Naiyer Masud (1936–2017) was an Urdu scholar and Urdu-language short story writer.
Naiyer Masud was born in 1936 in Lucknow. He did two separate PhD degrees in Urdu and Persian, and was a professor of Persian at Lucknow University. He started publishing his fictional work in the 1970s, of which four collections have appeared so far. Two collections of selected stories have appeared in English translation as Essence of Camphor and Snake Catcher, the former later also translated into Finnish, French, and Spanish. Besides fiction, he has several volumes of critical studies of classical Urdu literature to his credit and has also translated Kafka and numerous contemporary Iranian short stories. In 1977 he visited Tehran at the invitation of the Ministry of Culture, Government of Iran. He was the recipient, in 2008, of India’s highest literary award, the 17th Saraswati Samman.
نیر مسعود صاحب کی کئی کہانیاں میں نے پڑھی ہیں جو بالکل میری سمجھ سے بالا تر تھیں بلکہ کئی تو ایسی بھی ہیں کہ جنکو یاد کرنے کی کوشش کروں تو کچھ یاد نہ آئے کہ ان میں کیا تھا۔ اور کیوں تھا۔ طاؤس چمن کی مینا غالباً واحد ایسی کہانی ہے جو انہوں نے بہت سیدھے طریقے سے لکھی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جودوسری کہانیاں ہیں انہوں نے مجھ پر کوئی اثر چھوڑا ہی نہیں۔ بلکہ کئی ایسی کہانیاں ہیں جو میرے ذہن پر بہت عجیب و غریب نقوش چھوڑ گئی ہیں اور جو بار بار ان کہانیوں کو دوبارہ سہ بارہ پڑھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جیسے "پرانا کوڑا گھر"، "عطرِ کافور"، "کتاب دار" وغیرہ۔
دھول بن کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ رہا۔ "بگولا" میں بگولے کے پیچھے غائب ہوجانا، "صبور قبیلہ" میں صبور قبیلہ، نسخہٴ کیمیا میں وہ صاحب جو کیمیا کا نسخہ تلاش کرتے رہتے ہیں اور ہر بار ایک آنچ کی کثر رہ جاتی ہے۔ میں ان کو کبھی بھول نہیں سکونگا۔ خود کہانی دھول بن بھی بہت عجیب تھی۔
لیکن میں نے دیکھا ہے کہ کچھ کہانیاں اور اشعار ایسے ہوتے ہیں کہ بھلے پوری طرح سمجھ میں نہ بھی آئیں مگر ان سے میں لطف اندوز ضرور ہوسکتا ہوں۔ کئی اشعار ہیں جن کا مطلب سالوں بعد سمجھ میں آیا۔ پھر کچھ مزید سال بعد معلوم ہو کہ اس شعر میں تو ایک اور معنی موجود ہیں جن پر میر نظر ہی نہیں گئی تھی۔ یہی معاملہ کئی کہانیوں کا بھی رہا ہے۔ یہ کتاب بھی نیر مسعود کی دوسری کتابوں کی طرح ایسی ہے کہ سمجھ میں بے شک پوری طرح نہ آئے لیکن ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے۔
Another splendid volume of Kafkaeskue short stories by Nayyar Masud . Amazing I am just sorry that I have devoured of his slim volumes of short stories and he has passed away. I started with taus I chaman ki maina on Rekhta ( I have a tight book budget) . This one I bought from aaj publications bookstore in Saddar Karachi . Ajmal Kamal has done a nice job in publishing it with good cover and binding.
نئیر مسعود کی اس مختصر افسانوی مجموعے میں صرف آٹھ افسانے شامل ہیں۔ نئیر مسعود کی نثر پڑھ کر بیک وقت بیدی، غلام عباس، اور انتظار حسین یاد آتے ہیں۔ بشیر بدر نے کہا تھا "وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو" لیکن یہاں معاملہ یہ ہے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ ویسے بھی ایک قرات میں سمجھ میں بھی نہیں آتے۔ (میرے جیسے قاری جسے افسانوی ادب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی)۔ بہرحال افسانوں کی فضا مانوس ہونے کے باوجود اجنبی اور پراسرار ہے۔ کہانی میں تجسس کا عنصر ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ مکالمے مختصر لیکن انتہائی پراثر ہیں۔ انسان کو انتہائی جذباتی مخلوق سمجھتے ہیں۔ جذباتی وابستگی کے سہارے انسان زندہ ہے۔ یہ سہارا چھن جائے تو انسان مر جاتا ہے۔ مشرقیت آخر دم تک انکے افسانوں میں برقرار رہی ہے۔ اساطیر سے یکسر انکار نہیں کرتے بلکہ اس کو نئے زاویئے عطاء کرتے ہیں۔ جہاں تک علامت کی بات کی جائے تو علامت گہری ہے جس کو سوچنا قاری کی ذمہ داری ہے۔ پڑھیں اور خود تفہیم کی ذمہ داری اٹھائیں۔ آج پبلشرز نے شائع کی ہے۔ سوا سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت دو سو روپے ہے۔