Jump to ratings and reviews
Rate this book

Meri Nakam Zindagi / میری ناکام زندگی

Rate this book
اختر حامد خان نے کئی کتابیں لکھی شخصیتوں سے متعلق۔ ایسی شخصیات جن سے اُن کا براہ راست تعلق رہا ہے۔ یہ کتاب بھی شخصیت سے متعلق ہے۔ مگر خود ان کی اپنی شخصیت سے متعلق۔

126 pages, Paperback

First published January 1, 2000

5 people want to read

About the author

Akhtar Hamid Khan

6 books1 follower

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
0 (0%)
4 stars
2 (66%)
3 stars
0 (0%)
2 stars
1 (33%)
1 star
0 (0%)
Displaying 1 of 1 review
Profile Image for Salman Khalid.
106 reviews86 followers
November 10, 2018
جن آپ بیتیوں میں جگ بیتی کا عنصر زیادہ ہو وہ ذاتی یاداشت سے بڑھ کے تاریخ کا ریکارڈ بن جاتی ہیں۔ اختر حامد خان کی آپ بیتی بھی ایسی ہی کتاب ہے۔

حامد صاحب پاکستان کے مشہور سوشل سائنٹسٹ اختر حمید خان کے چھوٹے بھائی تھے؛ پوری زندگی اپنے بڑے بھائی کی عقیدت و محبت میں ڈوبے رہے اور ہر معاملے میں ان کی تقلید کی۔ بھائی صاحب کی دیکھا دیکھی بڑی شد و مد سے پہلے خاکسار بنے۔ پھر علامہ مشرقی کی مطلق العنانی سے دلبرداشتہ ہو کر گاندھی بھگت بن گئے۔ مسلم لیگ کو سمجھ سے بالاتر قرار دیا اور کتاب میں لیگی سیاست پر دبا دبا اعتراض بھی جڑتے گئے۔ علامہ مشرقی پر البتہ جی بھر کے بھڑاس نکالی ہے۔
علامہ صاحب کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان چلے گئے جہاں بڑے بھائی کے دیہات سدھار مشن میں شانہ بشانہ ساتھ رہے۔ وہاں سے دیس نکالا ملا تو آخیر عمر کراچی کے مشہور ’’کورنگی پائلٹ پروجیکٹ‘‘ میں کام کیا۔ جب یہ پروجیکٹ سیاست کا شکار ہوا تو مایوس ہوکر گھر بیٹھ رہے۔ زیر نظر کتاب تصنیف کی اور اپنی پوری زندگی کی ناکامی کا ملبہ بڑے بھائی صاحب پر پھینک دیا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ نکامی کی دیگر وجوہات میں دین و صوفیاء سے محبت اور ایماندارانہ چلن بھی شامل ہیں۔ یعنی پڑھنے والے کی رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔
بہرحال دلچسپ کتاب ہے اور مختلف شخصیات کے بارے میں کئی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اردو لکھنے کا انداز بھی منفرد ہے۔ نمونہ ملاحظہ ہو: ’’بوا بیچاری بہت پریشان، بی کی صحت کے لئے دست بدعا، وہ (بی) اس بات سے ناراض، ایک دن ہاتھ پکڑ لیا، ’’تم میری تکلیف سے خوش ہو‘‘ رو کر بولیں ’’خدا کے لئے دعا کرو کہ میری مشکل آسان ہوجائے‘‘، بوا دھاڑ مار کر رونے لگیں لیکن بات ٹالنا ناممکن، دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیے، وہ بی کی زندگی کا آخری دن، 1932ء، 36 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت، اٹاوے کی مٹی، وہیں دفن ہیں‘‘۔
اردو آپ بیتیوں میں ایک اچھی آپ بیتی۔
Displaying 1 of 1 review

Can't find what you're looking for?

Get help and learn more about the design.