This is the Urdu translation of the personal diary kept by William Edwards during the days of the Indian rebellion of 1857. William Edwards worked in Benaras as a judge and was the Magistrate and Collector of Badaoon in Rohilkhund, India. He escaped the rebels, but during his flight, he kept a diary so that in case he met an accident his family could learn about his last days. Deputy Nazeer Ahmed translated this work into Urdu. It is one of his lesser-known translated works which has become of increased significance today.
تبصرہ نگار: محمد معین الدین شاہ یہ کتاب بنارس کے ایک جج ولیم ایڈورڈز کی ذاتی ڈائری کا اردو ترجمہ ہے، جو 1858ء میں Personal Adventures During the Indian Rebellion in Rohilcund, Futtehghur and Oude کے عنوان سے لندن سے شائع ہوئی تھی۔ یہ ڈائری انھوں نے 1857 کی جنگ آزادی کے دوران تحریر کی تھی۔ جنگ آزادی کے موقع پر وہ ہندوستانی سپاہیوں اور جنگجووں سے بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ فرار کے بعد اپنے پورے سفر کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات اس ڈائری میں مفصل انداز میں در ج کرتے رہے تاکہ اگر انھیں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو اس ڈائری کے ذریعے ان کے خاندان والوں کو معلوم ہو سکے کہ آخری دنوں میں ان کے ساتھ کیا حالات پیش آئے۔ اس ڈائری کو اردو کے معروف مصنف اور اولین ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ اردو کے قالب میں ڈھالا ہے، اس لیے اردو ادب میں اس ترجمے کی حیثیت ایک کلاسیک کی ہے۔
مصنف کے بارے میں: ولیم ایڈورڈز جنگ آزادی کے دنوں میں بنارس میں جج کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل وہ بدایوں، روہیل کھنڈ میں بحیثیت کلکٹر اور مجسٹریٹ فرائض سرانجام دے چکے تھے۔
مترجم کے بارے میں: نذیر احمد دہلوی ( 1830 - 1912) معروف اسکالر اور اردو کے اولین ناول نگار ہیں۔ انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز عربی کے استاد کی حیثیت سے کیا۔ انھیں اپنی تحریروں پر کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ توبۃ النصوح کو ان کا بہترین ناول قرار دیا جاتا ہے۔ اردو ادب میں اس ناول کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ انھوں نے قرآن مجید کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا جس پر انھیں شمس العلما کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انھیں ایڈنبرا یونی ورسٹی سے ڈاکٹر آف لا اور پنجاب یونی ورسٹی سے ڈاکٹر آف اورینٹل لینگویجز کی اعزازی اسناد بھی عطا کی گئیں۔
نوٹ مذکورہ بالا اقتباس کتاب کے بیک پیج پر شائع تحریر سے لیا گیا ہے۔