یہ ایک بھرپور ناول ہے۔ میں نے بہت عرصے بعد اردو میں کوئی ایسا ناول پڑھا ہے جس کا تجربہ خوشگوار اور فکری دلچسپی کا باعث ہے، اور اس دلچسپی کا تعلق صرف کہانی سے نہیں بلکہ اس حیرت سے بھی ہے کہ اس میں ازل، ابد، عدم، وجود، خلا، وقت، کائنات اور مابعد الطبیعات جیسے وسیع موضوعات کو جامع انداز میں صرف دو سو چالیس صفحات میں سمو دیا گیا ہے۔
جاگے ہیں خواب میں میں نے اپنے پاس ایک عرصہ سے ہونے کے باوجود اس لیے کبھی نہیں اٹھایا تھا کہ مجھے 'جندر' بے انتہا پسند ہے جس کی پذیرائی اردو ناول کے بیشتر قارئین کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے بظاہر یہی تاثر ملتا تھا کہ جاگے ہیں خواب میں شاید کم درجہ کا ناول ہوگا۔ لیکن اس ناول کو نصف تک پڑھ لینے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مختلف قارئین کی اس کے بارے میں آراء کا مطلب ناول میں کمی نہیں بلکہ شاید اس کی وجہ قارئین کو اس ناول کی تکنیک، خواب اور سائنس فکشن کی آمیزش، اور اس میں موجود زمان و مکان کی بے ترتیبی کو سمجھنے میں دشواری ہو۔
ابتدا میں ناول کے وہ تمام قصے جو مرکزی کردار کے خاندان کی نسل در نسل تاریخ کے حوالے سے ٹکڑوں میں بکھرے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، آہستہ آہستہ یکجا ہو کر ایک بڑے منظرنامے میں ڈھلنے لگتے ہیں۔ اور جب مرکزی کردار خواب، وقت، خلا اور وجود کے درمیان کہیں ان زندگیوں سے گزرتا محسوس ہوتا ہے، تو اس ناول میں نولن کی فلموں اور ایچ جی ویلز کے ناولوں جیسی چاشنی محسوس ہونے لگی ہے۔ خاص طور پر وہ احساس کہ وقت صرف گزرتا نہیں بلکہ تہہ در تہہ کھلتا ہے، اور انسان خواب، یادداشت اور نسلوں کے درمیان کہیں معلق ہو جاتا ہے۔
اس ناول کو کئی پہلوؤں سے تاریخی ناول بھی کہا جا سکتا ہے، اور اس حوالے سے زمان و مکان، تہذیب اور تاریخی واقعات پر کی گئی جامع تحقیق ناول میں مسلسل محسوس ہوتی ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے کئی مقامات پر فاروقی کا کئی چاند تھے سر آسماں یاد آتا ہے، خاص طور پر اس وجہ سے کہ تاریخ یہاں محض پس منظر نہیں بلکہ زندہ فضا کے طور پر موجود ہے۔
موریا سلطنت کے وہ آثار جو آج بھی ہزارہ اور ایبٹ آباد کے اطراف میں بکھرے ہوئے ملتے ہیں، انہیں نے اس خوبصورتی اور تخلیقی ربط کے ساتھ ناول میں پرویا ہے کہ تاریخ اور فنطاسیہ مسلسل ساتھ ساتھ چلتے محسوس ہوتے ہیں۔ کہیں ایسا لگتا ہے جیسے خواب تاریخ میں داخل ہو رہا ہو، اور کہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ خود کسی اجتماعی خواب یا کسی یاد کا حصہ بن گئی ہو۔ شاید یہی چیز اس ناول کو صرف سائنش فکشن یا خوابوں کی علامتی دنیا تک محدود نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے ایک تہذیبی، تاریخی اور وجودی تجربہ بنا دیتی ہے۔
