میں نے ایسے افسانے کبھی نہیں پڑھے کہ جن میں انسان کے ایسے جزبات کو زبان/الفاظ دیئے گئے ہوں کہ جو خود انسان اکثر اوقات سوچ کے زاویے سے بھی نہیں سمجھ پاتا۔ آپا نے ساعتوں کو ایسا قفل لگایا ہے کہ طوفان تھم سا جاتا ہے، تغیر موجود رہتا ہے تو ایک شبیہ بن کے۔ ایک ایسی سپیس کے وجود کا ظہور ہوتا ہے جو خامی نہیں بلکہ خوبی ہے کہ پڑھنے والا خود کردار کا روپ ڈھال لیتا ہے۔
افسانوں میں ایک بغاوت ہے۔۔ سوندھی سوندھی سی، جو نہ تو تخریب کاری کا رجحان رکھتی ہے اور نہ ہی کسی انقلابی سرگرمی کا، بلکہ وہ انفرادی نوعیت کی ہے۔ ہر کردار یگانگت سے عاری، مستقل جستجو کا رجحان رکھتا ہے ، اور اختتام؟ آپا کی فلاسفی میں اختتام نہیں ہو سکتا میرے خیال سے۔
مجھے نہیں معلوم کہ ایسے اندازِ بیاں کو کیا کہا جائے گا؛ خاص بھی نہیں اور عام بھی نہیں۔ مفاہیم سے لبریز۔ سادہ اور چست۔
ایک بوند لہو کی، شہر پناہ، ہزار پایہ، کمرہ ، چینی کا پیالہ، پرندہ اور بایاں ہاتھ مجھے بہت بھائی ہیں ۔