Jump to ratings and reviews
Rate this book

Jagy Hain Khawab Main / جاگے ہیں خواب میں

Rate this book

300 pages, Hardcover

Loading...
Loading...

About the author

Akhtar Raza Saleemi

8 books6 followers

Ratings & Reviews

What do you think?
Rate this book

Friends & Following

Create a free account to discover what your friends think of this book!

Community Reviews

5 stars
12 (46%)
4 stars
8 (30%)
3 stars
3 (11%)
2 stars
2 (7%)
1 star
1 (3%)
Displaying 1 - 2 of 2 reviews
Profile Image for Tariq Ahmad Khan.
118 reviews10 followers
September 14, 2024
" کیا خدا اس لیے موجود ہے کہ وہ ہے؟
یا اس لیے 'ہے' کہ مجھے اس کی موجودگی کا احساس ہے؟
اگر اس لیے موجود ہے کہ وہ 'ہے' تو پھر بعض لوگ اس کے وجود کے منکر کیوں ہیں؟
اس کا سیدھا سادا مطلب یہی ہے کہ خدا کا وجود،صرف ان لوگوں کے لیے ہے، جنھیں اس کی ذات کا عرفان ہے۔ باقیوں کے لیے کوٸ خدا نہیں۔پھر یہ خدا کے ہونے نہ ہونے کا جھگڑا کیوں؟ "
"جاگے ہیں خواب میں...اختر رضا سلیمی"
۔
۔
زمان جس کے اجداد نے ہزارہ میں نور آباد جیسی بستی بسائی جو اپنے والدین کے ساتھ دارلحکومت میں رہائش پزیر ہے جہاں اس کی تشنہ محبت ماہ نور کو دیکھے جانا ہی اس کا حاصل مقصد ٹھہرا۔پھر حالات اسے نور آباد لاتے تو کہانی ایک عجیب سے موڑ مڑتی ہے۔ چاندنی راتوں میں آبائی بستی کے پاس ایک غار کے پاس بیٹھ کے راتوں کو آسمان تاکنا اس کی بے چین روح کے کرب کا کچھ مداوا ہوتا تو وہیں ایک حادثہ ایک زلزلہ سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیتا
۔
خواب در خواب۔حادثہ جو لاشعور کے در وا کر دیتا اور پیچھے کی طرف تاریخ کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں پھر اس خواب درخواب میں کہیں نور اباد کی بنیاد ڈالی جا رہی ہوتی ہے تو کہیں ایک لڑکی کی ایک جھلک کسی کو مجذوب بنانے کو کافی ٹھہرتی کہیں سید احمد بریلوی کا جسد سکھوں کی دست بر سے بچانے کے لیے ان کا سر دھڑ سے الگ کیا جا رہا ہوتا تو کہیں ہزارہ میں شورش ختم کرنے واسطے جیمز ایبٹ در در مارا پھر رہا ہوتا۔تو وہی اشوکا جیسے عظیم بادشاہ اکیلے استی فرمانوں کا ساتواں فرمان ایک چٹان پر کندھا کرنے والے مزدوروں کی ٹھک ٹھک سنائی دیتی۔
۔
جندر اختر رضا سلیمی سے تعارف کی وجہ بنا اور اس سے زیادہ خوبصورت تعارف ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جندر کے فسوں نے سلیمی کے دوسرے ناولز کی تلاش پہ مجبور کیا تو اس ناول"جاگے ہیں خواب میں" سے تعارف ہوا۔ خوبصورت اور جھرنے کی طرح بہتی نثر اور بیانیے کے حامل اس ناول نے دل موہ لیا۔ بیان اتنا شاندار کہ مانو چاندنی رات میں برف پہ بنتے خرگوش کے پاؤں کے نشان دھیرے دھیرے مدھم ہوتے آپ کی نظروں کے سامنے سے ختم ہو گئے۔ وہیں بہت سی ایسی باتیں بھی ہیں جن کا بیان کم ازکم مجھے ایک عجیب طرح کی اداسی میں لپیٹ لے جاتا۔
۔
کتنا خوبصورت انداز بیان ہے اس ناول کا چاہے پھر خواب درخواب کا بیانیہ ہو یا پھر ماہ نور کے ساتھ زمان کی مختصر محبت عرفان کا عجیب و غریب کردار ہو یا زمان کو حاصل عرفان جو اس سے اپنے سامنے اپنے نزدیکی لوگوں کو فنا کی طرف جاتے قبل از وقت دکھا دیتا ہے (کیا یہ ایک نعمت ہے یہ آزمائش)
۔
کسی بھی ناول کو اس کے ٹریٹمنٹ پلاٹ یا کہانی کے جھول کی بنیاد پہ پرکھنا کسی سکہ بند نکات کا کام تو ہو سکتا ہے کسی ادنی کاری کا نہیں اور میں بحیثیت قاری ناول کو ہمیشہ اس پیرائے پہ دیکھتا ہوں کہ کیا یہ کہانی مجھے متاثر کر پاتی ہے یا یہ کس حد تک مجھے پڑھتے وقت اپنے بس میں کر لیتی کہ میں اسے پڑھتا ہی چلا جاتا اور اس پیمانے کی بنیاد پہ یہ ناول بہت اچھا ناول ہے
Profile Image for Sheezooo_0.
6 reviews1 follower
April 16, 2026
کیا ہم واقعی اس دنیا میں مکمل طور پر جاگے ہوئے ہیں؟

اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ جو آنکھیں بند کر کے دیکھا وہ خواب ہے اور جو آنکھیں کھول کر دیکھا وہ حقیقت۔ لیکن اختر رضا سلیمی کا ناول "جاگے ہیں خواب میں" اس فرق کو اس طرح دھندلا دیتا ہے کہ انسان خود سے یہی سوال کرنے لگتا ہے کہ وہ کون سا خواب ہے جس سے ہم ابھی تک جاگے نہیں؟ کیا ہماری یہ مادی زندگی بھی کسی بڑے خواب کا ایک حصہ ہے؟

یہ ناول میرے لیے ایک ایسا تجربہ تھا جیسے میں اپنی ہی زندگی کی تیز رفتار بھاگ دوڑ سے نکل کر کسی پرسکون مگر پراسرار دنیا میں داخل ہو گئی ہوں۔ اس کہانی کی پوری روح اس کے مرکزی کردار زمان کے گرد گھومتی ہے اور اسے اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ کہانی پڑھتے ہوئے مادی حقیقتیں کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں اور تخیل کی پرچھائیاں آپ کے سامنے جیتی جاگتی کھڑی ہو جاتی ہیں۔ زمان ایک ایسا کردار ہے جو حال سے زیادہ ماضی میں جیتا ہے اور ایسے سوالات اٹھاتا ہے جو شاید ہمارے اندر کہیں دبے ہوتے ہیں مگر ہم انہیں زبان نہیں دے پاتے۔ اس کی سوچ اور اس کا سفر آہستہ آہستہ قاری کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ صرف 240 صفحات میں مصنف نے ہزارہ کی تاریخ، نفسیات اور مابعد الطبیعات جیسے موضوعات کو اس خوبصورتی سے سمویا ہے کہ کہیں بھی بوجھ محسوس نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز ایک بہاؤ کے ساتھ کہانی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے۔

اس ناول کی اصل خوبصورتی اس کا جادوئی رنگ ہے جہاں خواب اور حقیقت ایک دوسرے میں اس طرح گھل جاتے ہیں کہ ان کے درمیان حد باقی نہیں رہتی۔ کئی مقامات پر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں خود بھی ایک خواب کے اندر ایک اور خواب دیکھ رہی ہوں جہاں ناممکن باتیں بھی بالکل سادہ اور مانوس لگنے لگتی ہیں۔ ناول کی شروعات دیکھ کر ایسا لگا جیسے یہ ایک عام سی کہانی ہے لیکن جیسے جیسے میں صفحات پلٹتی گئی ماضی کے مختلف کرداروں کے قصے کسی پہیلی کے ٹکڑوں کی طرح سامنے آنے لگے۔ شروع میں تو یہ کہانیاں الگ الگ لگیں مگر کمال تو ناول کے اختتام پر ہوا جہاں مصنف نے ان تمام بکھرے ہوئے کرداروں اور صدیوں پرانی داستانوں کو خواب کے ایک باریک دھاگے سے زمان کی ذات کے ساتھ جوڑ دیا۔ جس طرح آخر میں ان تمام پرانے قصوں اور کرداروں کو ایک خواب کی شکل میں زمان کی زندگی سے جوڑا گیا وہ واقعی کمال تھا۔ ایسا لگا جیسے زمان کے روپ میں وہ سب پرانے لوگ ایک بار پھر سے جی اٹھے ہوں۔
شاید یہی اس ناول کی سب سے بڑی بات ہے کہ یہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ماضی کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہمارے اندر، ہماری سوچ میں اور شاید ہمارے خوابوں میں بھی مسلسل زندہ رہتا ہے۔ اگر آپ مابعدالطبیعیات، انسانی نفسیات، اور ماضی کے قصوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔
Displaying 1 - 2 of 2 reviews