far been avoided or ignored. Is it possible to define the Indian Muslim? Are the Indian Muslims now, and have they ever been a homogenous community? Have the Indian Muslim, individually or collectively, possessed any recognized rights to judge and oppose the ruler on moral or religious grounds? If they have not, could the ruler claim to represent the Muslims as a religious community? What was, in fact, the status and the power of the official representatives of institutional religion? Were there any tensions within the Indian Muslim community, and if there were, what was their effect on the patterns of thought and behavior? What was the nature and influence of the Sufis, and what were the transformations which occurred within Sufism in course of time? What was the character and the range of the relationships between Indian Muslims and the Hindus, and the forms in which they influenced each other? What was the Indian Muslim contribution to the development of literature, architecture and the minor arts, to the refinement of taste, to creation of a common culture, and from where did they derive the stimulus to make this contribution? This is the first comprehensive and objective sociological study of the Indian Muslim, and is written by one who has lived through the political and social conflicts of twentieth century India and is taking an active part in the emotional integration of the Indian people.
Prominent historian, scholar, and educationist; formerly Vice-Chancellor of Jamia Millia Islamia, New Delhi.
پروفیسر محمد مجیب (1902 سے 1985 )ایک نامور مورخ، معلم، دانشور اورانگریزی اور اردو کے مصنف ہیں۔ وہ 1948 سے 1972 تک جامعہ کے ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر رہے۔ شروع میں زیادہ تر انگریزی میں لکھتے تھے۔ ان کی انگریزی مطبوعات اردو سے کہیں زیادہ ہیں۔ لیکن جامعہ سے وابستہ ہونے کےبعدانھوں اردو میں بھی لکھنا شروع کیا اور جلد ہی اپنے اسلوب میں ایک انفرادیت پیدا کرلی۔ مجیب صاحب کے یہاں انگیزی نثر کی کئی اہم خصوصیات بڑی خوبی سے اردو نثر میں برتی گئی ہیں۔ انھیں ایک بڑےاور پھیلےہوئےعلم کے دریا کو چند الفاظ اور جملوں کے کوزے میں سمیٹنے کا فن آتا تھا۔ انھوں نے افسانہ، مضمون، ڈرامہ، تراجم غرض کہ نثر کی تمام اصناف کو اپنے خیالات کی ترسیل اور مقاصد کے تکمیل کا ذریعہ بنایا۔ تاریخ، تہذیب، فلسفۂ سیاسیات اور ادب سے متعلق ان کی متعدد کتابیں اور مضامین ہیں۔ لکھنوکے ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے سن 1965 میں انھیں پدم وبھوشن کا اعزاز ملا تھا۔