اختر رضا نہ صرف ایک عمدہ کہانی گو ہیں بلکہ اس ناول کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے اس کیلئے بہت گہرا مطالعہ اور تحقیق بھی کی ہے۔ یہ ناول محض تخیل پر کھڑا محسوس نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے فلسفہ، سائنس، خواب، نفسیات اور انسانی شعور پر ایک حقیقی غور و فکر محسوس ہوتی ہے۔ بعض الفاظ اور جملے پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیا انہوں نے اس خاص موقع کیلئے یہ لفظ ڈھونڈا ہوگا، یا ان کے وسیع مطالعے اور زبان کے ساتھ مسلسل تعلق نے ان کی نثر کو ایسی روانی بخشی ہے کہ الفاظ خود اپنی جگہ پر اترتے محسوس ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اب مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اختر رضا سلیمی اردو ادب میں کہیں نہ کہیں انڈر ریٹد ہیں، یا کم از کم انہیں اس انداز میں نہیں پڑھا جا رہا جس کے وہ مستحق ہیں۔
" کیا خدا اس لیے موجود ہے کہ وہ ہے؟ یا اس لیے 'ہے' کہ مجھے اس کی موجودگی کا احساس ہے؟ اگر اس لیے موجود ہے کہ وہ 'ہے' تو پھر بعض لوگ اس کے وجود کے منکر کیوں ہیں؟ اس کا سیدھا سادا مطلب یہی ہے کہ خدا کا وجود،صرف ان لوگوں کے لیے ہے، جنھیں اس کی ذات کا عرفان ہے۔ باقیوں کے لیے کوٸ خدا نہیں۔پھر یہ خدا کے ہونے نہ ہونے کا جھگڑا کیوں؟ " "جاگے ہیں خواب میں...اختر رضا سلیمی" ۔ ۔ زمان جس کے اجداد نے ہزارہ میں نور آباد جیسی بستی بسائی جو اپنے والدین کے ساتھ دارلحکومت میں رہائش پزیر ہے جہاں اس کی تشنہ محبت ماہ نور کو دیکھے جانا ہی اس کا حاصل مقصد ٹھہرا۔پھر حالات اسے نور آباد لاتے تو کہانی ایک عجیب سے موڑ مڑتی ہے۔ چاندنی راتوں میں آبائی بستی کے پاس ایک غار کے پاس بیٹھ کے راتوں کو آسمان تاکنا اس کی بے چین روح کے کرب کا کچھ مداوا ہوتا تو وہیں ایک حادثہ ایک زلزلہ سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیتا ۔ خواب در خواب۔حادثہ جو لاشعور کے در وا کر دیتا اور پیچھے کی طرف تاریخ کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں پھر اس خواب درخواب میں کہیں نور اباد کی بنیاد ڈالی جا رہی ہوتی ہے تو کہیں ایک لڑکی کی ایک جھلک کسی کو مجذوب بنانے کو کافی ٹھہرتی کہیں سید احمد بریلوی کا جسد سکھوں کی دست بر سے بچانے کے لیے ان کا سر دھڑ سے الگ کیا جا رہا ہوتا تو کہیں ہزارہ میں شورش ختم کرنے واسطے جیمز ایبٹ در در مارا پھر رہا ہوتا۔تو وہی اشوکا جیسے عظیم بادشاہ اکیلے استی فرمانوں کا ساتواں فرمان ایک چٹان پر کندھا کرنے والے مزدوروں کی ٹھک ٹھک سنائی دیتی۔ ۔ جندر اختر رضا سلیمی سے تعارف کی وجہ بنا اور اس سے زیادہ خوبصورت تعارف ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جندر کے فسوں نے سلیمی کے دوسرے ناولز کی تلاش پہ مجبور کیا تو اس ناول"جاگے ہیں خواب میں" سے تعارف ہوا۔ خوبصورت اور جھرنے کی طرح بہتی نثر اور بیانیے کے حامل اس ناول نے دل موہ لیا۔ بیان اتنا شاندار کہ مانو چاندنی رات میں برف پہ بنتے خرگوش کے پاؤں کے نشان دھیرے دھیرے مدھم ہوتے آپ کی نظروں کے سامنے سے ختم ہو گئے۔ وہیں بہت سی ایسی باتیں بھی ہیں جن کا بیان کم ازکم مجھے ایک عجیب طرح کی اداسی میں لپیٹ لے جاتا۔ ۔ کتنا خوبصورت انداز بیان ہے اس ناول کا چاہے پھر خواب درخواب کا بیانیہ ہو یا پھر ماہ نور کے ساتھ زمان کی مختصر محبت عرفان کا عجیب و غریب کردار ہو یا زمان کو حاصل عرفان جو اس سے اپنے سامنے اپنے نزدیکی لوگوں کو فنا کی طرف جاتے قبل از وقت دکھا دیتا ہے (کیا یہ ایک نعمت ہے یہ آزمائش) ۔ کسی بھی ناول کو اس کے ٹریٹمنٹ پلاٹ یا کہانی کے جھول کی بنیاد پہ پرکھنا کسی سکہ بند نکات کا کام تو ہو سکتا ہے کسی ادنی کاری کا نہیں اور میں بحیثیت قاری ناول کو ہمیشہ اس پیرائے پہ دیکھتا ہوں کہ کیا یہ کہانی مجھے متاثر کر پاتی ہے یا یہ کس حد تک مجھے پڑھتے وقت اپنے بس میں کر لیتی کہ میں اسے پڑھتا ہی چلا جاتا اور اس پیمانے کی بنیاد پہ یہ ناول بہت اچھا ناول ہے
کیا ہم واقعی اس دنیا میں مکمل طور پر جاگے ہوئے ہیں؟
اکثر ہم سمجھتے ہیں کہ جو آنکھیں بند کر کے دیکھا وہ خواب ہے اور جو آنکھیں کھول کر دیکھا وہ حقیقت۔ لیکن اختر رضا سلیمی کا ناول "جاگے ہیں خواب میں" اس فرق کو اس طرح دھندلا دیتا ہے کہ انسان خود سے یہی سوال کرنے لگتا ہے کہ وہ کون سا خواب ہے جس سے ہم ابھی تک جاگے نہیں؟ کیا ہماری یہ مادی زندگی بھی کسی بڑے خواب کا ایک حصہ ہے؟
یہ ناول میرے لیے ایک ایسا تجربہ تھا جیسے میں اپنی ہی زندگی کی تیز رفتار بھاگ دوڑ سے نکل کر کسی پرسکون مگر پراسرار دنیا میں داخل ہو گئی ہوں۔ اس کہانی کی پوری روح اس کے مرکزی کردار زمان کے گرد گھومتی ہے اور اسے اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ کہانی پڑھتے ہوئے مادی حقیقتیں کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں اور تخیل کی پرچھائیاں آپ کے سامنے جیتی جاگتی کھڑی ہو جاتی ہیں۔ زمان ایک ایسا کردار ہے جو حال سے زیادہ ماضی میں جیتا ہے اور ایسے سوالات اٹھاتا ہے جو شاید ہمارے اندر کہیں دبے ہوتے ہیں مگر ہم انہیں زبان نہیں دے پاتے۔ اس کی سوچ اور اس کا سفر آہستہ آہستہ قاری کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ صرف 240 صفحات میں مصنف نے ہزارہ کی تاریخ، نفسیات اور مابعد الطبیعات جیسے موضوعات کو اس خوبصورتی سے سمویا ہے کہ کہیں بھی بوجھ محسوس نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز ایک بہاؤ کے ساتھ کہانی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے۔
اس ناول کی اصل خوبصورتی اس کا جادوئی رنگ ہے جہاں خواب اور حقیقت ایک دوسرے میں اس طرح گھل جاتے ہیں کہ ان کے درمیان حد باقی نہیں رہتی۔ کئی مقامات پر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں خود بھی ایک خواب کے اندر ایک اور خواب دیکھ رہی ہوں جہاں ناممکن باتیں بھی بالکل سادہ اور مانوس لگنے لگتی ہیں۔ ناول کی شروعات دیکھ کر ایسا لگا جیسے یہ ایک عام سی کہانی ہے لیکن جیسے جیسے میں صفحات پلٹتی گئی ماضی کے مختلف کرداروں کے قصے کسی پہیلی کے ٹکڑوں کی طرح سامنے آنے لگے۔ شروع میں تو یہ کہانیاں الگ الگ لگیں مگر کمال تو ناول کے اختتام پر ہوا جہاں مصنف نے ان تمام بکھرے ہوئے کرداروں اور صدیوں پرانی داستانوں کو خواب کے ایک باریک دھاگے سے زمان کی ذات کے ساتھ جوڑ دیا۔ جس طرح آخر میں ان تمام پرانے قصوں اور کرداروں کو ایک خواب کی شکل میں زمان کی زندگی سے جوڑا گیا وہ واقعی کمال تھا۔ ایسا لگا جیسے زمان کے روپ میں وہ سب پرانے لوگ ایک بار پھر سے جی اٹھے ہوں۔ شاید یہی اس ناول کی سب سے بڑی بات ہے کہ یہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ماضی کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہمارے اندر، ہماری سوچ میں اور شاید ہمارے خوابوں میں بھی مسلسل زندہ رہتا ہے۔ اگر آپ مابعدالطبیعیات، انسانی نفسیات، اور ماضی کے قصوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