لکھنؤ کے ایک متمول خاندان میں پیدا ہوئے ان کےوالد محمد نسیم ایک مالدار بیرسٹر تھے۔ بارہ برس کی عمر تک انھوں نے لکھںو کے لوریٹو کانونٹ اسکول میں پڑھا، ایک سال ایک اسلامی اسکول میں پڑھے پھر دہرہ دون کے ایک پرائیوٹ اسکول میں بھیج دئیے گئے۔ اس اسکول کے انگریز پرنسپل مسٓٹر ڈالبی سے بہت متاثر تھے جو تھیوسوفسٹ تھے۔ 1918 میں سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔ 1922 میں آکسفورڈ سے تاریخ میں آنرس کی ڈگری لی، ،جرمنی میں پریس کا کام سیکھا ،جرمن اور روسی زبان پڑھی۔ جرمنی کے قیام کےدوارن ان کی دوستی ڈاکٹر ذاکر حیسن اور ڈاکٹر عابد حسین سے ہوئی جس نے ان کی زندگی کو ایک نیا رخ دے دیا۔ حکیم اجمل خاں اور ڈٓاکٹر انصاری کی درخواست پر ان تنیوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں، بہت کم تنخواہوں پر ملک و قوم کی خدمت کے پیش نظر کام کرنے کا تہیہ کرلیا اور 1926 میں ہندوستان واپس آکر دہلی میں جامعہ کی مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ یہ تینوں جامعہ کے ارکان ثلاثہ کہلاتے ہیں۔ مجیب صاحب تاریخ کے استاد تھے اور چند سال خازن کی ذمہ داری بھی سبنھالی۔ 1945 میں ان کی شادی لکھنؤ کے ایک معززخاندان کی بیٹی آصفہ خاتون سے ہوئی۔ ان کے ایک بیٹے کا جوانی میں انتقال ہوگیا تھا۔ دوسرے بیٹے محمد امین جواہرلال یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ ان کے بڑے بھائ پروفیسر محمد حبیب بھی مورخ تھے جن کے بیٹے پروفیسر عرفان حبیب ہیں۔ 1975 میں مجیب صاحب بیمار ہوئے، دماغ کا آپریشن ہوا لیکن اس کے بعد وہ سب کچھ بھول گئے۔ روسی جرمن، فرنچ، انگریزی اور اردوسبھی زبانوں کے حروف تہجی تک یاد نہ رہے۔ انھوں نے از سر نو انگریزی سیکھنی شروع کی،تین چار برس کی کی محنت کے بعد انگریزی میں اپنی بائیو گرافی لکھی ،اردو دوبارہ سیکھنے میں مشکل ہوئی لیکن ہمت نہ ہاری اور اس میں بھی کامیاب ہوئے۔ بیماری کے بعد اردو میں ان کا پہلا مضمون ’میری دنیا میرا دین‘ تھا۔
پروفیسر مجیب کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے جس سے ان کے متنوع ذوق اور بالیدہ ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے تاریخی اور سماجی موضوعات پر ڈرامے بھی لکھے جس میں ’’خانہ جنگی‘‘ بہت اہم اور مشہور ہے جس کا پس منظر اورنگ زیب اور دارا شکوہ کی سیاسی جنگ ہےلیکن اصل میں یہ 1946 کے ہندوستان میں برپا خانہ جنگی، نفرت اور فساد پر ایک بصیرت آموز تبصرہ ہے۔ ’حبہ خاتون‘ ، ’ہیروئین کی تلاش‘، ’دوسری شام‘، ’آزمائش‘، ’کھیتی‘، اور ’انجام‘ ان کے دیگر ڈرامے ہیں جو جامعہ میں اسٹیج بھی کئے گئے۔ دو جلدوں پر مشتمل روسی ادب کی تاریخ پر ان کی کتاب ’’روسی ادب‘‘ ایک اہم تصنیف ہے۔ افسانوی مجموعہ ’’کیمیا گر‘‘ہے جس کی دو کہانیاں انھوں نےجرمنی میں انگیریزی میں لکھی تھیں،اس میں شامل دیگر کہانیاں جامعہ کے قیام کے دوران اردو میں لکھیں۔ ’’نگارشات‘‘ منتخب مضامین کا انتخاب ہے جو انھوں نے 1927 سے لے کر 1945 تک رسالہ ’’جامعہ‘‘ میں لکھے تھے۔ ’’ہندوستانی سماج پر اسلامی اثر اور دوسرے مضامین‘‘ کے نام سے محمد ذاکر سابق پروفیسر جامعہ ملیہ نے مجیب صاحب کے منتخب انگریزی مضامین کا ترجمہ شائع کیا ہے۔ ’’دنیاکی کہانی‘‘ ان کی ریڈیو کےلئے لکھی گئی تقریروں کا مجموعہ ہے۔ ’’ہماری آزادی‘‘ مولانا آزاد پر ان کی انگریزی کتاب اور اس کا اردو ترجمہ بھی ایک کتاب ہے۔ ان کی دیگر اردو تصانیف اوران کی انگریزی کتابوں کے اردو تراجم کی ایک طویل فہرست ہے: ’تاریخ تمدنِ ہند‘، ’تاریخ فلسفہ سیاسیات‘، ’تعلیم اور روایتی قدریں‘ ، ’غالب۔ منتخب کلام‘، ’سیاسی فلسفہ‘، ’’غالب ۔اردو کلام کا انتخاب‘‘ وغیرہ۔